اب حرمین شریفین میں سیلفی بنانے پر کیمرہ یا موبائل ضبط ہو سکتا ہے؟

سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے مملکت میں تمام سفارت خانوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو حرمین شریفین کی حدود میں تصویر کشی سے باز رکھیں۔ اس ضمن میں وزارت خارجہ نے سعودی وزارت حج وعمرہ کی طرف سے جاری کئے جانے والے نوٹیفکیشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مملکت آنے والے معتمرین اور عازمین حج کو اس بات سے آگاہ کر دیا جائے کہ وہ حرمین میں اپنے موبائل یا کیمروں سے سیلفیاں اور تصاویر نہ بنائیں۔ خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

انڈونیشی اخبار نے اس حوالے سے خبر شائع کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈونیشی وزارت مذہبی امور کی جانب سے تمام عمرہ ٹور آپریٹرز کو سرکلر جاری کر دیئے گئے ہیں تاکہ وہ اپنے زیر انتظام آنے والے معتمرین و عازمین کو اس بارے میں آگاہ کر دیں کہ کسی بھی صورت میں حرمین میں تصویر کشی نہ کی جائے۔
درایں اثناء مقامی ذرائع کے مطابق وزارت حج کی جانب سے جاری کئے گئے سرکلر میں اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ مختلف ممالک سے آنے والے معتمرین اور حجاج حرمین شریفین میں اپنا زیادہ وقت تصویر کشی میں ضائع کرتے ہیں جس سے ان کی اور دوسروں کی عبادت میں خلل پڑتا ہے۔

یہ لوگ حرمین شریفین میں تصویریں بنا کر انہیں سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دیتے ہیں۔ وزارت کی جانب سے جاری کردہ سرکلر میں مزید کہا گیا ہے کہ ایسے معتمرین اور حجاج کرام جو اپنے موبائل فون، کیمرے یا وڈیو کیمروں کے ذریعے حرمین شریفین کے اندر یا باہر تصاویر بنائیں گے ان کے کیمرے اور موبائل ضبط بھی کئے جا سکتے ہیں۔ اس ضمن میں متعلقہ اداروں کو بھی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ اس امر کو یقینی بنائیں کہ کوئی معتمر یا حاجی حرمین شریفین میں تصویر کشی نہ کر سکے۔

Advertisements

حرمین ٹرین چل پڑی، پہلے قافلے کی مکہ آمد

سعودی عرب اور کئی دوسرے ملکوں کے اشتراک سے شروع کیے گئے حرمین ٹرین منصوبے کی تکمیل کے بعد پہلی حرمین ٹرین جدہ سے مکہ مکرمہ پہنچ گئی۔ عرب ٹی وی کے مطابق حرمین ٹرین کی باقاعدہ سروسز کا آغاز کر دیا گیا۔ پہلی حرمین ریل گاڑی سرکاری عہدیداروں کو لے کر مکہ پہنچی۔ سعودی عرب اور غیر ملکی کمپنیوں کے اشترک سے کئی سال قبل برقی دوہری الیکٹرک ریلوے پٹری بچھانے کا کام شروع کیا گیا تھا۔

ساڑھے چار سو کلو میٹر طویل ریلوے لائن کی تکمیل پر 63 ارب سعودی ریال کی رقم خرچ کی گئی ہے۔ گزشتہ روز سرکاری وفد کو لے کر مکہ پہنچنے والی پہلی حرمین ٹرین میں متعدد وزراء، شہزادے اور دیگر اہم شخصیات سوار تھیں۔ ان میں سعودی فرمانروا کے مشیر اور مکہ کے گورنر شہزادہ خالد الفیصل، دیگرافراد سوار تھے۔ حرمین ریل سروس کا مقصد عازمین عمرہ بالخصوص حج سیزن میں حجاج کرام کو ٹرانسپورٹ کی سہولت مہیا کرنا ہے۔ حرمین ریل سروس سے سالانہ 35 لاکھ عازمین حج، 40 لاکھ معتمرین اور 60 لاکھ عام مسافروں کو تیز رفتار سفری سہولت میسر ہو گی۔

