رشتہ داروں سے حسنِ سلوک

ہمارا معاشرہ انتشار میں مبتلا ہے اور بحرانی کیفیت میں ہے، جس کی وجہ سے آئے دن طرح طرح کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ یہ مسائل ہر سطح اور ہر پیمانے پر ہیں۔ ایک مسئلہ حل ہونے نہیں پاتا کہ دوسرے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ بلکہ بعض وقت تو کسی مسئلے کا حل ہی نئے مسائل کی وجہ بن جاتا ہے۔ میرے خیال میں یہ صورت اس وقت تک رہے گی جب تک معاشرے کے بنیادی اداروں کو مستحکم نہیں کرتے۔ بنیادی، سماجی ادارہ ہے محلہ۔ ذیل میں اسی ادارے کے بارے میں حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کے ارشادات کی روشنی میں چند اہم باتیں کی گئی ہیں۔ اﷲ کے آخری اور پیارے نبی حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ اچھی زندگی کس طرح گزاری جا سکتی ہے۔

دنیا میں انسان کے سکون اور خوشی کا انحصار اچھے تعلقات پر ہے۔ کوئی آدمی اپنے قریب کے لوگوں سے بگاڑ کر خوش نہیں رہ سکتا۔ رشتے دار آپس میں سب سے قریب ہوتے ہیں۔ پڑوسی بھی بہت قریب ہوتے ہیں۔ بعض دوست اور ساتھی بھی عزیزوں کی طرح ہوتے ہیں۔ پھر رشتے داروں میں بھی کئی درجے ہوتے ہیں، ماں، باپ، میاں، بیوی، بیٹا، بیٹی، بھائی، بہن اور دوسرے رشتے دار اپنی اپنی جگہ محبت اور تعلق رکھتے ہیں۔ ان سب کا حق ایک دوسرے پر ہوتا ہے اس حق کو ادا کرنے کے جذبے کو رشتوں کا احترام کہنا چاہیے۔ جو عزیز، رشتے دار جس سلوک کا مستحق ہے اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے۔

حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ’’تم میں سب سے زیادہ کامل ایمان اس شخص کا ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں اور جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھے سلوک میں سب سے بڑھا ہوا ہو۔‘‘ ایک بار حضورؐ نے اپنے ساتھیوں (صحابہؓ) سے پوچھا ’’جانتے ہو تم میں مفلس کون ہے؟‘‘صحابہ نے جواب دیا ’’مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس نہ تو درہم ہوں نہ کوئی اور سامان۔‘‘
حضورؐ نے فرمایا ’’میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت میں اپنی نماز روزہ اور زکوٰۃ کے ساتھ ﷲ کے سامنے حاضر ہو گا مگر اس کے ساتھ اس نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہو گی، کسی پر تہمت لگائی ہو گی، کسی کا مال دبایا ہو گا، کسی کو ناحق مارا ہو گا، ان تمام مظلوموں میں اس کی نیکیاں بانٹ دی جائیں گی، پھر اگر اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں اور مظلوموں کے حقوق باقی رہے تو ان مظلوموں کی غلطیاں اس کے حساب میں ڈال دی جائیں گی۔ اور پھر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا‘‘

آپس میں لوگوں سے اچھے تعلقات رکھنا، اخلاقی خوبی ہے اور لڑنا جھگڑنا برا بھلا کہنا اخلاقی عیب ہے لیکن جو لوگ دوسرے لوگوں کے آپس کے تعلقات خراب کراتے ہیں ان کے دلوں میں رنجش پیدا کرتے ہیں وہ تو اپنی عبادتوں کا ثواب بھی ضایع کر دیتے ہیں۔ حضورؐ کا فرمان ہے ’’میں تمھیں بتائوں کہ روزے، صدقے اور نماز سے بھی افضل کیا چیز ہے؟ وہ ہے بگڑے ہوئے تعلقات میں صلح کرانا اور لوگوں کے باہمی تعلقات میں فساد ڈالنا، وہ فعل ہے جو آدمی کی ساری نیکیوں پر پانی پھیر دیتا ہے۔‘‘ سرکاری دو عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کا ایک اور فرمان ہے ’’اپنے بھائی سے جھگڑا نہ کرو، نہ اس کے ساتھ ایسا مذاق کرو جس سے اسے تکلیف ہو اور نہ ایسا وعدہ کرو جسے پورا نہ کر سکو‘‘

حضورؐ کا یہ ارشاد بھی پڑھیے ’’تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنے بھائی کے لیے وہی بات پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘
جس گھر کے لوگ آپس میں میل محبت سے رہتے ہیں ایک دوسرے کے کام بڑھ چڑھ کر کرتے ہیں اور تکلیف میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں تو اس خاندان کے لوگ کتنے آرام سے زندگی گزارتے ہیں، خاندان معاشرے کی پہلی اکائی ہے یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ بہت سے خاندانوں کا مجموعہ معاشرہ کہلاتا ہے۔ ایک شہر یا ایک ملک کے لوگ مل کر ایک معاشرہ بانٹے ہیں، کسی شہر کے لوگوں کی عادتیں، اخلاق، طور طریقے، مزاج، رسمیں، رہنے سہنے اور کھانے پینے کے طریقے آپس میں ملنے جلنے کے انداز اس شہر کی زندگی کو آسان یا مشکل بناتے ہیں، اس شہر میں رہنے والا ہر شخص معاشرے پر اثر ڈالتا ہے اور اثر لیتا بھی ہے۔

حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے جو ہدایات دی ہیں اور خود اپنی زندگی میں اپنے عمل سے جو نمونہ یا معیار ہمیں عطا کیا ہے اس پر عمل کیا جائے تو خاندان اور معاشرے کے سب لوگوں کو سکون اور خوشی میسر آ سکتی ہے۔ حضورؐ خود بھی اپنے خاندان اور رشتوں کا بہت خیال رکھتے تھے آپؐ نے فرمایا ’’غریب، مسکین کو صدقہ دینے سے صرف صدقے کا ثواب ملتا ہے اور غریب رشتے دار کو دینے سے دہرا ثواب ملتا ہے۔‘‘ ایک صاحب آپؐ کی خدمت میں آئے اور سوال کیا کہ ’’یا رسول اﷲ! میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟‘‘
آپؐ نے فرمایا۔’’ تیری ماں۔‘‘
’’پوچھا پھر کون؟‘‘
فرمایا ’’تیری ماں۔‘‘
ان صاحب نے پھر پوچھا ’’پھر کون؟‘‘
فرمایا ’’تیری ماں‘‘
تین بار آپؐ نے ماں ہی کو حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق بتایا۔
چوتھی بار پوچھنے پر آپؐ نے فرمایا ’’تیرا باپ‘‘

حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں ہم پر سب سے زیادہ احسان ماں کا ہی ہوتا ہے ہمیں پالنے اور ہماری حفاظت کرنے کے لیے جو محنت ماں کرتی ہے اور اپنے آرام کی قربانی ماں دیتی ہے، وہ کوئی نہیں دے سکتا۔ ماں کے بعد باپ کا درجہ بھی اپنی اولاد کے لیے جو قربانی دیتا ہے وہ ماں کے بعد کسی سے کم نہیں۔
حضرت حلیمہ سعدیہؓ نے آپؐ کو دودھ پلایا تھا وہ آپؐ کی رضاعی ماں تھیں۔ آپؐ نے ایک بار ان کے قبیلے کی جنگی قیدیوں کو ان کی سفارش پر رہا فرمایا تھا۔ مہمان کی خاطر مدارات بھی اچھی زندگی کا ضروری حصہ ہے۔

حضورؐ نے مہمان کے آرام اور عزت کی تاکید فرمائی ہے۔ ارشاد ہے ’’جو شخص اﷲ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی عزت کرنی چاہیے، اپنے پڑوسی کو تکلیف نہیں دینی چاہیے‘‘ جو لوگ قریب رہتے ہیں چاہے وہ رشتے دار نہ ہوں لیکن رشتے داروں سے زیادہ ان سے واسطہ پڑتا ہے ان سے اچھے تعلقات انسان کی شرافت کا ثبوت ہیں۔ حضورؐ کا اعلان ہے ’’ مومن نہیں ہے، ﷲ کی قسم وہ مومن نہیں، ﷲ کی قسم وہ مومن نہیں ہے، جس کی بدی سے اس کا پڑوسی امن میں نہ ہو۔‘‘

آپؐ نے یہ بھی فرمایا ’’جو شخص پیٹ بھر کر کھا لے اور اس کے بازو میں اس کا پڑوسی بھوکا رہ جائے وہ ایمان نہیں رکھتا۔‘‘ ’’بہترین حاکم وہ ہے جو اپنی رعایا اور اپنے ماتحتوں کو نہ ستائے، بلکہ ان کے آرام کا خیال رکھے۔‘‘ حضورؐ کا ارشاد ہے ’’وہ شخص جنت میں داخل نہ ہو گا جو اپنے ماتحتوں پر بری طرح افسری کرے۔‘‘ اگر ہر شخص اپنی حیثیت کا خیال رکھے اور اس حیثیت سے اس کا جو فرض بنتا ہے وہ ادا کرتا رہے تو سب خوش رہیں گے اور کسی کو شکایت یا تکلیف نہیں ہو گی۔

سرکار دو عالم صلی اﷲ علیہ وسلم نے صرف چند الفاظ میں ایک ایسا نکتہ بیان فرمایا، جس کو سمجھ لیا جائے تو ہر طرف سکون اور راحت کا دور دورہ ہو جائے۔ آپؐ نے فرمایا ’’تم میں سے ہر ایک اپنی رعایا کا نگہبان ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کے بارے میں باز پرس ہو گی۔ مرد اپنی بیوی کا رکھوالا ہے۔ اس سے اس کی بیوی کی پوچھ ہو گی اور بیوی اپنے شوہر کے گھر کی نگراں ہے۔ اس سے اس کی پوچھ ہو گی۔‘‘ قرابت داروں یا رشتے داروں کا حق ادا کرنے سے معاشرے میں خوشی اور خوشحالی آتی ہے۔ قرآن پاک میں اﷲ تعالیٰ نے رشتوں کا خیال رکھنے کی ہدایت فرمائی ہے ’’اس ﷲ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو اور رشتے و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو‘‘ (سورۂ نساء آیت 1)

رشتے داروں کے حق ادا کرنے سے عمر بڑھتی ہے اور رزق میں برکت ہوتی ہے۔
حضور ؐ نے فرمایا ’’جس کو یہ پسند ہو کہ اس کی روزی میں وسعت ہو اور اس کی عمر میں برکت ہو تو اس کو چاہیے کہ صلہ رحمی کرے‘‘ (یعنی رشتے کا حق ادا کرے) رشتوں کا حق ادا کرنے سے زندگی میں آسانی پیدا ہوتی ہے اور محبت کے چشمے سے افرا تفری ختم کر کے معاشرے کو پر سکون، مستحکم اور شاداب کرتے ہیں۔

