ایسے اعمال جن کا ثواب حج وعمرہ کے برابرہے…..

ایسے اعمال جن کا ثواب حج وعمرہ کے برابرہے۔
اللہ کے بہت سے بندے ایسے ہیں جنہیں بیت اللہ کا سفرکرنے کی توفیق مل جاتی ہے ، تاہم بعض ایسے بھی بندے جورات ودن زیارت حرمین کی تمنا کرتے ہیں مگر غربت وافلاس یا کسی بناپر انہیں حج بیت اللہ اور زیارت مسجدنبوی نصیب نہیں ہوپاتی ۔ ایسے بندوں کوبھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونی چاہئے ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کی روشنی میں نیچے بعض ایسے اعمال ذکر کئے گئے ہیں جن کی انجام دہی سے ہی حج وعمرہ کے برابر ثواب ملتاہے ۔
 
فجرکی نمازکے بعد سے طلوع شمس تک مسجدہی میں ٹھہرنااورپھردورکعت نمازپڑھنا
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے 
” من صلى الغداة في جماعة، ثم قعد يذكر الله حتى تطلع الشمس، ثم صلى ركعتين كانت له كأجر حجة وعمرة تامة تامة تامة” 
(صحيح الترمذي: 586) (علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قراردیاہے 
ترجمہ : جس نے جماعت سے فجرکی نمازپڑھی پھراللہ کے ذکرمیں مشغول رہایہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا۔پھردورکعت نماز پڑھی ، تو اس کے لئےمکمل حج اور عمرے کے برابرثواب ہے ۔
 جماعت سے نمازپڑھنے جانااورنفل پڑھنےجانا
ابوامامہ رضی اللہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے
من مشي إلى صلاة مكتوبة في الجماعة فهى كحجة، ومن مشي إلى صـلاة تطوع
ـ في رواية أبي داود ـ أي صلاة الضحى ـ فهي كعمرة تامة” 
صحيح الجامع: 6556)اسے امام احمدنے صحیح سندکے ساتھ روایت کیاہے 
ترجمہ : جو آدمی جماعت سے فرض نمازپڑھنے نکلتاہے تو اس کاثواب حج کے برابرہے اورجو نفلی نماز کے لئے نکلتاہے ، ابوداؤد کی روایت میں ہے چاشت کی نمازکے لئے نکلتاہے تواسے مکمل عمرہ کا ثواب ملتاہے ۔
 
جماعت کے ساتھ عشاء کی اورظہرکی نمازپڑھنا 
ابوذررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام نے دریافت کیا 
“يا رسول الله ذهب أهل الدثور بالأجور، يصلون كما نصلي ويصومون كما نصوم، ويتصدقون بفضول أموالهم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم أوليس قد جعل الله لكم صلاة العشاء في جماعة تعدل حجة، وصلاة الغداة في جماعة تعدل عمرة”.(اخرجہ مسلم
ترجمہ : اے اللہ کے رسول مال ودولت والے تو سارا ثواب لے گئے ، وہ بھی ہماری طرح نمازپڑھتے ہیں، اور ہماری طرح روزہ رکھتے ہیں ۔ ساتھ ہی اپنے زائد مال سے صدقہ دیتے ہیں ۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اللہ تعالی نے تمہارے لئے بھی جماعت کے ساتھ عشاء کی نمازپڑھنے میں حج کا ثواب اورفجرکی نمازپڑھنے میں عمرے کا ثواب رکھا ہے ۔
 