حرمین ریلوے لائن پر پانچ اہم اسٹیشن بنائے گئے ہیں۔ مکہ مکرمہ سے ہوتے ہوئے یہ ریلوے لائن جدہ، شاہ عبداللہ اکنامک سٹی اور وہاں سے مدینہ منورہ تک جائے گی۔ حرمین ریل گاڑی کے چلنے سے مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ کے درمیان سات گھنٹے کی مسافت کم ہو کر 150 منٹ پر آجائے گی۔ حرمین ریل کی کل 35 بوگیاں ہوں گی اور ایک بوگی میں 417 افراد کے سوار ہونے کی گنجائش ہو گی۔

جبل احد : محمد عربی ﷺ کی نبوت کا داستان گو

’جبل احد‘ کا شمار جزیرہ نما عرب کے نمایاں پہاڑوں میں ہوتا ہے۔ یہ محض ایک پہاڑ ہی نہیں بلکہ مدینہ منورہ میں اسلامی تاریخ کا ایک اہم تاریخی اور جغرافیائی ’لینڈ مارک‘ ہے۔ صرف اہالیان مدینہ منورہ ہی نہیں بلکہ دنیا بھر سے آنے والے عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس پہاڑ کی زیارت کو اپنے لیے باعث شرف سمجھتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس پہاڑ سے بہت محبت فرماتے تھے۔ حضرت انس سے مروی ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا ’احد پہاڑ ہم سے اور اہم اس سے محبت کرتے ہیں‘۔

’جبل احد‘ کئی قابل ذکر خصوصیات کا حامل ہے۔ ان میں سب سے اہم پہاڑ کی آتش فشاں چٹانیں ہیں۔ اس میں کئی تاریخی وادیاں، گھاٹیاں، قلعے، کھجور کے درخت اپنی خاص پہچان رکھتے ہیں۔ یہ پہاڑ صدیوں سے مقامی لوگوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ تجزیہ نگار اور مورخ ڈاکٹر تنیضب الفایدی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے جبل احد کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ کئی احادیث مبارک میں احد پہاڑ کا ذکر ہے۔ بخاری، ابو داؤد اور ترمذی شریف میں بیان کردہ حدیث کے الفاظ کچھ یوں ہیں’(أثبتْ أحد فإنـما عليك نبي وصديق وشهيدان)۔ احد نے ثابت کیا کہ تجھ پر ایک نبی ایک صدیق اور دو شہید آئے۔

جبل احد کے نام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سعودی تجزیہ نگار نےکہا کہ اس پہاڑ کا ’احد‘ نام پڑنے کی وجہ اس کے پہاڑوں کا باہم متحد ہونا بھی ہوسکتا ہے۔ پہاڑ کے جنوبی حصے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ  نے قربانیاں دیں اور بہادری کے بے مثال نمونے قائم کئے۔ اگر غزہ احد کا تذکرہ نہ ہو غزوات رسول کا تذکرہ نامکمل رہے گا۔

کیا آپ خانہ کعبہ کے ان 13 حصوں کے نام جانتے ہیں ؟

خانہ کعبہ روئے زمین پر مسلمانوں کے لیے نماز کا قبلہ ہے اور حجاج کرام اس کے گرد طواف کرتے ہیں۔ یہ مربع شکل کے ایک بڑے کمرے کی صورت میں نظر آتا ہے جس کی اونچائی 15 میٹر ہے۔ خانہ کعبہ سے ملحق مختلف چھوٹی تعمیرات اور حصّے ہیں جو اسی کا حصہ بن گئے ہیں۔ ان کی تعداد 13 ہے اور ہر ایک کا اپنا نام ہے۔ امور حرمین کے محقق محیی الدین الہاشمی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں واضح کیا کہ ان حصوں کے نام قدیم اور ہزاروں سالوں سے معروف ہیں۔ یہ حضرت ابراہیم (عليہ السلام) کے ہاتھوں بیت اللہ کی تعمیر کے وقت سے اسی طرح ہیں۔ عرب ان سے متعارف ہوئے اور اسلام نے بھی ان کو تسلیم کیا لہذا یہ نام آج تک بنا تبدیلی کے باقی ہیں۔ بالخصوص احادیث نبوی ﷺ میں ان ناموں کی تصدیق ملتی ہے۔

