امام کعبہ شیخ صالح بن محمد طالب کا دورہ پاکستان

Sheikh Saleh Al Talib, was born in Riyadh, Saudi Arabia in the year 1974. He got his early education in Riyadh. He graduated from Imam Saud University, Riyadh and got a Masters Degree in Comparative Islamic Jurisprudence. He also has a Masters Degree in International Law from George Town, Washington DC, USA. Hence Sheikh Talib also understands English Language. Sheikh Talib is also a Judge in the High Court of Makkah. He was appointed as the Imam and Khateeb of Masjid Al Haram in 2003.

 

 

 

 

 

 

 

Advertisements

حرم مکی کی 63 سال پرانی یاد گار تصویر

مسجد حرام کی پرانی تصاویر اکثر منظرعام پر آتی رہتی ہیں مگران میں بعض ایسی فقید المثال اور نادر تصاویر ہوتی ہیں جو آنے والے زمانوں میں اس مقدس مقام کی تفصیلات بھی اپنے جلو میں سموئے رہیں گی۔ ایسی ایک تصویر ان دنوں تیزی کے ساتھ مقبول ہوئی ہے۔ حرم مکی کی یہ تصویر 63 سال پرانی ہے جسے سنہ 1954ء میں کھینچا گیا تھا۔ اس میں مسجد حرام، کعبہ شریف، صحن مطاف، حفاظتی دیوار(باڑ) جس میں باب بنو شیبہ بنایا گیا واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

حرمین شریفین کے امور کے ماہر محی الدین الھاشمی کا کہنا ہے کہ ’عثمانی کوری ڈور‘ میں موسم گرما میں نمازیوں کو سایہ فراہم کرنے کے لیے چھاتے شاہ عبدالعزیز آل سعود کے حکم پر لگائے گئے تھے۔ مذکورہ تصویر میں مسجد حرام کے چار اہم مقامات جن میں مقام ابراہیم بھی شامل ہے دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ تصویر میں زمزم کی عمارت بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ صحن مطاف دو حصوں میں منقسم ہے۔ کعبہ شریف کے اطراف میں صحن مطاف کے باہر ایک حفاظتی دیوار بھی موجود ہے۔ اس دیوارکو مسجد حرام کے چار اہم مقامات سے مربوط کیا گیا تھا۔

الھاشمی کا کہنا ہے کہ عثمانی کوری ڈور مسجد حرام کے مقامات اربعہ کے درمیان ریتلی جگہ کی تصویر بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ خیال رہے کہ مسجد حرام میں مقامات اربعہ اب باقی نہیں رہے ہیں۔ یہ مقامات چار اسلامی مذاہب الشافعی، الحنبلی، مالکی اور حنفی مسالک کی نمائندگی کرتے تھے۔ ان مقامات پر چاروں مسالک کے آئمہ نمازوں کی الگ الگ امامت بھی کرتے رہے ہیں مگر اب تمام مسالک کو ایک ہی امام کی اقتداء میں نماز کے لیے متحد کردیا گیا ہے۔ حرم مکی کی تصاویر سب سے پہلے 1880ء میں کھینچی گئی تھی۔ بلیک اینڈ وائیٹ تصویروں میں صحن کعبہ اور مسجد حرام کے بعض اہم حصے شامل جو آج

سے 137 برس قبل کی مسجد حرام کی کہانی بیان کرتی ہیں۔

لعربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ محمد الحربی

حرم مکی شریف کی صفائی

cleaner-workمسجد حرام اور خانہ کعبہ کی صفائی ستھرائی اور حجاج ومعتمرین کی شبابہ روز خدمت میں 1245 ملازمین مصروف عمل رہتے ہیں۔ حج کے موسم میں حرم مکی صفائی اور دیگر لوازمات کے لیے 470 ملازمین کا اضافہ کردیا جاتا ہے جس کے بعد کل 1715 بن جاتے ہیں۔ ان میں 210 خواتین ملازمائیں بھی شامل ہوتی ہیں۔ ماہ صیام میں عمرہ سیزن کے دوران 131 اضافی خواتین کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں جو مسجد حرام کی طہارت و نظافت میں کام کرتی ہیں۔