مسعود احمد برکاتی

Advertisements

دینی میسجز احتیاط سے شئیر کریں

اللہ تعالیٰ سچ بولنے کا تاکید کے ساتھ حکم دیتے ہیں اور جھوٹ بولنے سے سختی کے ساتھ منع فرماتے ہیں، اسلامی تعلیمات میں جھوٹ گناہ کبیرہ ہے، لیکن دلائل شریعت میں جھوٹ کی آمیزش کر دی جائے تو پھر یہ محض کبیرہ نہیں رہتا بلکہ اکبر الکبائر (بڑا گناہ) بن جاتا ہے۔ دین اسلام کی بنیاد محکم ، مضبوط ، معتبر ، معتمد اور مستند ہے اس میں کمزور، مشکوک باتیں، تک بندی اور اندازے نہیں چلتے۔ اسلام پر ایمان اور اس کے احکامات پر عمل کا مدار قرآن کریم کے بعد احادیث مبارکہ ہیں، قرآن کریم کے الفاظ ، معانی ، مفہوم ، تعین ، مراد اور حقیقت احادیث مبارکہ سے سمجھی جا سکتی ہے اس لیے یہاں سخت احتیاط کا حکم دیا ہے۔

علمائے امت نے احادیث کے الفاظ، معانی، مفہوم ، متون ، اسناد ، رواۃ (نقل کرنے والے افراد)، صحت و ثقاہت ، اس کی ضرورت، حجیت، حفاظت، جمع و تدوین کے ساتھ ساتھ اس کے اصول و قواعد ، اقسام و اسلوب اور روایت کرنے کے آداب و شرائط کو مکمل تفصیل ، خوب تحقیق اور عمدہ ترتیب کے ساتھ بیان کیا ہے ، اس کی حفاظت کے لیے اسماء الرجال اور جرح و تعدیل جیسے علوم کو ضروری قرار دیا تاکہ اسلام کی یہ بنیاد مضبوط ہی رہے۔ چونکہ یہ اسلام کی بنیاد ہے اس لیے اس کی اشاعت، حفاظت، تعلیم و تبلیغ اور تفہیم میں علماء کرام نے بہت محنت سے کام کیا ہے، محدثین اور کتب احادیث کے مختلف طبقات مقرر کیے گئے۔

یہ معاملہ اس قدر نازک اور حساس ہے کہ اگر کوئی شخص حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کسی بات یا کام کی نسبت جھوٹ کے طور پر کر دے، یعنی بات درست بھی ہو لیکن حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ارشاد نہ فرمائی ہو یا کام بلکہ درست اور جائز ہو لیکن حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نہ فرمایا ہو اور کوئی شخص اپنی طرف سے اس بات یا کام کی نسبت آپﷺکی طرف کر دے تو اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا: جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے (میری طرف کسی کام یا کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے) تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم بنا لے۔

ہاں ،سچی بات ضرور کہی جائے لیکن جو حدیث شریف نہ ہو اسے زبردستی حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بنا کر پیش نہ کیا جائے۔ یہ طرز عمل جہنم جانے کا سبب ہے۔ آج علمی زوال اور اخلاقی انحطاط اور عملی فقدان کا زمانہ ہے، عقائد میں کمزوریاں اور توہمات دَر آئے ہیں، اعمال میں بدعات و رواج شامل ہو گئے ہیں، اخلاق ، رسم محض اور اخلاص سے دل خالی ہو چکے ہیں۔ بد دینی کا مسافر لادینی کو اپنی منزل کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ ایسے میں دینی علم و عمل سے عاری اور اخلاق و اخلاص سے خالی جاہل طبقے نے اسلام کو مشق ستم بنا رکھا ہے۔ موسم کے مطابق دین کے نام پر میسجز بناتے ہیں ، نہ کسی معتبر عالم دین سے اس کی رہنمائی لیتے ہیں اور نہ ہی معتبر کتب کی طرف مراجعت کرتے ہیں ، بس ایک شوشہ چھوڑتے ہیں اور لاعلمی کی بنیاد پر ایک جھوٹی بات کو العیاذ باللہ حدیث بنا کر پیش کر دیتے ہیں اور اس کے بعد میسج بنا کر پھیلا دیتے ہیں ، پھر عوام ا س کو دھڑا دھڑ دین سمجھ کر آگے پھیلاتے ہیں۔

مثال کے طور یہ میسج چلایا جاتا رہا ہے کہ :’’ ربیع الاول شروع ہونے والا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے سب سے پہلے کسی کو ربیع الاول کی مبارک دی اس پر جنت واجب ہو گئی۔ ‘‘ جس مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات کی پیدائش ہوئی یقینا وہ مہینہ محترم ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس مہینے کی فضیلت بیان کرنے کے لیے جھوٹی اور بے بنیاد بات کو حدیث شریف بنا کر پیش کیا جائے۔ پھر ستم یہ ہے کہ سادہ لوح مسلمان اسے دین کا حکم سمجھ کر آگے پھیلاتے ہیں، میسج کے آخر یا شروع میں یہ بھی اضافہ کیا جاتا ہے کہ یہ میسج اور پوسٹ لائک اور شئیر ضرور کریں ، اتنے لوگوں کو فارورڈ کریں گے تو خوشی ملے گی ، اور اگر اس کو آگے نہ پھیلایا تو کوئی ناگہانی آفت اور صدمہ پیش آئے گا۔

یاد رکھیں ! شریعت اسلامیہ کی یہ تعلیمات ہرگز نہیں۔ دین اسلام کو پھیلانے کا حکم محض دس بارہ افراد تک محدود نہیں ، بلکہ جہاں تک انسان کی دسترس ہے وہاں تک دین کی صحیح ، ثابت شدہ اور اہل اسلام میں قابل عمل بات پر خود بھی عمل کرے کسی معتبر کتب سے دین کا مسئلہ خود پڑھے دوسرے کو بھی پڑھائے ، خود کسی معتبر عالم دین سے مسئلہ سیکھے دوسرے کو بھی سکھائے ، اس میں قباحت نہیں لیکن نہ تو دین کی معتبر کتب کا کچھ پتہ ہو اور نہ ہی اسلام کی مقتدر شخصیات سے رہنمائی لے بلکہ سوشل میڈیا پر چلتے پھرتے جھوٹے اور غیر ثابت شدہ میسجز کو دین سمجھ کر آگے پھیلاتے رہنا انجام کے اعتبار سے خسارے والی بات ہے۔