یہ 13 اجزاء درجِ ذیل ہیں :

  ۔ حجر اسود : یہ کعبے کا مشہور و معروف ترین حصّہ ہے۔ یہاں سے طواف کی ابتدا ہوتی ہے اور مسلمانوں کے نزدیک اس کا بوسہ سنت ہے۔ بعض احادیث نبوی ﷺ کے مطابق یہ جنت کے پتھروں میں سے ہے۔

 ۔ کعبے کا دروازہ : یہ بیت اللہ کی مشرقی سمت واقع ہے۔ یہ زمین سے 2 میٹر سے زیادہ بلند ہے۔ اس کی اونچائی 3 میٹر سے زیادہ ہے جب کہ چوڑائی کم از کم 2 میٹر ہے۔ چودہ سو برسوں کے دوران خلفاء اور امراء نے اس دروازے کی زیب و زینت پر خصوصی توجہ دی اور اس کو سونے اور چاندی کے لباس سے آراستہ کر دیا۔

 ۔ میزاب : اس کو “میزابِ رحمت” کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ خانہ کعبہ کی چھت پر گرنے والا بارش کا پانی اسی کے ذریعے حطیم کے اندر گرتا ہے۔

  ۔ شاذروان : یہ خانہ کعبہ کی نچلی دیوار کے گرد نصب سنگ مرمر ہے۔ یہ بیت اللہ کے دروازے کے سوا کعبے کی تمام سمتوں میں موجود ہے۔

 ۔ حجرِ اسماعیل : خانہ کعبہ سے علاحدہ ہو جانے کے سبب یہ حصہ حطیم کہلاتا ہے۔ قریش نے خانہ کعبہ کی تعمیر نو کی تو اس حصے کو چھوڑ دیا تھا کیوں کہ وہ اس بات کے خواہش مند تھے کہ تعمیر پاک مال سے ہونا چاہیے۔

  ۔ مُلتزم : طواف کرنے والوں کے اس جگہ پر التزام کے سبب یہ ملتزم کہلاتا ہے۔ ماضی میں بعض قصور وار اور مجرم اپنے قتل سے فرار اختیار کر کے یہاں آ جاتے تھے۔ اس وجہ سے عربوں میں شدید جرم کے مرتکب شخص کے لیے یہ ضرب المثل مشہور ہو گئی کہ “اگر وہ مجھے ملتزم پر بھی مل جاتا تو میں اس کو قتل کر دیتا”۔

  ۔ مقامِ ابراہیم : بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ خانہ کعبہ کا حصہ ہے تاہم علاحدہ ہو گیا۔ اس میں ایک چٹان ہے جس میں پاؤں کے نشانات نقش ہیں۔ یہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاؤں کی جانب کنایہ ہے جب اللہ رب العزت نے ان کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو حج کی اجازت دیں۔

 ۔ رُکنِ حجر اسود : یہ کونا خانہ کعبہ کے اوپر سے نیچے تک پھیلا ہوا ہے۔ اسی میں حجرِ اسود نصب ہے۔ یہاں سے طواف شروع کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ خانہ کعبہ کے اہم کونوں میں سے ہے۔

  ۔ رُکنِ یمانی : یہ کونا کعبے کے دائیں جانب واقع ہے اسی وجہ سے یمین سے یمانی مشہور ہوا۔

 ۔ رُکنِ شامی : یہ کونا شام کی سمت ہے لہذا اس نام سے مشہور ہوا۔

  ۔ رُکنِ عراقی : یہ کونا عراق کی سمت ہے۔ پرانے وقتوں میں حج کے راستوں کے نام اُن ملکوں کے ناموں پر پڑ جاتے تھے جہاں سے حجاج آ رہے ہوتے۔ اس زمانے سے ہی یہ کونے مختلف ملکوں کے نام سے موسوم ہو گئے۔

 ۔ کعبے کا غلاف : یہ خانہ کعبہ کا مشہور ترین جُز ہے جو کہ ظاہر میں بھی نمایاں ترین نظر آتا ہے۔ سب سے پہلے کعبہ کو یمن کی تبع قوم نے غلاف پہنایا۔ اس کے بعد بادشاہ اور فرماں روا اس پر عمل پیرا رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ پر سفید غلاف چڑھایا جب کہ اسلام سے قبل یہ سُرخ رنگ کا ہوتا تھا۔ بعد ازاں یہ سبز رنگ میں منتقل ہوا اور آخر میں سیاہ رنگ جو کہ ابھی تک باقی ہے۔