حرم شریف کی نظافت کے لیے کیا استعمال ہوتا ہے؟

مسجد حرام کی صفائی اور طہارت کے لیے 200 گیلن عرق گلاب استعمال ہوتا ہے۔صفائی کے روایتی طریقوں سے ہٹ کر جدید آلات اور مشینوں سے بھی مدد لی جاتی ہے۔ ان میں عراق گلاب بھر کر مسجد کے فرش، راہ داریوں اور گیلریوں میں چھڑکا جاتا ہے۔ خادمین بیت اللہ حرم مکی کے فرش کی دھلائی کے ساتھ الشاذروان، غلاف کعبہ، حجر اسود اور دیگر اہم مقامات پر روزانہ پانچ بار خوشبو کا چھڑکاؤ کرتے ہیں۔ یہ چھڑکاؤ پانچوں نمازوں کےساتھ کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر ہر جگہ کے لیے الگ الگ یونیفارم میں ملوث رضا کار کام کرتے ہیں۔ الگ الگ ٹولیوں کی شکل میں کام کرنے والے رضاکاروں میں سے کچھ غلاف کعبہ، کچھ شاذوران، بعض دیوار کعبہ اور حجر اسود کی صفائی کے ساتھ وہاں پرعطریات چھڑکتے ہیں۔

غسل کعبہ شریف

خانہ کعبہ کے غسل کا عمل متعدد مراحل پر مبنی ہوتا ہے۔ غسل کعبہ سے ایک روز پہلے تک صفائی کے سامان کی تیاری کی جاتی ہے۔ خانہ کے غسل کے لیے زمزم، طائف کے گلاب کا عراق اور گراں قیمت عود کی خوشبو کو باہم ملایا جاتا ہے۔ دیوار کعبہ کو پونچھنے اور اسے خشک کرنے کے لیے تولیے تیار کیے جاتے ہیں۔ جب کعبہ کے وسط سے زائرین نکل جاتے ہیں تب سے اس کے سنگ مرمر کو دھونے کا عمل شروع ہوتا ہے۔Haram Sharif-Arab News

دیوار کعبہ کی صفائی کے لیے 45 لیٹر زمزم، 50 تولہ طائفی عرق گلاب، کمبوڈیا کے عود کی خوشبو، اور روئی استعمال کی جاتی ہے۔ روئی کے سوا باقی تمام اشیاء کو باہم ملایا جاتا ہے۔ دیوار کعبہ کا مرحلہ ایک سےڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہتا ہے۔ اس دوران مکہ مکرمہ کے گورنر طواف کی سعادت بھی حاصل کرتے ہیں۔ یوں غسل کعبہ کے لیے اس مقام کے تقدس کے پیش نظر زمزم، گلاب کا پانی، عنبر اور عود سمیت کئی اقسام کے عطریات، برتن، تولیے، بخارات نکالنے والے ایگزاسٹ اور کئی دیگر چیزیں استعمال کی جاتی ہیں۔

پانی کا ذخیرہ اور اس کی کھپت

مسجد حرام کی نظافت کے حوالے سے جاری کردہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مسجد کی صفائی کے لیے صرف 45 منٹ کافی ہیں۔ پونے گھنٹے میں باریکی کے ساتھ مسجد کی صفائی کا کام مکمل کر لیا جاتا ہے۔ فی الوقت مسجد کی کل 550 مربع میٹر جگہ کی صفائی کی جاتی ہے۔ مطاف کی صفائی بھی پیشہ وارانہ انداز میں کی جاتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ افراد کی مدد سے بیس منٹ میں مطاف کو صاف کرلیا جاتا ہے۔ مسجد حرام کی صفائی کے مدارالمہام ذمہ داران کا کہنا ہے کہ مسجد کی صفائی کے لیے پانی کا ذخیرہ کرنے کا اندازہ روزانہ کی بنیاد پر لگایا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق مطاف کی صفائی کے لیے 400 لیٹر پانی کافی ہے جو کہ پانچ ہزار مربع میٹر کی جگہ کے لیے کافی ہے۔ یوں 12.5 میٹر جگہ کے لیے ایک لیٹر پانی کافی ہوتا ہے۔