جو باتیں احادیث کی کتب میں صحیح طور پر منقول ہیں ،ان کو نقل کیا جائے اور ان سے سبق حاصل کیا جائے ، لیکن اعتدال اور حق سچ کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے ۔ اسلامی مہینوں میں ربیع الاول ، رمضان المبارک ، محرم الحرام ، صفر المظفر، رجب المرجب اور شعبان المعظم میں بے بنیاد اور جھوٹے میسجز بہت پھیلائے جاتے ہیں ، اس سے بچنے کا آسان سا طریقہ یہ ہے کہ میسجز پر تحقیق کر لی جائے ۔ علماء کی مذہبی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام کی اس بارے میں رہنمائی کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین پر چلنے اور گمراہیوں سے بچنے کی توفیق دے۔

مولانا محمد الیاس گھمن

یورپ میں مسلمانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، امریکی تھنک ٹینک

یورپ بھر میں مسلمانوں کی تعداد میں اضا فہ ہو رہا ہے۔ 2050 تک مسلمانوں کی تعداد یورپ کی کل آبادی کا گیارہ فیصد ہونے کا امکان ہے۔ امریکی تھنک ٹینک کی یورپ میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فی الحال مسلمان یورپ کی کل آبادی کا 5 فیصد ہیں اور پیو ریسرچ سینٹر نے امیگریشن کی 3 مختلف شرح کے اعتبار سے اندازے پیش کیے ہیں۔ پہلی صورت کے مطابق اگر قانونی اور غیر قانونی تارکین وطن کی آمد بند کر دی جائے تب بھی 30 یورپی ممالک میں مسلمان آبادی کا 7 اعشاریہ 4 فی صد تک ہو جائیں گے۔  اگر امیگریشن پناہ گزینوں کے بحران سے پہلے کی سطح پر آ جائے تو 2050 میں مسلمانوں کی آبادی آج کی نسبت دگنی یعنی 11 اعشاریہ 2 فیصد ہو جائے گی۔
تیسری صورت میں اگر پناہ گزینوں کی اسی طرح آمد جاری رہی تو مسلمان یورپ کی مجموعی آبادی کا 14 فی صد ہوں گے.

اسلامی بینکاری

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی شق 38 (ف) میں کہا گیا ہے کہ ریاست اس
بات کو یقینی بنائے گی کہ جتنی جلدی ممکن ہو (معیشت سے) ربوٰ (سود) کا خاتمہ کر دیا جائے۔ بدقسمتی سے ریاست کے تمام ستون دل و عمل سے نہیں چاہتے کہ ملکی معیشت سے سود کا خاتمہ ہو، کیونکہ اس سے مالدار اور طاقتور طبقوں کے ناجائز مفادات پر ضرب پڑے گی۔ وطن عزیز میں بہت زور و شور سے 1984ء سے ’’بلاسودی بینکاری‘‘ شروع کی گئی تھی۔ 18 برس بعد 2002ء میں حکومت اور اسٹیٹ بینک نے اس کو غیر اسلامی قرار دے کر ملک میں ’’اسلامی بینکاری‘‘ کا دوبارہ اجرا کیا۔ یہ نظام بھی جلد ہی اندیشوں اور تنقید کی زد میں آ گیا۔ ہم برس ہا برس سے ان ہی کالموں میں کہتے رہے ہیں:

  سورہ البقرہ کی آیت 279 سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن نے ربوٰ کو حرام اس لئے قرار دیا ہے کہ یہ ظلم کا سبب بنتا ہے مگر یہ امر مسلمہ ہے کہ اسلامی بینکاری کے جھنڈے تلے کام کرنے والے بینک مروجہ نظام کے تحت اگر چاہیں بھی تو اس ظلم کو ختم نہیں کر سکتے اور نہ ہی گزشتہ 15 برسوں میں کیا ہے۔

  اسٹیٹ بینک کا شریعہ بورڈ اس بات کو اچھی طرح سمجھتا ہے کہ مروجہ متوازی نظام بینکاری غیر اسلامی ہے مگر طویل عرصے سے اس نے اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔

 اسلامی بینکوں نے فنانسنگ (قرضوں) کے لئے جو طریقے اپنائے ہیں وہ شرعی مقاصد پورے نہیں کرتے کیونکہ اسلامی بینک کاروبار میں ہونے والے نقصان کی ذمہ داری قبول نہیں کر رہے جو کہ اسلامی بینکاری کی اساس ہے۔ ان بینکوں کو اسلامی بینک کہا ہی نہیں جا سکتا۔

  نفع و نقصان میں شرکت کی بنیاد پر مشارکہ کی جانب مرحلہ وار پیش قدمی کرنے کے بجائے فنانسنگ کے ایسے طریقے، یہ بینک اپنا رہے ہیں جو سودی نظام کے نقش پا پر ہیں۔

  متوازی نظام بینکاری اور حکومت و اسٹیٹ بینک کی پالیسیوں کے نتیجے میں سودی نظام بینکاری کو پاکستان میں دوام مل گیا ہے اور اس صدی کے آخر تک بھی پاکستانی معیشت سے سود کے خاتمے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

