Gazwa-e-Uhad ka aik waqia

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب غزوہ اُحد کا دن تھا تو اہل مدینہ سخت تنگی و پریشانی میں مبتلا ہوگئے (کیونکہ)، انہوں نے (غلط فہمی اور منافقین کی افواہیں سن کر) سمجھا کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (العیاذ باﷲ) شہید کر دیا گیا ہے، یہاں تک کہ مدینہ منورہ میں چیخ و پکار کرنے والی عورتوں کی کثیر تعداد (جمع) ہو گئی، یہاں تک کہ انصار کی ایک عورت پیٹی باندھے ہوئے باہر نکلی اور اپنے بیٹے، باپ، خاوند اور بھائی (کی لاشوں کے پاس) سے گذری، (راوی کہتے ہیں:) مجھے یاد نہیں کہ اس نے سب سے پہلے کس کی لاش دیکھی۔ پس جب وہ ان میں سے سب سے آخری لاش کے پاس سے گزری تو پوچھنے لگی : یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا : تمہارا باپ، بھائی، خاوند اور تمہارا بیٹا ہے۔ (جوکہ شہید ہو چکے ہیں) وہ کہنے لگی : (مجھے صرف یہ بتاؤ کہ) رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس حال میں ہیں؟ لوگ کہنے لگے:آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہارے سامنے موجودہیںیہاں تک کہ اس عورت کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچا دیا گیا تو اس عورت نے (شدتِ جذبات سے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کرتہ مبارک کا پلو پکڑ لیا اور عرض کیا : یا رسول اﷲ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، جب آپ سلامت ہیں تو مجھے اور کوئی دکھ نہیں (یعنی یا رسول اﷲ! آپ پر میرا باپ،بھائی، خاوند اوربیٹاسب کچھ قربان ہیں)۔
.
Enhanced by Zemanta
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s