 optimized-cleaning-haramماحول دوست

حرمین شریفین کی صفائی کے لیے نقصان دہ مالیکیول پر مشتمل کیمیائی ڈیٹرجنٹس کے بجائے ماحول دوست مواد کا استعمال کیا جاتا ہے۔ صفائی کے عمل کے لیے انسان اور جگہ کے تحفظ کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ ایسی کوئی چیز استعمال میں نہیں لائی جاتی جو کسی بھی طور پرمقدس مقامات کے ماحول کے لیے ضرر رساں ثابت ہو۔ ڈیٹرجنٹس سے تانبے کی پلیٹوں، کالینوں اور ٹوائلٹس کی صفائی کی جاتی ہے۔ مسجد حرام اور مسجد نبوی کی طہارت کے لیے پہلی بار نباتات، دودھ، کھجور اور اس قبیل کی دیگر اشیاء پر مشتمل مفید بیکٹیریا خارج کرنے والے مواد کا استعمال کیا جاتا ہے۔

صفائی کے لیے استعمال ہونے والے اس مواد کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ گندگی کو اکھاڑنے، گردو غبار، دھوئیں، خون اور پیشاب سے پیدا ہونے والے مضرصحت بیکٹریاز کو تلف کرنے میں مدد دیتا ہے۔ چودہ دن کےبعد یہ منفی بیکٹیریا قدرتی مواد میں تبدیل ہو کر بدبو کو ختم کرنے میں مدد گار ہوتے ہیں۔ ماحول دوست مواد کے استعمال سے رضاکاروں کے ہاتھ، آنکھیں اور جلد بھی متاثر نہیں ہوتی۔ روزانہ 150 قالینیں مکہ مکرمہ کے سب سے بڑے لانڈری سے صفا کی جاتی ہیں۔

کئی ٹیمیں اور شفٹوں میں کام

مسجد حرام کی صفائی کا کام روزانہ چار شفٹوں میں کیا جاتا ہے۔ ہرشفٹ میں الگ الگ رضاکار اپنے مخصوص مقامات کی صفائی میں سرگرم رہتا ہے۔ ستونوں، دیواروں، چھت اور گنبدوں کے لیے الگ گروپ ہے۔ ایک گروپ برقی زینوں اور عام سیڑھیوں کی صفائی پرمامور ہوتا ہے۔ ایک ٹیم تانبے کی پلیٹوں کی صفائی کرتی ہے۔ ایک کی ذمہ داری مسجد کے بیرونی حصے میں بارش کے پانی کے لیے بنائی گئی نالیوں کی صفائی ہوتی ہے۔ بیرونی کھڑکیوں، کبوتروں کے بیٹھنے کی جگہ اور ٹوائلٹ کی صفائی الگ گروپ کے ذمہ ہوتی ہے۔

مسجد حرام کے اندرونی حصے کی صفائی جگہ کے نقشوں کے مطابق مربع میٹروں میں تقسیم کی جاتی ہے۔ ضروری اور ہنگامی سروسز کی چوبیس گھنٹے کے اعتبار سے نظام الاوقات کا تعین، مرکزی اور اور فروعی مقامات میں مختلف کاموں کے لیے مزدوروں کا تقرر، ان کی روزانہ نگرانی اور صفائی پروگرام جیسے تمام کام بن لادن کمپنی کے ذمہ ہیں۔ ہرشفٹ انچارج حرم کے اندرونی اور بیرونی مقامات پر سپر وائز مقرر کرتا ہے۔ مسجد حرام کی دیواروں، اطراف، پیدل چلنے کے راستوں، صفائی، سروسز، یومیہ کی رپورٹس کی تیاری اور مسجد حرام کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد سامنے آنے والے اہم واقعات کا ریکارڈ اور معلومات کی تدوین ان کی اہم ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔

سپر وائزی اسٹاف کی ذمہ داریوں میں واشنگ مشینوں کی دیکھ بحال، فالتو سامان کو مسجد سے باہر نکالنے کے عمل، سامان کے لیے جگہ کے تعین، دیگر متعلقہ حکام سے مل کر مسجد حرام کی اندرونی صفائی کی نگرانی، صفائی کے سامان ، عطریات کی حفاظت، جراثیم کش مرکبات اشیا کی حفاظت، جمعہ کے روز منبر کی تیاری اور اس کی تحفظ کو یقینی بنانے، مسجد کے اندر سے فالتو چیزوں کا اخراج، قالینیں بچھانے کی نگرانی، مسجد کے بیرونی حصے کی صفائی کی نگرانی، مقام ابراہیم، قرآن پاک کے لیے بنائی گئی الماریوں کی صفائی اور ان کی دیکھ بحال اور مسجد کے صحن میں ہنگامی وہیل چیئرز کو تیار رکھنے کا اہتمام شامل ہیں۔