 پاکستان میں متوازی نظام بینکاری غیر معینہ مدت کیلئے نافذ کرنے کا غیر شرعی اور غیر آئینی فیصلہ 4 ستمبر 2001ء کو ایک اجلاس میں کیا گیا تھا جس میں فوجی آمر کے علاوہ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین اور کچھ ممبران سپریم کورٹ کی شریعت اپیلیٹ بیچ کے ایک سابق عالم جج اور گورنر اسٹیٹ بینک سمیت متعدد اہم شخصیات شریک تھیں۔ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے 14جون 2001ء کے فیصلے سے متصادم تھا مگر ان تمام علما اور گورنر اسٹیٹ بینک سمیت متعدد اعلیٰ سرکاری عہدہ داروں نے آمر کے دبائو پر یہ فیصلہ کیا۔

 کچھ اسلامی بینکوں کے شریعہ بورڈز نے یہ سرٹیفکیٹ جاری کیا ہے کہ ان کا بینک اپنے کھاتے داروں کو جو منافع دے رہا ہے وہ صرف اسٹیٹ بینک کی ہدایات کے مطابق ہے نہ کہ شریعت کے مطابق۔

  اسٹیٹ بینک نے بعد از خرابی بسیار 2012ء میں تسلیم کیا تھا کہ اسلامی بینکوں نے فنانسنگ کے جو طریقے اپنائے ہیں ان سے شرعی مقاصد حاصل نہیں ہو رہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں یہ اسلامی بینک شرعی مقاصد کے حصول سے مزید دور ہوئے ہیں۔

  اسٹیٹ بینک کے شریعہ بورڈ نے چند برس قبل بیع موجل پر مبنی ایک پروڈکٹ کی منظوری دی تھی۔ اس کے بعد اسلامی بینکوں نے ’جاری مشارکہ‘‘ کے نام سے بڑے پیمانے پر فنانسنگ شروع کی ہوئی ہے۔ ہماری تحقیق کے مطابق ان دونوں میں سود شامل ہے۔ یہی نہیں اسٹیٹ بینک کے شریعہ بورڈ نے 2 نومبر 2007ء کو تین ماہ کے لئے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی (علامتی) تجارت کے لئے ایک نئی پروڈکٹ ’’تورق‘‘ کی منظوری دی ہے جو شریعت کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتی اور اس میں سود کا عنصر شامل ہو گیا ہے۔ تخمینہ ہے کہ اس کے ذریعے اسلامی بینک کئی سو ارب روپے کی اپنے کھاتے داروں کی رقوم سودی بینکوں کو فراہم کریں گے چنانچہ کھاتے داروں کو ملنے والے منافع میں سود شامل ہو گا۔

  گزشتہ 26 برسوں میں بھی شرعی عدالتوں نے حتمی طور پر یہ فیصلہ نہیں دیا کہ ان کے مطابق اسلام میں سود حرام ہے یا نہیں۔ وفاقی شریعت عدالت میں ربوٰ کا مقدمہ 15 برسوں سے التوا کا شکار ہے۔ وزارت خزانہ نے 2002ء میں سپریم کورٹ میں حیرت انگیز سرعت سے ایک حلف نامہ داخل کرایا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ 30 جون 2001ء کو ملک پر سودی بنیاد پر لئے گئے صرف داخلی قرضوں کا مجموعی حجم 1800 ارب روپے ہے اور اس بڑے حجم کے قرضوں کو اسلامی نظام کےتحت تبدیل کرنے میں زبردست رکاوٹیں پیش آئیں گی چنانچہ اس کو کم کرنا ہو گا۔ جن 15 برسوں میں شرعی عدالت نے اس مقدمہ کو زیرسماعت رکھا اسی مدت میں ان داخلی قرضوں کا حجم 1600/ارب روپے سے تجاوز کر گیا۔ یہ امر تشویشناک ہے کہ ایک مربوط حکمت عملی کے تحت پاکستان میں اسلامی نظام بینکاری کے لئے ماحول اتنا زیادہ معاندانہ بنا دیا گیا ہے کہ اگر کسی وقت مروجہ اسلامی بینکاری کے نظام کو شرعی اصولوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی بھی جائے تو وہ آسانی سے کامیابی سے ہم کنار نہ ہو سکے۔

آئین پاکستان کی شق 203 (د) کے تحت وفاقی شرعی عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ازخود نوٹس لے کر بھی کسی بھی قانون کو قرآن و سنت کے منافی ہونے کی وجہ سے کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ وطن عزیز میں 30 جون 2017ء کو سودی بینکوں کی شاخوں کی مجموعی تعداد 12413 تھی۔ ان میں سے 11199 شاخیں سود پر مبنی کاروبار کر رہی تھیں۔ ملکی قانون کے تحت سودی بینکوں کے ملکی کرنسی کے تمام کھاتے سوائے جاری کھاتوں کے نفع و نقصان میں شرکت کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ یہ بینک طویل عرصے سے اسٹیٹ بینک کے غیر اسلامی احکامات کے تحت کھاتے داروں سے کئے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کھاتے داروں کو اپنے منافع میں شریک نہ کر کے ان کا استحصال کر رہے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے بی پی آر ڈی سرکلر نمبر 7 مورخہ 7 ستمبر 2013ء میں بینکوں کو احکامات دیئے تھے کہ وہ بچت کھاتے داروں کو دی جانیوالی شرح منافع کو اسٹیٹ بینک کی شرح سود سے منسلک کریں اور کم از کم شرح منافع اس شرح سے 50 پوائنٹ کم رکھیں (نہ کہ بینک کے منافع سے منسلک کریں حالانکہ یہ کھاتے نفع و نقصان میں شرکت کی بنیاد پر ہیں) اس ضمن میں اسٹیٹ بینک نے 8 مزید غیر اسلامی اور غیر آئینی سرکلرز کا اجرا کیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ وفاقی شرعی عدالت ان کا ازخود نوٹس لے کر انہیں غیر قانونی قرار دے اور اس ضمن میں مناسب احکامات جاری کرے تاکہ کھاتے داروں کیساتھ ہونیوالے ظلم کا خاتمہ ہونیکی راہ ہموار ہو۔ یہ سودی بینک پہلے خود اچھے بینک بنیں گے تب ہی وہ اپنی اسلامی شاخوں کواسلامی بینکاری کے مطابق چلانے کی کوشش کر سکیں گے۔

