علم کی اہمیت اور اسکی ضرورت قرآن و احادیث کی روشنی میں

٭ اللہ تعالیٰ جس شخص کی بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے ، اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے اوراس کی ہدایت اس کے دل میں ڈال دیتا ہے۔

٭ علماء،ا نبیاءکرام علیہم السلام کے وارث ہیں۔

٭ آسمانوں اورزمین کی ہر چیز عالم کے لیے بخشش طلب کرتی ہے۔

٭ بے شک علم شریف کی عزت کو بڑھاتا ہے اور غلام کو اس قدر رفعت عطا کرتا ہے کہ وہ بادشاہوں کے درجے پر پہنچ جاتا ہے۔

٭ کسی منافق میں دو خوبیاں نہیں پائی جاتیں ،راہِ راست پر ہونا اور دین کی سمجھ.

٭ ایمان برہنہ تن ہے اس کا لباس تقویٰ ہے۔ اس کی زینت حیاء اوراس کا پھل علم ہے۔

٭ انسانوں میں درجہ نبوت کے زیادہ قریب علماء اورمجاہدین ہیں علماء رسولوں کی لائی ہوئی تعلیمات کی طرف لوگوں کی راہنمائی کرتے ہیں جب کہ مجاہدین رسولوں کی لائی ہوئی شریعت کے تحفظ کی خاطر اپنی تلواروں سے جہاد کرتے ہیں۔

٭ ایک قبیلے کی موت ایک عالم کی موت سے زیادہ آسان ہے۔

٭ قیامت کے دن علماء کے قلم کی سیاہی کو شہداء کے خون کے مقابلے میں وزن کیا جائے گا۔

٭ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف وحی ارسال فرمائی ، اے ابراہیم! بلاشبہ میں علیم ہوں اورہرصاحب علم والے کو پسند کرتا ہوں ۔

٭ عالم زمین میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا امین ہے۔

٭ میری امت کے دوطبقے ایسے ہیں اگر وہ صحیح ہوں تو تمام لوگ درست ہوتے ہیں اگر وہ بگڑ جائیں تو سب لوگ بگڑ جاتے ہیں ۔ ایک حکمرانوں کا طبقہ اوردوسرے علماء۔

٭ جب مجھ پر کوئی ایسا دن آئے جس میں میں ایسے علم کا اضافہ نہ کروں جو مجھے اللہ تبارک وتعالیٰ کے قریب کردے تو اس دن کے طلوع آفتاب سے مجھے کوئی برکت حاصل نہ ہوئی ۔

٭ عالم کی عابد پر فضیلت اس طرح ہے ،جس طرح چودہویں رات کا چاند تمام ستاروں سے افضل ہے۔

٭ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بندوں کو اُٹھائے گا ،پھر علماء کو اُٹھائے گا اور ارشاد ہو گا : اے گروہ علماء ! میں نے اپنا علم تمہیں جانتے ہوئے عطا کیا تھا اور یہ علم تمہیں اس لیے نہیں دیا تھا کہ میں تمہیں عذاب دوں ، بے شک میں نے تمہیں بخش دیا۔

  (احیاءالعلوم : امام محمد غزالیؒ)

Advertisements

اللہ تعالی کو سب سے زیادہ محبوب کلمات

 RRRR

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دو کلمے ایسے ہیں کہ جو ( ادائیگی کے لحاظ سے) زبان پر ہلکے ہیں لیکن میزان میں یعنی اجر وثواب کے لحاظ سے قیامت کے دن کی ترازو میں) بھاری ہوں گے۔ ( اور) رحمن ( یعنی اللہ تعالیٰ) کے ہاں بہت محبوب ہیں ( اور وہ کلمات یہ ہیں) سبحان اللہ العظیم، سبحان اللہ و بحمدہ۔ ( بخاری ومسلم)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے صبح کے وقت اور شام کے وقت سومرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ کہا تو قیامت کے دن( اس حال میں) آئیگا کہ کوئی بھی اس سے افضل نہ ہوگا۔ مگر یہ کہ جس نے اس کی مثل یا اس سے زیادہ کہا ہو گا۔ (مسلم)

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ التبہ اگر میں سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر (ایک بار ) کہوں تو یہ مجھے ان سب چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے۔( مسلم)

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں  کہ ( ایک دن) ہم رسول اللہﷺ کے پاس ( بیٹھے ہوئے) تھے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا تم اس سے عاجز ہو کہ ہر دن ہزار نیکیاں کمائو حاضرین مجلس میں سے کسی  نے عرض کیا کہ کس طرح ہم میں کوئی شخص روزانہ ہزار نیکیاں کما سکتا ہے آپ ﷺنے فرمایا کہ سو مرتبہ اللہ کی تسبیح بیان کرے ( یعنی سبحان اللہ کہے) تو اس کے لئے ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس کی ایک ہزار برائیاں مٹا دی جائیں گی۔ ( مسلم)

سوچ کر بولنے کی عادت ڈالیں

ایک حدیث شریف میں حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ انسان کو سب سے زیادہ جہنم میں اوندھے منہ ڈالنے والی چیز زبان ہےیعنی جہنم میں اوندھے منہ گرائے جانے کا سب سے بڑا سبب زبان ہے ۔ اس لیے جب بھی زبان کو استعمال کرو۔ استعمال کرنے سے پہلے ذرا سوچ لیا کرو کسی کے ذہن میں سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کو جب کوئی ایک جملہ بولنا ہو تو پہلے پانچ منٹ تک سوچے پھر زبان سے وہ جملہ نکالے تو اس صورت میں بہت وقت خرچ ہو جائے گا؟