 ۔ بُھورے سنگ مرمر کی پٹی : یہ حجرِ اسود کے کونے کی سمت سے زمین پر کھینچی گئی ایک لکیر ہے جو طواف کی ابتدا اور اختتام کی علامت ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ ـ محمد الحربی

ایک مسلمان جو امریکا میں ہزاروں مرتے ہوئے بچوں کا سہارا ہے

امریکہ میں ایک مسیحا ایسا بھی ہے جو جان لیوا مرض کے شکار معصوم بچوں کو اپنے گھر میں رکھ کر انہیں ہر ممکن حد تک خوش رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ مریض بچے کسی بھی وقت موت کے منہ میں جا سکتے ہیں۔ 62 سالہ محمد بزیک ایک عرصے قبل لیبیا سے امریکہ آئے تھے اور گزشتہ 20 برس سے وہ ایسے بچوں کو گود لے کر کفالت کر رہے ہیں جو ہسپتال جا کر صرف موت کے شکار ہوتے ہیں۔ محمد بزیک انہیں ہر ممکن طور پر خوش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں ہنساتے ہیں اور امید دلاتے ہیں۔ صرف لاس اینجلس ہی میں 35000 ایسے بچے ہیں جو میڈیکل کیس مینجمنٹ سروسز کے تحت آتے ہیں۔ ان کی طبی ضروریات بھی بہت خاص ہوتی ہیں اور ان بچوں کو گھر کے پیار کی شدید ضرورت ہوتی ہے جبکہ محمد بزیک وہ واحد شخص ہیں جو انہیں گھر کا ماحول فراہم کرتے ہیں۔

لاس اینجلس میں ڈپارٹمنٹ آف چلڈرن اینڈ فیملی سروسز (ڈی سی ایف ایس) کی میلسا ٹسٹرمین کہتی ہیں کہ جب کوئی ہمیں کسی بچے کو گھر کا ماحول فراہم کرنے کی درخواست کرتا ہے تو ہمارے ذہن میں صرف محمد بزیک کا نام آتا ہے۔ ’ایسے انتہائی حساس بچوں کو صرف محمد بزیک ہی دیکھ سکتا ہے،‘ انہوں نے کہا۔ 1978 میں محمد بزیک لیبیا سے کیلیفورنیا آئے تھے اور یہاں ایک خاتون بیمار بچوں کی اسی طرح کفالت کر رہی تھی اور ان کا گھر ایسے بچوں کےلیے ایمرجنسی پناہ گاہ کا درجہ رکھتا تھا۔ محمد بزیک نے 1989 میں ان خاتون سے شادی کر لی اور پھر یہ دونوں مل کر انتہائی بیمار بچوں کی کفالت کرنے لگے۔
اس کے بعد بزیک نے ایک سال میں درجنوں بچوں کو گود لیا۔ بعد ازاں انہوں نے آس پاس کے اسکولوں اور کالجوں میں ایسے بیمار بچوں کی نگہداشت اور موت برداشت کرنے کے لیے کلاسیں فراہم کرنا شروع کر دیں۔ ان کی بیوی کا نام ڈان تھا جو مقبول ہوتے ہوتے امریکہ کی سب سے مشہور فوسٹر ماں یعنی پرورش کرنے والی خاتون کہلائیں۔