قرآن نے ربٰو کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف جنگ قرار دیا ہے۔ پارلیمنٹ، شرعی عدالتیں، اسلامی نظریاتی کونسل، اسٹیٹ بینک، اسٹیٹ بینک کا شریعہ بورڈ اور دینی و مذہبی جماعتیں بھی گزشتہ کئی دہائیوں سے اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں یقیناً ناکام رہی ہیں۔ اللہ تو قیامت کے روز ان سے ان معاملات پر سوال ضرور کرے گا مگر ملک کے کروڑوں عاشقان رسولؐ کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ کاروبار زندگی میں رخنہ ڈالے بغیر پرزور مگر پر امن احتجاج کا راستہ اپنائیں تاکہ وفاقی و صوبائی حکومتوں، ریاستی اداروں اور اسٹیٹ بینک اور اس کے شریعہ بورڈ کو مجبور کیا جا سکے کہ وہ سود حرام قرار دینے، متوازی نظام بینکاری کے خاتمے اور اسلامی بینکاری کو شریعت کی روح کے مطابق ڈھالنے کے ضمن میں فوری طور پر اقدامات اٹھائیں۔

ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی

مغرب میں اسلام، مشرق میں کفر کا فروغ

میں دقیانوسی ہوں! یہ بلاگ پڑھنے کے بعد شاید آپ یہی نتیجہ اخذ کریں۔ لیکن آزادئ اظہار کے اس دور میں مجھے بھی اسی طرح اپنے خیالات بیان کرنے کی آزادی ہے جیسے ہر کس و ناکس کے پاس ہے۔ اجازت دیجیے کہ میں بھی اس آزادی کا کچھ فائدہ اٹھاؤں اور اپنے خیالات آپ تک پہنچاؤں۔ مشرقی و مغربی تہذیبوں میں ازل ہی سے زمین آسمان کا فرق رہا ہے۔ مشرق روشنی کا پتا دیتا ہے اور مغرب تاریکی کے چرچے کرتا ہے، مشرق شرم و حیا اور غیرت کی ترغیب دیتا ہے تو مغرب شرم و حیا کے معاملے میں انسانیت کے مقام سے مکمل طور پر گرتا دکھائی دیتا ہے۔ لیکن اب حالات شاید بدل رہے ہیں، اب گنگا الٹی سمت بہنے لگی ہے۔

پچھلے دنوں اسلام آباد میں ’’Islamabad Eat‘‘ کے نام سے ایک فیسٹیول منعقد کیا گیا۔ بظاہر اس محفل کا نام تو کھانے پینے ہی کا تاثر دیتا ہے مگر درحقیقت وہاں جو کچھ ہوا وہ یقیناً اسلام کے نام لیواؤں، پاکستانی قوم اور مشرقی اقدار کے بالکل متضاد تھا۔ مرد و زن کا اختلاط اور خواتین کا مغربی طرز کا لباس زیب تن کرنا تو ایک طرف کیونکہ اس میں تو اب شاید اس قوم کو کوئی قباحت نظر ہی نہیں آتی۔ عورتوں کا لباس کے ذریعے اپنے جسموں کی نمائش جائز اور مرد و زن کا بلا جھجھک میل جول حلال سمجھا جانے لگا ہے۔ مشرقی تہذیب کو جھٹک کر مغربی تہذیب کو گلے سے لگا لیا گیا ہے۔ لیکن میرا سوال صرف اتنا ہے کہ اپنے ساتھ ساتھ نئی نسل کو اس سب میں کیوں لگایا جائے؟ کیوں آنے والی نسل کو مشرقی تہذیب کا باغی بنا کر نام نہاد مغربی تہذیب کی دلدل میں دھکیلا جا رہا ہے؟ اس نسل کو تو خالد کی تلوار اور حیدر کی للکار بننا ہے۔ اسے اماں عائشہ صدیقہ ؓ کی پاکیزگی کا عملی نمونہ بننا ہے اور بلال ؓ کی قربانیوں کو تازہ کرنا ہے۔

آج اس معاملے پر قلم اٹھانے پر مجبور اس 9 سالہ بچی نے کیا ہے جسے اس کے والدین اس محفل میں لائے اور وہاں موجود اسٹیج پر چڑھا کر انگریز گلوکار کا گانا Despacito گوایا۔ مغربی لباس زیب تن کیے اس معصوم بچی کو یہ کیا سکھایا جا رہا ہے؟ مسلمان ہونے کے ناطے، ایک اللہ و آخری رسولﷺ کو ماننے والی وہ معصوم بچی جسے شریعت کے احکامات جاننے تھے، جسے اپنی حدود سمجھنا تھیں، جسے اسلام کے قوانین پر عمل پیرا ہونے کی تعلیم دی جانی تھی، اس معصوم بچی کو اسٹیج پر چڑھا کر یہ کیا کروایا جا رہا ہے؟ کیا یہ اللہ و رسولﷺ سے بغاوت نہیں؟ اس ناسمجھ بچی کو کیوں اللہ و رسولﷺ کے احکامات و تعلیمات سے روگردانی سکھائی جا رہی ہے؟ اور پھر اس پر مستزاد یہ کہ حوصلہ افزائی بھی ہو رہی ہے۔ کیا بچی کی اس صلاحیت کو ہم مثبت انداز میں نہیں ڈھال سکتے؟ کیوں ہم اس ننھی بچی کی اس قابلیت کو اسلام کی فلاح کے لیے استعمال نہیں کرتے؟