یاد رہے کہ مسجد حرام میں مختلف امور کی انجام دہی کے لیے 301 مختلف مشینیں اور آلات استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان میں واشنگ مشنیں، کرینیں، ویکیوم کلینرز، پانی خشک کرنے کی مشینیں، کاریں، صفائی کی ریڑھیاں اور سامان کی متنقلی کے لیے استعمال ہونے والے آلات شامل ہیں۔

معتمرین کی متروکہ اشیاء کی منتقلی

حرم مکی کے منتظمین کا کہنا ہے کہ مسجد حرام میں آنے والے معتمرین کے زیراستعمال اشیاء کی باقیات کی منتقلی بھی ایک اہم ذمہ داری ہے اور یومیہ قریبا 100 سے 300 ٹن تک متروکہ چیزیں مسجد سے باہر منتقل کی جاتی ہیں۔

کعبۃ اللہ کے اندر کیا کیا ہے، تصاویر ملاحظہ کیجیے

کعبۃ اللہ قریباً 180 مربع میٹر رقبے پر محیط ہے اور اس کی چھت لکڑی کے تین مضبوط ستونوں پر ایستادہ ہے۔ ستونوں کی لکڑی دنیا کی مضبوط ترین لکڑیوں میں سے ایک ہے اور صحابیِ رسول حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے  لکڑی کے یہ تینوں ستون بنوائے تھے۔ گویا اس وقت ان کو 1350 سال گزر چکے ہیں۔ ان کی رنگت گہری بھوری ہے۔ لکڑی کے ہر ستون کا عمود ( محیط) قریباً 150 سینٹی میٹر اور قطر (موٹائی) 44 سینٹی میٹر ہے۔ ان تینوں ستونوں کے درمیان میں ایک پتلی شہتیر نما لٹھ آویزاں ہے اور یہ تینوں کے بیچوں بیچ گزرتی ہے۔ اس پر کعبۃ اللہ کے تحائف اور نوادرات لٹکے ہوئے ہیں۔ اس کے دونوں اطراف کعبہ کی شمالی اور جنوبی دیواریں ہیں۔

مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے انتظام وانصرام کے ذمے دار ادارے (الحرمین الشریفین صدارت) نے العربیہ کو بتایا ہے کہ کعبہ کے دائیں جانب اندرونی حصے میں رکنِ شامی ہے۔ اس میں ایک سیڑھی ہے جو مستطیل نما کمرے کی جانب جاتی ہے۔ اس کمرے میں کوئی کھڑکی نہیں ہے۔ اس کا ایک دروازہ ہے اور اس کا خصوصی تالا ( قفل) ہے۔ اس کے دروازے پر خوب صورت ریشم کا پردہ لٹکا ہوا ہے اور اس پر سنہرے اور نقرئی رنگ کی کشیدہ کاری ہوئی ہے۔

صدارت نے یہ بھی بتایا ہے کہ کعبہ کا اندرونی فرش سنگِ مرمر کا ہے۔ یہ زیادہ تر سفید ہے۔ تا ہم سنگ مرمر کے دوسرے رنگوں کے ٹکڑے بھی فرش پر لگے ہوئے ہیں۔ کعبہ کا اندرونی حصہ خوب صورت سنگ مرمر کے ٹکڑوں سے مزیّن ہیں اور سرخ رنگ کی ریشم کے پردے سے ڈھانپا ہوا ہے۔ اس پر سفید رنگ سے عربی میں عبارات اور اسمائے حسنیٰ لکھے ہوئے ہیں۔ اسی پردے نے کعبے کی چھت کو بھی ڈھانپ رکھا ہے۔

 

