میں اس دنیا کو کیا دے سکتا ہوں ؟ …

ig02_bigکبھی کبھی سوچ کی ذرا سی تبدیلی ایک نئی اور روشن صبح کی خوشخبری لاتی ہے۔ زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے بجائے زندگی کو صرف ایک لگی بندھی ڈگر پر گزارنا بہت آسان ہوتا ہے۔ اِن حالات میں اس دُنیا کو پرکھنے کا ہمارا اندازِفکر یہ ہوتا ہے کہ ہم اس سے کیا حاصل کر سکتے ہیں ؟ میں کیا کما سکتا ہوں ؟ مجھے کیا فوائد حاصل ہوسکتے ہیں؟ مجھے کیا ملے گا ؟ زندگی میں کامیابی کا ایک سب سے اہم اُصول یہ بھی ہے کہ اس سوچ اور اندازِفکر کو تبدیل کیا جائے۔ اس حاصل کرنے کی سوچ کو مدد کرنے اور دینے کی سوچ میں تبدیل کیا جائے۔ اپنی سوچ کے انداز کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

یہ نہ پوچھیں کہ مجھے کیا فائدہ ہو گا؟ یا میں کیا حاصل کر سکوں گا ؟ یا میں کتنا کما سکوں گا ؟ بلکہ خود سے کچھ یوں سوال کریں کہ میں کیا دے سکتاہوں؟ میں کیا کچھ بانٹ سکتا ہوں ؟ میں کیا مدد کر سکتا ہوں ؟ اس سوچ اور فکر کی سب سے اہم، سودمند اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جتنا آ پ دیں گے اُتنا ہی لوٹ کر واپس آپ کے پاس آئے گا۔ ’’زندگی کی مثال ایک آئینے کی سی ہے جو اُس سے زیادہ کبھی بھی منعکس نہیں کرتی جو ہم اُس میں دیکھتے ہیں۔‘‘ مثال کے طور پر، اگر آپ صرف اپنے کاروبار کیلئے سیل کررہے ہیں تو اپنا نظریہ تبدیل کریں اور اپنی توجہ اپنے کسٹمر کی سچی مدد اور اُس کی زندگی میں مثبت تبدیلی کی جانب مبذول کریں۔

 جب آپ اس طرح کا رویہ اپنائیں گے تو آپ کے کسٹمریا گاہک کو بھی محسوس ہو گا کہ آپ اُس کی حقیقی مدد کرنا چایتے ہیں اور آپ کا کاروبار خودبخود بڑھے گا۔لہٰذا ہمیشہ خود سے پوچھیں کہ میں اس دنیا کو کیا دے سکتا ہوں ؟ کیا اور کیسے مدد کرسکتا ہوں ؟ جب آپ دوسروں کی مدد کریں گے تو زندگی جو فوائد آپ کو واپس لوٹائے گی اُس سے آپ بھرپور لطف اُٹھا سکیں گے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s