مسجدوں کے علمی مجالس میں شریک ہونا
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے 
“من غدا إلى المسجد لا يريد إلا أن يتعلم خيراً أو يُعَلِّمه، كان كأجر حاج تاماً حجته”.
. ( فقد أخرج الطبراني والحاكم عن أبي أمامة رضي الله عنه
ترجمہ : جو مسجدکی طرف علم حاصل کرنے یاعلم سکھلانےکے لئے نکلتاہےتواسے مکمل حج کے برابرثواب ملتاہے ۔
 نمازکے بعد ذکرواذکار کرنا
أخرج البخاري عن أبي هريرة رضي الله عنه قال
جاء الفقراء إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا: ذهب أهل الدثور بالدرجات العُلى والنعيم المقيم، يصلون كما نصلي ويصومون كما نصوم، ولهم فَضْلٌ من أموال يحجون بها ويعتمرون ويجاهدون ويتصدقون، قال: ألا أحدثكم بأمر إن أخذتم به أدركتم من سبقكم ولم يدرككم أحد بعدكم، وكنتم خير من أنتم بين ظهرانيه إلا من عمل مثله: تسبحون وتحمدون وتكبرون خلف كل صلاة ثلاثاً وثلاثين”
ترجمہ : کچھ مسکین لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اوربولے کہ مال والے تو بلند مقام اورجنت لے گئے ۔ وہ ہماری ہی طرح نمازپڑھتے ہیں اور روزہ رکھتے ہیں ۔ اوران کے لئے مال کی وجہ سے فضیلت ہے ، مال سے حج کرتے ہیں، اورعمرہ کرتے ہیں، اورجہاد کرتے ہیں، اورصدقہ دیتے ہیں ۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں جس کی وجہ سے تم پہلے والوں کے درجہ پاسکو اورکوئی تمہیں تمہارے بعد نہ پاسکے اورتم اپنے بیچ سب سے اچھے بن جاؤ سوائے ان کے جو ایسا عمل کرے ۔ وہ یہ ہے کہ ہرنمازکے بعد تم تینتیس بار(33) سبحان اللہ تینتیس بار(33) الحمدللہ اورتینتیس بار(33) اللہ اکبرکہو۔
 
رمضان میں عمرہ کرنا 
عمرة في رمضان تعدل حجة _ وفي رواية أخرى _ تعدل حجة معي .
الراوي: – المحدث: ابن باز
المصدر: فتاوى نور على الدرب لابن بازالصفحة أو الرقم: 17/173
خلاصة حكم المحدث : صحيح
(( من تطهر في بيته ثم أتى مسجد قباء فصلى فيه صلاة كان له كأجرعمرة(( أخرج ابن ماجهْ (1412) ))وصححه الباني)
ترجمہ : رمضان میں عمرہ حج کے برابرہے ، ایک دوسری روایت میں ہے : میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے ۔
 
والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا 
أخرج أبو يعلي بسند جيد
أن رجلاً جاء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: إني أشتهي الجهاد ولا أقدر عليه، قال: هل بقي من والديك أحد؟ قال: أمي، قال: قابل الله في برها، فإن فعلت فأنت حاج ومعتمر ومجاهد” 
ترجمہ : ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیااورکہامیں جہاد کی خواہش رکھتاہوں مگراس کی طاقت نہیں ۔ تو آپ نے پوچھاکہ تمہارے والدین میں سے کوئی باحیات ہیں ؟ تو اس نے کہا کہ ہاں میری ماں تو آپ نے بتایاکہ کاؤ ان کی خدمت کرو،تم حاجی ، معتمراورمجاہد کہلاؤگے ۔
 
مسجد قبا میں نمازپڑھنا 
جوشخص مسجد نبوی ﷺکی زیارت کرے،اس کے لئے مسنون ہے کہ وہ مسجد قبا کی بھی زیارت کرے اوراس میں بھی دورکعت نماز پڑھے کیونکہ نبی کریمﷺہر ہفتے قباکی زیارت کیا کرتے اوراس میں دورکعت نماز ادافرمایاکرتےتھے اورآپؐ نے ارشادفرمایاہے کہ‘‘جو شخص اپنے گھر وضو کرے اورخوب اچھے طریقے سےوضو کرے اورپھر مسجد قبامیں آکر نماز پڑھے تواسے عمرہ کے برابر ثواب ملتا ہے ۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں 
(( من تطهر في بيته ثم أتى مسجد قباء فصلى فيه صلاة كان له كأجرعمرة(( أخرج ابن ماجهْ (1412) ))وصححه الباني)
اللہ تعالی ہم سب کوحج وعمرہ کرنے کی توفیق بخشے یا کم ازکم ان کے برابرثواب پانے سے محروم نہ کرے ۔ 
آمین

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s