نماز آئینہ ہے

آپ نے کبھی آئینہ دیکھا ہے؟ وہ آپ کو آپ کی شکل دِکھاتا ہے، کپڑے دکھاتا ہے،
بتاتا ہے کہ آپ کتنے خوبصورت لگ رہے ہیں اور اگر کوئی داغ دھبہ کہیں لگا ہوا ہے تو وہ بھی۔ اب اگر آپ کے بال گردآلود ہیں، چہرے پر سیاہی ملی ہوئی ہے، کپڑے شکن آلود ہیں، جسم زخمی ہے، کانوں سے خون رِس رہا ہے، کالے لمبے دانت باہر نکلے ہوئے ہیں، آنکھیں لال و سیاہ ہو رہی ہیں تو آئینہ آپ کو یہ سب کچھ بھی دکھائے گا اور یقین جانیئے، اِس میں آئینے کا کوئی قصور نہیں۔ آپ جتنے چاہیں آئینے تبدیل کر لیں۔ صورتِ حال ویسی کی ویسی ہی رہے گی۔ اسی لئے ہم سب صبح نہا دھو کر تیار ہو کر، اچھے کپڑے پہن کر آئینہ دیکھنے کے عادی ہیں کہ سب کچھ اچھا اچھا ہی نظر آئے۔

نماز بھی ایک آئینہ ہی ہے باطن کا، آپ وضو کر کے دن میں پانچ بار اِس کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں، اور یہ آپ کو آپ کا باطن دِکھا دیتی ہے۔ اگر آپ کو نماز میں کوفت ہوتی ہے، دماغ منتشر رہتا ہے، گھبراہٹ ہوتی ہے، وحشت ہوتی ہے تو سمجھ جائیں کہ باطن کی حالت کیا ہے، اور یقین جانیئے کہ اِس میں نماز کا کوئی قصور نہیں ہے۔ جائے نماز بدل لینے سے، غسل کر لینے سے، مولوی صاحب یا مسجد تبدیل کرلینے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اب نماز جھوٹ تھوڑا ہی بولتی ہے، جیسے پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے بالکل ایسے ہی گناہ گناہ کو اور نیکی نیکی کو کھینچ لیتی ہے۔ آپ ایک نماز پڑھتے ہیں تو دوسری کی توفیق مل جاتی ہے اور ایک چھوڑ دیں تو اگلی چھوڑنی بھی آسان ہو جاتی ہے۔

نماز دن میں اعراب (punctuation marks) کی طرح آپ کو سہولت فراہم کرتی ہے کہ آپ اپنے 24 گھنٹوں کا پوسٹ مارٹم کر سکیں۔ نماز روزمرہ زندگی میں اللہ کی حضوری کی مقدار جانچنے کا ایک لٹِمس ٹیسٹ ہے۔ صبح کی نماز کا آئینہ آپ کو دکھاتا ہے کہ رات کیسی گزری۔ ہم ایسے گئے گزرے کہ رات کی سیاہی نہ دیکھنے کے لئے آئینے کے سامنے ہی نہیں جاتے اور سمجھتے ہیں کہ کوئی داغ کوئی دھبّہ ہی نہیں ہے۔ ظہر کی نماز کا آئینہ دکھاتا ہے کہ نوکری اور بزنس کے دوران احکاماتِ الہٰی کا کتنا خیال رکھا، عصر کی نماز کا آئینہ دن کہاں اور کیسے گزرا کا احوال بتاتا ہے، مغرب کا آئینہ خاندان اور نفس پر کی جانے والی محنت کا عکس دکھاتا ہے اور عشاء! کیا کہنے عشاء کے، آئینے میں عاشق کو اِس کا چہرہ دکھاتی ہے کہ محبت نور بن کر چہرے پر چمکے۔

آج میں نے کتنے پراڈکٹ بیچے، کتنے لوگوں سے میٹننگز کیں، بینک کے حساب سے لے کر ٹیکسوں کے گوشوارے تک، اور رات دیکھی جانے والی فلم سے لے کر موبائل فون کی پُر تکلف گفتگو تک، یہ سب کچھ ہی تو دورانِ نماز یاد آتا ہے۔ آئینے میں ان کو دیکھ کر عبرت پکڑنی چاہئیے۔ ہر وہ چیز جو آپ کی نماز کے حُسن کو خراب کر دے، حضوری کی لذت چھین لے، یقین جانیئے! اِس قابل ہی نہیں کہ اس کا ذکر کیا جائے۔ بات چل نکلی ہے، عشق کی تو سمجھ لینا چاہئیے کہ رتبے میں عاشق و معشوق کا کوئی موازنہ نہیں۔ عاشق تو معشوق کی صفات سے عشق کرتا ہے، یہ تو معشوق ہے جو عاشق کی ذات سے عشق کرتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ عاشق کو عشق کی سچائی صفات سے گزار کر ذات تک لے جائے اور ایک مقام وہ آئے کہ معشوق کی صفات عاشق میں جلوہ گر ہوں۔

 