کعبہ کے اندر آٹھ پتھر ہیں۔ ان پر خطِ ثلث میں عربی عبارتیں کندہ ہیں۔ ایک پتھر پر خطِ کوفی میں عربی عبارت لکھی ہوئی ہے۔ یہ خوب صورت لکھائی چھٹی صدی  ہجری کے بعد کے دور سے تعلق رکھتی ہے۔ دیوارِ شرقی پر کعبے کے دروازے اور باب التوبہ کے درمیان سابق سعودی فرمانروا شاہ فہد بن عبدالعزیز آل سعود کی ایک دستاویز ہے جو سنگِ مرمر پر کندہ کی گئی ہے۔ اس میں کعبہ کی تزئین نو کی تاریخ درج ہے۔ اس طرح کعبہ کے اندر عبارتوں پر مشتمل پتھروں کی تعداد دس ہے اور یہ تمام سفید سنگ مرمر کے ہیں۔

دل کی شکل میں طواف خانہ کعبہ کا روح پرور منظر

خانہ کعبہ کی تصاویر اہل ایمان کے لیے ہروقت اور ہرجگہ غیرمعمولی کشش اور جذبہ ایمانی کے فروغ کا ذریعہ ہیں۔ اہل ایمان طواف کعبہ کے ایمان پرور مناظر کو دیکھنا بھی کار ثواب سمجھتے ہیں۔ رواں سال کے موسم حج کے موقع پر احمد حاضر نامی ایک شہری نے خانہ کعبہ میں طواف اور دیگر مناسک کے مواقع پر کی منفرد تصاویر اپنے کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کیں۔ ان منفرد مناظر کعبہ میں ایک تصویر کی اپنی ہی انفرادیت اور خوبصورتی ہے۔ ایک تصویر میں خانہ کعبہ کے گرد حجاج کرام طواف کرتے ہوئے ایسے اکھٹے ہوگئے کہ طواف کا منظر دل کی شکل میں بدل گیا۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق احمد نے حج کے موقع پر لی گئی تصاویر فوری طور پر شائع نہیں کیں کیونکہ اس کا خیال ہے جب حجاج کرام فریضہ حج کی ادائی کے بعد اپنے وطن اور گھروں کو لوٹ جائیں گے، اس کے بعد وہ منفرد تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کریں گے۔

دل کی شکل میں طواف کعبہ کی تصویر محض اتفاق ہے مگر اس نے خانہ کعبہ سے وابستگی رکھنے والے مسلمانوں کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ سوشل میڈیا پر اس تصویرکو جو غیرمعومولی پذایرائی مل رہی ہے وہ شاید ہی کسی دوسری تصویر کے مقدر میں آئے۔ احمد نے سات ذی الحج سے سعودی فضائیہ کی ٹیم کے ہمراہ حرم مکی کے فضائی مناظر کا جائزہ لیتے ہوئے ایسی کئی تصاویر اتاریں۔ اب انہیں ایک ایک کرکے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا جا رہا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے حرم مکی کے فوٹوگرافر سے تصاویر شائع نہ کرنے کی بابت پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے تو اپنے انسٹا گرام پر خانہ کعبہ کی دوران حج کی تصاویر پوسٹ کرسکتے تھے.

مگر وہ لوگوں کی زیادہ توجہ چاہنے کے ساتھ تجسس پیدا کرنا چاہتے تھے تا کہ حجاج بیت اللہ اپنے گھروں کو لوٹنے کے بعد ان تصاویر کو دیکھیں اور اپنا ایمان تازہ کرنے کے ساتھ ساتھ حج کی یادیں بھی تازہ کرسکیں۔  احمد کا کہنا ہے کہ وہ ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر حرم مکی میں طواف کی تصاویر اتارنے میں بہت جلدی سے کام لیتے تھے کیونکہ جاری طواف کے باعث مناظر سکینڈز میں تبدیل ہو رہے تھے۔ اس دوران ایک موقع ایسا آیا جب کہ حجاج کرام خانہ کعبہ کے گرد دل کی شکل کے دائرے میں آ گئے۔ یہ منفرد منظر بدلنے سے قبل ہی ان کے کیمرے میں محفوظ ہو گیا تھا اور اب اسے سوشل میڈیا پر لاکھوں مسلمان دیکھ رہے ہیں۔

ریاض ۔ عبدالمحسن الشعوان