دوسری طرف اگر دیکھا جائے تو مغرب میں روزانہ سیکڑوں ہزاروں افراد اسلام کے نور سے منور ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف امریکا کی جیلوں میں 2001 سے 2014 کے درمیان 250،000 قیدی اسلام قبول کر چکے ہیں۔ ذرا سوچیے کہ اگر یہ تعداد صرف امریکا کی ہے اور امریکا میں بھی صرف جیل میں بند قیدیوں کے اسلام قبول کرنے کی تعداد ہے تو باقی مغرب میں یہ تعداد کتنی ہو گی؟

ایک رپورٹ کے مطابق 2050-2070 تک برطانیہ میں مسلمانوں کی اکثریت ہو جائے گی۔ ایک اور تجزیئے کے مطابق امریکا میں 2040 تک مسلمانوں کی اکثریت ہو جائے گی۔ وہ مغرب جہاں آج بھی تاریکی کا دور دورہ ہے، جو تمام تر فتنوں کی آماجگاہ ہے وہاں اسلام کا نور کس قدر تیزی سے پھیل رہا ہے۔ مگر افسوس صد افسوس کہ جس طرزِ زندگی و طرزِ معاشرت سے مغرب جان چھڑانا چاہ رہا ہے اسے ہم مسلمان، خصوصاً مشرقی لوگ کس قدر جنونیت سے اپنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ مغربی لباس کا یوں عام ہونا، غیرشرعی تعلقات (بوائےفرینڈ/ گرل فرینڈ) کی لت میں پڑنا مغربی تہذیب کی اندھی تقلید نہیں تو اور کیا ہے؟
لیکن یاد رکھیے! ہم اگر پیدائشی مسلمان ہیں تو یہ بات ہماری بخشش کےلیے کافی نہیں، بلکہ اسلام پر عمل پیرا ہو کر ہی رب سے بخشش کی تمنا کر سکتے ہیں۔ وہ وحدہ لاشریک ذات، وہ ہر شے پر قادر رب اپنے دین کا کام اور لوگوں سے بھی لے سکتا ہے۔ اور پھر بات یہی ہو گی کہ ’پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے۔‘

خدارا جاگ جائیے۔ اپنی آنکھیں کھول لیجیے کہ ہم آنکھیں بند ہونے کی وجہ سے گہری تاریک کھائی میں گرنے جا رہے ہیں۔ گزارش بس اتنی سی ہے کہ جس دنیا کو ہم نے دل میں بسایا ہے وہ دنیا ختم ہونے والی ہے۔ اور یہ بات صرف مذہب کے پیروکار ہی نہیں، ملحد بھی مانتے ہیں۔ تو آخر کیوں ایسی دنیا میں، چند روزہ بےاعتبار زندگی کی خاطر اس رب کے احکام توڑیں جس پر ایمان لانے کے دعوے کرتے ہیں؟ کیوں ایسی بے وفا زندگی کےلیے اس محبوبﷺ کے دل کو ہر لمحہ تکلیف پہنچائیں جو اس جہانِ فانی میں اپنے آخری لمحات کے دوران بھی صرف ہمیں ہی یاد کرتا رہا؟

اگر یہ باتیں دقیانوسی لگتی ہیں تو صرف اتنی گزارش کرنا چاہوں گا کہ اس دقیانوسیت کو دل سے اپنا کر ماڈرن بننے میں کوئی قباحت نہیں۔ پرانے خیالات پر کاربند رہ کر نئے خیالات پر عمل کرنے میں برائی نہیں۔ ماڈرن بنیے لیکن شرعی حدود کے اندر۔ نئے خیالات اپنائیے مگر ذہن میں رکھیے کہ اللہ و رسولﷺ کے احکامات توڑ کر ان کی بغاوت میں سراسر ناکامی ہے۔ خدارا اپنے بچوں کو اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت سکھائیے، ان کے احکامات سمجھائیے، ان کی تعلیمات ازبر کرائیے، انہیں اسلام کے پہریدار اور مشرقی تہذیب کے محافظ بنائیے۔ ورنہ تاریخ ہمیں ایسے مٹا دے گی کہ پھر ہماری داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں۔

اسد یوسفزئی

آبِ زمزم : کنوئیں میں پانی آتا کہاں سے ہے ؟

مکہ مکرمہ میں زمزم کے کنوئیں سے پانی نکلنے کا سلسلہ ہزاروں برس سے جاری ہے۔ دینی متون کے مطابق یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا جب کہ اس کے برعکس دنیا کا ہر پانی قیامت سے قبل معدوم ہو جائے گا۔ زمزم کا پانی کہاں سے آتا ہے اور اس کا ذائقہ امتیازی نوعیت کا کیوں ہے ؟ ان سوالات کو العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ڈاکٹر انجینئر یحیی کوشک کے سامنے رکھا جنہوں نے امریکا کی واشنگٹن یونیورسٹی سے Environmental engineering میں اسپیشلائزیشن کر رکھی ہے۔ وہ پانی کے امور کے پہلے سعودی ماہر اور زمزم کے کنوئیں کی تجدید کے منصوبے کے نگراں بھی ہیں۔ وہ زمزم کے کنوئیں کے بارے میں مستند علمی اور تاریخی معلومات کا ذخیرہ رکھتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر کوشک نے واضح کیا کہ زمزم کے کنوئیں کے ظہور کا واقعہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنی زوجہ ہاجرہ اور شیرخوار بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو اس ویران بیابان میں چھوڑا تو بچے کو پیاس لگی۔ اس موقع پر ماں نے صفا ور مروہ کے درمیان بے قراری میں دوڑ لگائی اور اپنے رب سے مدد مانگی۔ اللہ رب العزت نے جبریل علیہ السلام کو بھیجا جنہوں نے زمین اور پہاڑ کو اپنے پر سے ضرب لگائی۔ اس ضرب کو “ہزمۃ جبریل” کا نام دیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مکہ کے پڑوس میں واقع پہاڑوں کے دامنوں میں شگاف پڑ گئے۔ ان میں پانی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود تھا۔