آپ کو تو محبوب سے عشق اِس کی مسکراہٹ کی ملاحت، رخسار کی صباحت، قد کی آراستگی، گفتگو کی مٹھاس، غمزوں کا ناز و انداز، چاہ ذقن، پُر شکن گیسو، خمدار ابرو اور پُرشکوہ جوانی دیکھ کر ہوا۔ اِس نے کیا دیکھا آپ میں؟ یہ ہے اصل سوال۔ بالکل اسی طرح یہ تو اللہ کا کرم ہے کہ وہ آپ کو توفیق دے کہ آپ اِس کے سامنے سجدہ کرسکیں۔ نماز چھٹ جائے تو سوچنا ہی چاہئیے کہ زندگی میں ایسا کیا کیا کہ یہ توفیق بھی چِھن گئی؟ نماز میں کم از کم ایک بار اللہ کے سامنے حاضری کا خیال فرض ہے۔ اب اگر نماز میں بزنس و جاب کے مسائل ہی نظر آتے رہیں تو اپنے آپ پر بڑی محنت و توجہ کی ضرورت ہے، اور نماز کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آدمی جھوٹ نہیں بول پاتا۔ سوچتا ہی ہے کہ کیا کر رہا ہے، آپ جب ’’ایاک نعبد و ایاک نستعین‘‘ پر پہنچتے ہیں کہ اے اللہ! تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں تو دل کچوکے لگاتا ہے۔ روک دیتا ہے، اور ایک اور آیت سناتا ہے کہ ’’لم یقولون ما لا تفعلون‘‘ تم ایسی باتیں کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں۔ اور آدمی شش و پنج میں کھڑا وہ جاتا ہے کہ سورہِ فاتحہ پوری کیسے کرے؟

آئیے، نماز کے باطنی آئینے پر بھی توجہ کریں کہ کاش ہماری ظاہری خوبصورتی کا عکس باطن تک بھی پہنچے یا باطن اتنا منور ہوجائے کہ ظاہر بھی دُھل جائے۔

اللہ ہمیں نمازوں میں کھڑا ہونے کا شرف بخشیں۔

آمین!

ذیشان الحسن عثمانی

Advertisements

Golden Tips To Increase Your Imaan

6 Golden Tips To Increase Your Imaan

1 – Read QURAN Daily
2 – Praying SALAH On Time
3 – Being In A Good Company and Away From The Bad
4- Lower your GAZE !!
5 – Standing Up For Night Prayer
6- Making Lots Of Duas and Always Asking Allah For Guidance and Forgiveness
 

Enhanced by Zemanta

Hadith: The prayer offered in congregation is twenty five times more superior

Narrated Abu Huraira (may Allah be pleased ) with him: The Prophet Sallallahu ‘alayhi wa sallam said, “The prayer offered in congregation is twenty five times more superior (in reward) to the prayer offered alone in one’s house or in a business center, because if one performs ablution and does it perfectly, and then proceeds to the mosque with the sole intention of praying, then for each step which he takes towards the mosque, Allah upgrades him a degree in reward and (forgives) crosses out one sin till he enters the mosque. When he enters the mosque he is considered in prayer as long as he is waiting for the prayer and the angels keep on asking for Allah’s forgiveness for him and they keep on saying: ‘O Allah! Be Merciful to him, O Allah! Forgive him, as long as he keeps on sitting at his praying place and does not pass wind. (See Hadith No. 620).

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 463 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 15 متفق علیہ 8

مسدد، ابومعاویہ، اعمش، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ جماعت کی نماز، اپنے گھر کی نماز اور بازار کی نماز سے پچیس درجے (ثواب میں) زیادتی رکھتی ہے، اس لئے جب تم میں کوئی اچھا وضو کر کے مسجد میں محض نماز ہی کا ارادہ لے کر آئے تو وہ جو قدم رکھتا ہے اس پر اللہ ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ معاف کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہوجاتا ہے، تو نماز میں (سمجھا جاتا) ہے جب تک کہ نماز کے لئے (ہی) مسجد میں رہے، اور فرشتے اس کے لئے دعا کرتے رہتے ہیں جب تک کہ وہ اس مقام میں رہے، جہاں نماز پڑھتا ہے، (فرشتے یوں دعا کرتے ہیں) کہ اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم کر (یہ دعا اس وقت تک جاری رہتی ہے) جب تک کہ وہ بے وضو نہ ہو۔

Narrated Abu Huraira (may Allah be pleased ) : Allah’s Apostle Sallallahu ‘alayhi wa sallam said, “If the people knew the reward for pronouncing the Adhan and for standing in the first row (in congregational prayers) and found no other way to get that except by drawing lots they would draw lots, and if they knew the reward of the Zuhr prayer (in the early moments of its stated time) they would race for it (go early) and if they knew the reward of ‘Isha’ and Fajr (morning) prayers in congregation, they would come to offer them even if they had to crawl.”

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 588 حدیث مرفوع مکررات 29 متفق علیہ 17
عبداللہ بن یوسف، مالک، سمی، ابوبکر کے آزاد کردہ غلام ابوصالح، ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ اذان اور صف اول میں شامل ہونے کا کتنا ثواب ہے پھر قرعہ ڈالنے کے بغیر نہ حاصل ہو تو ضرور قرعہ ڈالیں اور اگر یہ معلوم ہوجائے کہ اول وقت نماز پڑھنے میں کیا ثواب ہے تو بڑی کوشش سے آئیں اور اگر جان لیں کہ عشاء اور صبح کی نماز باجماعت ادا کرنے میں کیا ثواب ہے تو ضرور ان دونوں کی جماعت آئیں خواہ گھنٹوں کے بل چل کر ہی آنا پڑے۔

 
Enhanced by Zemanta

Hadith: And seek help through patience and prayer


وَاسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ۢ وَاِنَّهَا لَكَبِيْرَةٌ اِلَّا عَلَي الْخٰشِعِيْنَ ۝ الَّذِيْنَ يَظُنُّوْنَ اَنَّھُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَاَنَّھُمْ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ
صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو۔ بے شک نماز گرانبار (مشکل، دشوار) ہے مگر ان عاجزی کرنے والوں پر گرانبار نہیں، جو یہ جانتے ہیں کہ بیشک وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے اور یقینا اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔

And seek help through patience and prayer, and indeed, it is difficult except for the humbly submissive (to Allah); who are certain that they will meet their Lord and that they will return to Him.
[Al-Quran 2:45-46

۝

Enhanced by Zemanta