Benefits of Itikaf

اعتکاف


اعتکاف عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ٹھہر جانے اور خود کو روک لینے کے ہیں۔
شریعت اسلامی کی اصطلاح میں اعتکاف رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں عبادت کی غرض سے مسجد میں ٹھہرے رہنے کو کہتے ہیں۔

پس منظر[ترمیم]

اللہ تعالٰیٰ کی قربت و رضا کے حصول کے لئے گزشتہ امتوں نے ایسی ریاضتیں لازم کر لی تھیں، جو اللہ نے ان پر فرض نہیں کی تھیں۔ قرآن حکیم نے ان عبادت گزار گروہوں کو ’’رہبان اور احبار‘‘ سے موسوم کیا ہے۔ تاجدار کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تقرب الی اللہ کے لئے رہبانیت کو ترک کر کے اپنی امت کے لئے اعلیٰ ترین اور آسان ترین طریقہ عطا فرمایا، جو ظاہری خلوت کی بجائے باطنی خلوت کے تصور پر مبنی ہے۔ یعنی اللہ کو پانے کے لئے دنیا کو چھوڑنے کی ضرورت نہیں بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے دنیا کی محبت کو دل سے نکال دینا اصل کمال ہے۔
مثال[ترمیم]
اس کی مثال ایسے ہے کہ دنیا ایک سمندر ہے اور دل اس پر تیرتی ہوئی کشتی، اگر پانی کشتی میں چلا جائے تو کشتی ڈوب جائے گی، اس کے تیرتے رہنے کے لئے ضروری ہے کہ پانی کشتی میں نہ آنے پائے۔
نتیجہ[ترمیم]
مسلمانوں کا رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اپنے گھروں کو چھوڑ کر اللہ کے حضور آنا اس بات کی علامت ہے کہ اس نے دنیا اور دنیا والوں سے تعلق توڑ لیا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری عشرہ میں باقاعدگی سے مسجد نبوی میں اعتکاف کا اہتمام فرماتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع میں عہد صحابہ سے لے کر آج تک صوفیاء و عرفاء اس سنت پر عمل پیرا ہیں۔Benefits of Itikaf

Enhanced by Zemanta
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s