ڈاکٹر کوشک کے مطابق پہاڑوں کے اندر جمع شدہ پانی کنوئیں کے مقام تک پہنچ گیا جہاں شیرخوار حضرت اسماعیل کے قدموں کے نیچے سے پانی پھوٹ پڑا۔ یہ مقام خانہ کعبہ سے 21 میٹر کے فاصلے پر ہے التبہ اُس وقت تک بیت اللہ تعمیر نہیں ہوا تھا۔ کوشک نے بتایا کہ یہ پانی چٹانوں کے تین شگافوں کے ذریعے کنوئیں میں جمع ہوتا ہے جو خانہ کعبہ کے نیچے اور صفا اور مروہ کی سمت پھیلی ہوئی ہیں۔ کوشک کا کہنا ہے کہ زمزم کا پانی جنت سے نہیں آتا جیسا کہ لوگوں میں مشہور ہے۔ زمزم کے پانی کے منفرد ذائقے کا راز بتاتے ہوئے کوشک کا کہنا تھا کہ اس کا تعلق پانی کے مخصوص سمتوں سے معینّہ چٹانوں کے ذریعے گزرنے سے ہے۔ کوئی بھی پانی جو ان مقامات سے پھوٹے گا اور کنوئیں کی گہرائی میں گرے گا وہ آب زمزم جیسے ذائقے اور خصوصیات کا حامل ہو گا۔

آبِ زمزم کے 60 نام
آب زمزم کے 60 سے زیادہ نام ہیں۔ ان میں مشہور ترین نام زمزم ، سقیا الحاج ، شراب الابرار ، طیبۃ ، برۃ ، برکۃ اور عافیہ ہیں۔ مکہ مکرمہ کے لوگ قدیم زمانے سے ہی اپنے مہمانوں کے اکرام کے لیے ان کا استقبال آب زمزم سے کیا کرتے تھے۔ اس پانی کو مٹی کی صراحیوں میں مصطگی کے گوند کی دھونی دے کر مہمانوں کو پیش کیا جاتا تھا۔ اس مہک کے سبب یہ پینے والوں کو زیادہ محبوب ہوتا تھا۔ مکہ مکرمہ میں یہ رواج آج بھی باقی ہے جب کہ ماہ رمضان میں افطار کے دسترخوانوں پر کھجور کے ساتھ صرف آب زمزم ہی پیش کیا جاتا ہے۔ مکہ کے رہنے والوں کی خواہش ہوتی ہے کہ اُن کے مردوں کو تدفین سے قبل آب زمزم سے غسل دیا جائے۔ علاوہ ازیں ہر حاجی اور معتمر اس کو اپنے وطن میں موجود عزیز و اقارب کے واسطے بطور ہدیہ لے کر لوٹتے ہیں۔

جدہ – حسن الجابر

ہر دور کا امیر ترین شخص ایک مسلمان

آمیزون کے بانی جیف بیزوز نے گزشتہ دنوں سو ارب ڈالرز کے مالک ہونے کا سنگ میل طے کیا تھا اور یہ جدید تاریخ میں پہلا موقع تھا جب کوئی فرد اتنی دولت کا مالک بنا۔ مگر حقیقت تو یہ ہے کہ ہر دور کا امیر ترین شخص ایک مسلمان بادشاہ تھا اور آمیزون کے بانی تو اس کے مقابلے میں غریب ہی قرار دیئے جا سکتے ہیں۔ ٹائم میگزین نے 14 ویں صدی میں افریقی ملک مالی پر حکمرانی کرنے والے بادشاہ منسا موسیٰ کو ہر دور کا امیر ترین شخص قرار دیا ہے۔
درحقیقت جریدے کے مطابق اگر یہ سوال کیا جائے کہ منسا موسیٰ کتنے امیر تھے تو اس کا جواب ہے کہ ان کی دولت کا بالکل اندازہ لگانا ناممکن ہے۔

ماہرین کے مطابق موسیٰ اتنے امیر تھے کہ لوگوں کے لیے ان کے اثاثوں کا تخمینہ لگانا مشکل تھا۔ ان کے بقول یہ وہ امیر ترین شخص ہے جسے اس دور کے لوگوں نے دیکھا تھا تاریخ دان اس کی وضاحت کی کوشش کرتے ہیں اور ان کو سمجھ نہیں آتا کہ اس کو کیسے بیان کرے۔ سلطنت مالی کے اس سب سے مشہور حکمران نے 1312 سے 1337ءتک حکومت کی اور اپنی سلطنت کو عروج پر پہنچا دیا۔ اس دور میں مالی کی سلطنت مغرب میں بحراوقیانوس اور شمال میں تفازہ کی نمک کی کانوں سے جنوب میں ساحلی جنگلات تک پھیل گئی تھی۔ اس حکمران کو سب سے زیادہ شہرت 1324ء میں کیے جانے والے سفر حج کی وجہ سے ملی۔

اس سفر میں منسا موسیٰ نے اس کثرت سے سونا خرچ کیا کہ مصر میں سونے کی قیمتیں کئی سال تک گری رہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس دور میں مالی سونا پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک تھا اور اس کی طلب بہت زیادہ تھی۔ جب کوئی بھی موسیٰ کی دولت کا تخمینہ نہیں لگا سکتا تو اس کا مطلب ہے کہ وہ بہت بہت زیادہ امیر ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس مسلم حکمران کو ہر دور کے سب سے امیر ترین شخص کا اعزاز دیا گیا ہے۔