پہلے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہوئے کہ جب کوئی بڑا آدمی ان میں چوری کا مرتکب ہوتا تو اس کے بغیر سزا کے چھوڑ دیتےHadith :

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت ہے کہ مخزومی عورت جس نے چوری

کی تھی کے معاملے نے قریش کو سخت پریشانی میں مبتلا کر دیا کہنے لگے اس کی سفارش اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کون کرے؟ لوگوں نے کہا اس کی ہمت کسی میں نہیں سوائے اسامہ بن زید کے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چہیتے ہیں۔ آخر اسامہ بن زید کے آپ سے بات کی تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہے ہو پھر آپ کھڑے ہوئے اور خطبہ بیان کیا پھر فرمایا تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہوئے کہ جب کوئی بڑا آدمی ان میں چوری کا مرتکب ہوتا تو اس کے بغیر سزا کے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور ان میں چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے اللہ کی قسم اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ ضرور کاٹ دیتا۔

Enhanced by Zemanta
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s