مدینہ منورہ میں تعلیم

Secondary students sit for an exam in a government school in Riyadhآمد اسلام سے بہت پہلے بھی مدینہ منورہ میں تعلیم کا رجحان اور تصور پایا جاتا تھا۔ باوجود اس کے ساری دنیا میں جہالت کا دورہ دورہ تھا‘ مدینہ منورہ میں یہود کے ہاں تعلیم کا سلسلہ برقرار تھا ان کی درس گاہوں میں توریت کے علاوہ لکھنے پڑھنے کی تعلیم بھی دی جاتی تھی تاہم اوس و خزرج جو مکہ والوں سے زیادہ متمدن تھے ان میں تحریر و کتابت اور علم و ادب کا رواج مکہ والوں سے کم تھا۔ ان قبائل میں عربی لکھنے والوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی۔ یہود میں سے کسی نے انہیں لکھنا پڑھنا سکھایا تھا۔ البتہ اسلام سے پہلے زمانہ قبل اہل مدینہ کے کچھ بچے تحریر و املا کا فن سیکھتے تھے۔ جب اسلام کا ظہور ہو تو اوس و خزرج کے متعدد افراد لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔

حضور اکرم ﷺ کے زمانے ہی سے مدینہ منورہ میں قلم دوات اور تختی استعمال کرنے کا رواج تھا چنانچہ طالب علموں کو تختی پر لکھنا سکھایا جاتا تھا کبھی کبھار تدریس کی خدمت مہاجرین کو سونپی جاتی کہ وہ انصار کو تعلیم دیں۔ طالب علموں کے لیے تعلیم حاصل کرنے کے اوقات مقرر تھے جس کی پابندی ضروری تھی اساتذہ نے طلبہ کے لیے جو اوقات مقرر کر رکھتے تھے اسی میں پڑھنا اور باہم مذاکرہ کرنا لازمی تھا تعلیم کے اوقات عموما فجر کے بعد سے چاشت تک یا ظہر اور عصر کے درمیان ہوتے تھے۔ تعلیم شروع ہونے سے پہلے طلبہ جماعتوں میں پہنچ جاتے اور اپنی اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھ جاتے تھے اگر کوئی طالب علم سبق میں حاضر نہ ہوتا تو استاد اس سے باز پرس کرتے اور غیر حاضری پر سبب دریافت کرتے تھے۔

جدون ادیب

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s