گناہ سے نفرت کریں ، گناہ گار سے نہیں

 اگر آپ کےکسی قریبی عزیز یا دوست کے کپڑوں پر کوئی نجاست لگ جائے تو آپ کا کیا ردِ عمل ہوگا؟؟؟

اسے مطلع کریں گے تاکہ وہ اس نجاست کو ہٹا دے یا کپڑے تبدیل کردے۔

الجھن یا گِھن نجاست سے ہوگی اور اپنے عزیز یا دوست کے خیال میں یہ تلقین کریں گے۔

اسی طرح گناہ بھی کپڑوں میں لگی نجاست کی طرح ہیں۔

الجھن یا گِھن کا باعث ہیں۔

اور نفرت بھی ان سے ہی ہونی چاہیے۔

لیکن ہم گناہ گار سے نفرت شروع کردیتے ہیں۔

وہ نجاست صاف بھی کرلے یعنی تائب بھی ہوجائے تو پھر بھی ہم ہتک سے اس کا ذکر کرتے ہیں۔

اسے کسی بھی کمزور لمحے میں طعنہ یا تحقیر کا نشانہ بناتے ہیں۔

یاد رکھیں کہ نفرت گناہ سے ہے گناہ گار سے نہیں۔

بیشک اللہ ستار العیوب ہے لیکن وہ صمد یعنی بے نیاز بھی ہے۔

آپ کے عیوب یا گناہ بھی دنیا کے سامنے آسکتے ہیں۔

اور اگر توبہ نہ کی اور دنیا میں گناہ چھپے بھی رہے تو حشر میں اعمال سب کے سامنے ہونگے۔

آخرت کی رسوائی تو بہت بڑی ہے اور عذاب اس سے بھی بڑا۔

اپنے گناہ گار بہن یا بھائی سے نفرت نہ کریں اور نہ ہی اسے حقیرسمجھیں۔

ہاں!پیار پیار سے اسے نجاست یعنی گناہ سے بچنے کی راہ ضرور دکھائیں۔

اور ساتھ ساتھ اپنے گناہوں کی اصلاح کی فکر میں بھی لگے رہیں۔

اللہ ہمیں ہر قسم کے تکبر سے محفوظ رکھے۔

آفاق احمد

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s