ابن رشد

Abne Rushdیورپ پر جب جہالت کی تاریکی چھائی ہوئی تھی اُس وقت مسلم اسپین میں علوم و فنون کی شمعیں فروزاں تھیں جن کی ضوفشانیوں نے رفتہ رفتہ یورپ کی تاریکی بھی دور کردی۔ علم کی ان روشن شمعوں میں سب سے تابناک اور درخشندہ شمع کا نام قاضی ابن رشد تھا جن کا شمار دنیا کے عظیم ترین مفکروں میں ہوتا ہے۔

ابن رشد ایک ہمہ دان عالم تھے جنہوں نے مشرق و مغرب کے مختلف علوم و فنون میں اپنے لافانی نقوش چھوڑے ہیں اور متعدد علوم میں فکری رجحان کو متاثر کیا ہے۔ مشہور مستشرق جارج سارٹن کے قول کے مطابق ’’وہ ایک عظیم مفکر تھے جنہوں نے صدیوں تک انسانی ذہن میں تموج پیدا کیا اور ان کی فکر کو متاثر کیا۔

عبدالولید محمد ابن احمد محمد ابن رشد1128ء میں مسلم اسپین کے دارالخلافہ قرطبہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے باپ دادا دو پشتوں سے قضاء کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز تھے۔ ابن رشد بھی بڑے ہوکر اپنے آبائی پیشے قضاء کے عہدے پر فائز ہوئے۔ ان کے دادا عبدالولید محمد بھی فقہ کے ایک جید عالم تھے اور قرطبہ کی جامع مسجد کے امام بھی تھے۔ ان کے والد بھی قضاء کے عہدے پر فائز ہوئے۔ کمسن ابن رشد نے اپنی تعلیم قرطبہ میں مکمل کی جو مغربی ممالک میں اُس وقت علوم و فنون کا سب سے بڑا مرکز تھا۔

ابن رشد ابتدائی زندگی میں عجزو انکسار اور مہمان نوازی کے لیے مشہور تھے۔ وہ طبعاً خاموش طبع انسان تھے، جو اپنے خیالات میں غرق رہتے تھے اور جاہ و منزلت، نیز دولت سے دور بھاگتے تھے۔ بحیثیت قاضی وہ بہت نرم دل واقع ہوئے تھے اور انہوں نے کبھی کسی شخص کو سخت سزا نہیں دی۔ وہ اپنا زیادہ تر وقت علمی مطالعے میں گزارتے تھے اور ابن الابار کے قول کے مطابق ان کی طولانی زندگی میں صرف دو راتیں ایسی گزری ہیں جن میں وہ علمی مطالعہ نہیں کرسکے۔ ایک شادی کی رات اور دوسری وہ جس رات کو ان کا انتقال ہوا۔

ابن رشد نے فلسفہ، ریاضی، طب، علم ہیئت، منطق اور فقہ میں تصنیف و تالیف پر اپنی توجہ مرکوز کی۔ رنیان نے ان کی تصانیف سے مغرب کو روشناس کرایا۔ منگ کے قول کے مطابق ابن رشد ارسطو کی تصانیف کے ممتاز ترین مبصر ہیں۔ ابن الابار کا کہنا ہے کہ ابن رشد کی تصانیف بیس ہزار صفحات میں پھیلی ہوئی ہیں، ان میں سب سے مشہور تصانیف فلسفہ، طب اور فقہ سے متعلق ہیں۔ وہ بہت عرصہ تک قضاء کے عہدے پر فائز رہے اور اپنے زمانے کے مشہور فقیہ تسلیم کیے جاتے تھے۔ ابوجعفر ذہبی کے قول کے مطابق ان کی تصنیف ’’ہدایت المجتہد و نہایت المقتصد‘‘ مالکی فقہ کے متعلق دنیائے اسلام میں بہترین کتاب تسلیم کی جاتی ہے۔

 ابن رشد کی فلسفیانہ تصانیف نے یورپ کو بہت متاثر کیا۔ اور اب بھی وہ مغرب میں سب سے مقبول اسلامی مفکر تسلیم کیے جاتے ہیں۔ الفریڈ گیلامے ’’لیگیسی آف اسلام‘‘ (وراثت اسلام) میں لکھتے ہیں: ’’ابن رشد یورپ اور یورپین فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ جدید تجرباتی سائنس کی ابتدا تک ابن رشد کا اثر یورپین فکر پر بہت گہرا تھا۔ ابن رشد کی متعدد تصانیف لاطینی زبان میں موجود ہیں جو عربی زبان میں مفقود ہیں۔ ان کی ’’تہافتہ التہافتہ‘‘ عقلی فلسفہ پر امام غزالی کی تنقید کا جواب ہے۔ عیسائیوں اور یہودیوں میں ابن رشد کی مقبولیت کی بنیاد زیادہ تر ان کی تین شرحیں ہیں جو انہوں نے ارسطوکی تصانیف سے متعلق لکھی ہیں، ان کے نام ہیں: ’’جامی، تلخیص اور تفسیر‘‘ جن کے ترجمے عبرانی اور لاطینی زبانوں میں کیے گئے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s