اسلامی فن تعمیر

مسلم ثقافت کی اپنی انفرادیت اور پہچان کے لیے عرب لوگوں نے جو عمارتیں تعمیر کیں ان میں خصوصاً مسجدیں، محلات اور مدرسے شامل ہیں۔ حضور نبی کریم ؐ نے جو پہلی مسجد مدینہ میں 622ء میں تعمیر کی وہ ابتدائی مسجد تھی جس کی دیواریں اینٹوں اور پتھر سے بنی تھیں اور اس مسجد کی چھت کھجور کی شاخوں سے بنائی گئی تھیں۔ اس کے بعد دوسری مسجد 639ء میں کوفہ میں تعمیر کی گئی جس میں سنگ مرمر کے ستون بنائے گئے ایک چھوٹی سی مسجد 642ء میں تعمیر کی گئی۔ حضور نبی کریمؐ کے وصال کے بیس سال بعد مسجد نبویؐ کی تعمیر نو کی گئی اور مسجد کے ستون اور آرائشی پتھر لگائے گئے.

عہد بنو اُمیہ کی تعمیرات:

بنو اُمیہ کے خلفاء نے تعمیرات کی بڑی سرپرستی کی۔ مقریزی لکھتا ہے کہ خلیفہ نے مسلمہ کو حکم دیا کہ اذان دینے کے لیے مینار تعمیر کرو اور منبر بھی تعمیر کروایا گیا۔ عہد بنو اُمیہ کی اہم عمارتیں مندرجہ ذیل ہیں۔

(1) قبہ الصنحراء:

یہ گنبد عبدالملک نے 691ء میں یروشلم میں تعمیر کروایا یہ ایک خوبصورت اور متاثر کرنے والا گنبد تھا اور ابتدائی مسلم تعمیرات کا ایک بہترین نمونہ تھا۔ یہ جگہ مسلمانوں کے لیے مقدس ہے کیونکہ یہاں سے حضور انورؐ نے شب معراج کا سفر شروع کیا تھا۔ یہ گنبد لکڑی سے بنایا گیا تھا اور اندرونی طرف سے پلستر کیا گیا تھا۔ پروفیسر پی کے ہیٹی کے مطابق مسلمانوں کے لیے یہ جگہ آثار قدیمہ کے حساب سے اتنی قیمتی نہ تھی بلکہ یہ ان کے عقیدے کے لحاظ سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ گنبد میں بازنطینی طرز کے آثار ہیں۔ MARTIN BRINGS کے مطابق الصنحراء کا آرائشی گنبد پتھر کی بڑی عمارت تھی جس کا سائز حیران کن ہے۔

(2) مسجد اقصی:

 یہ مسجد عبدالملک نے گنبد کے قریب تعمیر کروائی۔ یہ 769ء میں زلزلے کی وجہ سے شہید ہو گئی جس کو المنصور نے دوبارہ تعمیر کروایا۔

(3) جامع مسجد دمشق:

 یہ مسجد آٹھویں صدی کے پہلے سال تعمیر کی گئی۔ یہ تاریخی ترتیب کے لحاظ سے دوسری عمارت ہے اس میں نماز پڑھانے کے لیے ایک محراب بھی تھی۔ مسجد کی محرابیں گھوڑے کے پائوں کے نعل کی شکل کی تھیں۔ مسجد کی آرائش میں سنگ مرمر استعمال کیا گیا ہے، مسجد میں بازنطینی فن تعمیر کی جھلک نظر آتی ہے۔ 1893ء ۔1400ء اور 1069ء میں اس کی دوبارہ آرائش کی گئی۔ مسلمان تاریخ دانوں کے مطابق یہ مسجد دنیا کا ایک عجوبہ ہے۔

(4) قصرامراء:

یہ خلیفہ ولید اول نے تعمیر کروایا۔ جس میں قریبی پہاڑوں سے سرخ، سخت جپسم پتھر استعمال کیا گیا ہے۔ ولید اول نے مدینہ کی مسجد کی تعمیر نو کی۔ آپ نے تعمیرات میں محراب اور مینار متعارف کروائے۔ مسلمانوں کے مقدس مقامات میں آرائش کے لیے خطاطی کا استعمال کر کے تصاویر سے گریز کیا گیا۔ خلیفہ سلیمان نے رملہ میں مسجد تعمیر کروائی جس میں سنگ مرمر کے ستون اور سنگ مرمر کے فرش استعمال کیے گئے، ایک اور مسجد ایسپو کے مقام پر بھی انہوں نے ہی تعمیر کروائی۔ BRINGS کے مطابق تیونس کے قریب قیرواں کے مقام پر خلیفہ ہاشم کے دور میں تعمیر کی گئی۔

عوامی خلفاء کے دور کی تعمیر:

 بنواُمیہ عباسی دور حکومت میں دارالخلافہ کو دمشق سے بغداد منتقل کیا گیا۔ تعمیرات میں یونانی کلاسیکل طرز تعمیر کی جگہ ایران، ساسانی اور عراقی طرز تعمیر نے لے لی۔ یہ دور مسجدوں، بادشاہوں، بزرگوں اور شرفاء کے مقبروں، محلات، عمارتوں اور قلعوں کے حوالے سے بہت مشہور ہے اس دور کی عمارات میں ایک تبدیلی یہ آئی کہ لکڑی کے ستونوں کے اوپر چھت ڈالی جاتی تھی یعنی بغیر محرابوں کے تقریباً 500 سال تک عباسی خلفاء تعمیرات کی سرپرستی کرتے رہے۔ خلیفہ المنصور نے 762ء میں بغداد شہر بسایا اس کے چار دروازے تھے۔

شیخ نوید اسلم

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s