پھر 1991 میں پہلے بچے کا انتقال ہو گیا اور اس کے بعد انہوں نے صرف ایسے بچوں کو گود لیا جو پیدائشی طورپر کینسر یا کسی اور جان لیوا بیماری کے شکار تھے اور اپنی موت کی جانب بڑھ رہے تھے۔ واضح رہے کہ کوئی بھی ان بچوں کو قبول نہیں کرنا چاہتا۔ ’اصل بات یہ ہے کہ ان بیمار بچوں کو عین اپنے بچوں کی طرح پیار کیا جائے۔ میں جانتا ہوں کہ وہ موت کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ میں انسان ہونے کے ناتے پوری کوشش کرتا ہوں کہ انہیں سب کچھ دے سکوں اور انہیں بعد میں اللہ کے حوالے کر دیا جائے،‘ بزیک نے بتایا۔ 1997 میں بزیک کا ایک ہی حقیقی بیٹا تھا جس کا نام آدم رکھا گیا۔ آدم کا قد چھوٹا رہ گیا اور اس کی ہڈیاں بہت بہت کمزور تھیں۔ یہاں تک کہ پیمپر تبدیل کراتے ہوئے بھی اس کی ہڈیاں ٹوٹنے کا خطرہ ہوتا تھا۔ ان سب کے باوجود محمد بزیک نے خندہ پیشانی سے اس کی پرورش کی۔ پھر 2000 میں ان کی بیگم طویل علالت کا شکار ہوئیں اور 2015 میں فوت ہو گئیں۔

مسلمان سب سے زیادہ ہو جائیں گے

اگلے 20 سالوں میں مسلمان گھرانوں میں پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد تمام عیسائی بچوں سے زیادہ ہو جائے گی۔ ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں مسیحی آبادی سب سے زیادہ ہے، دنیا بھر میں مجموعی طور پر مسیحی خاندانوں میں بچوں کی پیدائش کا تناسب دیگر مذاہب کی نسبت زیادہ ہے۔ لیکن گزشتہ چند عشروں سے یہ صورتحال یکسر بدلتی جا رہی ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں شرح پیدائش کے حوالے سے مسلمان سب سے آگے ہیں۔ 2010ء سے 2015ء دنیا بھر میں مسلمان خاندانوں میں بچوں کی شرح پیدائش زیادہ تھی۔ جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ 2060ء تک مسلمان بچوں کی شرح پیدائش تمام مذاہب سے زیادہ ہو گی۔ 2015ء میں مسلمان اور عیسائی بچوں کی تعداد برابر برابر 31 فیصد تھی۔

2030 سے 2035ء تک اگرچہ عیسائیوں کی مجموعی تعداد مسلمانوں سے زیادہ ہوگی لیکن شرح پیدائش کم ہونے کے باعث ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کا تناسب مسلمانوں سے کم رہ جائے گا۔ اگرچہ ترقی پذیر ممالک میں عیسائیوں کے ہاں بھی بچوں کی شرح پیدائش مسلمانوں سے کم نہیں لیکن ترقی یافتہ ممالک کو ساتھ شامل کرلینے سے مجموعی طور پر یہ شرح پیدائش کم رہ جاتی ہے۔ 2060 ء تک دنیا کی آبادی 32 فیصد اضافے کے ساتھ 9 ارب 60 کروڑ ہو گی۔ جبکہ اسلامی ممالک میں بالخصوص اور دنیا بھر میں بالعموم مسلمانوں میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہو گی۔ مسلمانوں کی آبادی میں 2060ء تک مجموعی طور پر 70 فیصد تک اضافے کا امکان ہے۔ اس وقت مسلمان اور عیسائیوں کی تعداد میں زیادہ فرق نہیں ہوگا۔ مسلمان دنیا کی آبادی 31 فیصد اور عیسائی32 فیصد ہوں گے۔ چین جاپان اور شمالی امریکہ شرح پیدائش کم ہونے کے باعث بوڑھے ہوتے جا رہے ہیں۔ یہاں عمر رسیدہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر سرکار کو ان کے تحفظ اور قیام و طعام کے لیے اربوں ڈالر خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ اس کے برعکس اسلامی ممالک میں بوڑھوں کی تعداد کم اور بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔

ڈاکٹر فراز

امام کعبہ شیخ صالح بن محمد طالب کا دورہ پاکستان

Sheikh Saleh Al Talib, was born in Riyadh, Saudi Arabia in the year 1974. He got his early education in Riyadh. He graduated from Imam Saud University, Riyadh and got a Masters Degree in Comparative Islamic Jurisprudence. He also has a Masters Degree in International Law from George Town, Washington DC, USA. Hence Sheikh Talib also understands English Language. Sheikh Talib is also a Judge in the High Court of Makkah. He was appointed as the Imam and Khateeb of Masjid Al Haram in 2003.