بات دراصل یہ ہے کہ اگر شروع شروع میں انسان بات سوچ سوچ کر کرنے کی عادت ڈال لے تو پھر آہستہ آہستہ اس کا عادی ہو جاتا ہے اور پھر سوچنے میں دیر نہیں لگتی ۔ ایک لمحہ میں انسان فیصلہ کر لیتا ہے کہ یہ بات زبان سے نکالوں یا نہ نکالوں ۔ پھر اللہ تعالیٰ زبان کے اندر ہی ترازو پیدا فرما دیتے ہیں جس کے نتیجے میں زبان سے پھر صرف حق بات نکلتی ہے غلط اور ایسی بات زبان سے نہیں نکلتی جو اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والی ہو اور دوسروں کو تکلیف پہنچانے والی ہو۔ بشرطیکہ یہ احساس پیدا ہو جائے کہ اس سرکاری مشین کو آداب کیساتھ استعمال کرنا ہے۔

تالیف : مفتی اعظم حضرت مولانا محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انتخاب : نورمحمد

امریکا میں اسلام تیسرا بڑا مذہب، مسلمان چوتھی بڑی آبادی

اسلام امریکا کا تیسرا بڑا مذہب بن گیا جبکہ مسلمان امریکا کی چوتھی بڑی آبادی ہے۔ سنسس بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق کل امریکی آبادی کا ایک فیصد مسلمانوں پر مشتمل ہے جو لگ بھگ 33 لاکھ بنتے ہیں تاہم مسلمان تنظیموں کے مطابق اصل تعداد 70 لاکھ سے بھی زائد ہیں، تو صرف نیویارک سٹی میں ہی 8 سے 10 لاکھ مسلمان آباد ہیں۔  ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق سٹی میں کل رجسٹرڈ مسلمان ووٹروں کی تعداد 8 لاکھ 24 ہزار ہے جو امریکی انتخابات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

فروری 2016 میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق کل مسلم رجسٹرڈ ووٹرز کی 2 تہائی یعنی تقریبا 5 لاکھ 49 ہزار333 ووٹرزڈیموکریٹک پارٹی کو سپورٹ کرتے نظرآتے ہیں جبکہ 15 سے 18 فیصد یعنی تقریبا ایک لاکھ 48 ہزار320 ووٹرزرپبلکن جماعت کی حمایت کرتے ہیں جبکہ انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلمانوں سے متعلق متنازع بیانات کے بعد اس تعداد میں مزید کمی ہو سکتی ہے۔

یا رب ھمیں پلک جھپکنے کی مقدار کے مطابق بھی ھمارے نفس کے حوالے نہ کر

483917_558136654218437_2057979722_nبــــسم الـلــہ الـــرحــمن الــرحــیم

مفہوم ارشــــاد نـــــــبوی صلی اللہ علیہ وسلم

اس حدیث کو پڑھ کر میرے رونگٹے

کھڑے ہو گئے!

ثوبان رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا

﴿لأَعْلَمَنَّ أَقْوَامًا مِنْ أُمَّتِى يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَسَنَاتٍ أَمْثَالِ جِبَالِ تِهَامَةَ بِيضًا فَيَجْعَلُهَا اللہُ عَزَّ وَجَلَّ هَبَاءً مَنْثُورًا

میں اپنی اُمت میں سے یقینی طور پر ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو قیامت والے دِن اِس حال میں آئیں گے کہ اُن کے ساتھ تہامہ پہاڑ کے برابر نیکیاں ہوں گی ،تو اللہ عزّ و جلّ ان نیکیوں کو (ہوا میں منتشر ہوجانے والا) غُبار بنا (کر غارت ) کردے گا،

تو ثوبان رضی اللہ عنہ ُ نے عرض کیا :-

‘‘يَا رَسُولَ اللَّهِ صِفْهُمْ لَنَا جَلِّهِمْ لَنَا أَنْ لاَ نَكُونَ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لاَ نَعْلَمُ

اے اللہ کے رسول ، ہمیں اُن لوگوں کی نشانیاں بتائیے ،ہمارے لیے اُن لوگوں کا حال بیان فرمایے ، تا کہ ایسا نہ ہو کہ ہمیں انہیں جان نہ سکیں اور ان کے ساتھ ہوں جائیں

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا

أَمَا إِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ وَمِنْ جِلْدَتِكُمْ وَيَأْخُذُونَ مِنَ اللَّيْلِ كَمَا تَأْخُذُونَ وَلَكِنَّهُمْ أَقْوَامٌ إِذَا خَلَوْا بِمَحَارِمِ اللہِ انْتَهَكُوهَا

وہ لوگ تُم لوگوں کے (دینی) بھائی ہوں گے اور تُم لوگوں کی جِلد (ظاہری پہچان اِسلام ) میں سے ہوں گے ، اور رات کی عبادات میں سے اُسی طرح (حصہ) لیں گے جس طرح تم لوگ لیتے ہو (یعنی تُم لوگوں کی ہی طرح قیام اللیل کیا کریں گے) لیکن اُن کا معاملہ یہ ہوگا کہ جب وہ لوگ الله ﷻ کی حرام کردہ چیزوں اور کاموں کو تنہائی میں پائیں گے تو اُنہیں اِستعمال کریں گے.

سُنن ابن ماجہ /حدیث/4386کتاب الزُھد/باب29، امام الالبانی رحمہُ اللہ نے صحیح قرار دِیا ،

یا رب ھمیں پلک جھپکنے کی مقدار کے مطابق بھی ھمارے نفس کے حوالے نہ کر

اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْت

آمین