مسلمان سب سے زیادہ ہو جائیں گے

اگلے 20 سالوں میں مسلمان گھرانوں میں پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد تمام عیسائی بچوں سے زیادہ ہو جائے گی۔ ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں مسیحی آبادی سب سے زیادہ ہے، دنیا بھر میں مجموعی طور پر مسیحی خاندانوں میں بچوں کی پیدائش کا تناسب دیگر مذاہب کی نسبت زیادہ ہے۔ لیکن گزشتہ چند عشروں سے یہ صورتحال یکسر بدلتی جا رہی ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں شرح پیدائش کے حوالے سے مسلمان سب سے آگے ہیں۔ 2010ء سے 2015ء دنیا بھر میں مسلمان خاندانوں میں بچوں کی شرح پیدائش زیادہ تھی۔ جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ 2060ء تک مسلمان بچوں کی شرح پیدائش تمام مذاہب سے زیادہ ہو گی۔ 2015ء میں مسلمان اور عیسائی بچوں کی تعداد برابر برابر 31 فیصد تھی۔

2030 سے 2035ء تک اگرچہ عیسائیوں کی مجموعی تعداد مسلمانوں سے زیادہ ہوگی لیکن شرح پیدائش کم ہونے کے باعث ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کا تناسب مسلمانوں سے کم رہ جائے گا۔ اگرچہ ترقی پذیر ممالک میں عیسائیوں کے ہاں بھی بچوں کی شرح پیدائش مسلمانوں سے کم نہیں لیکن ترقی یافتہ ممالک کو ساتھ شامل کرلینے سے مجموعی طور پر یہ شرح پیدائش کم رہ جاتی ہے۔ 2060 ء تک دنیا کی آبادی 32 فیصد اضافے کے ساتھ 9 ارب 60 کروڑ ہو گی۔ جبکہ اسلامی ممالک میں بالخصوص اور دنیا بھر میں بالعموم مسلمانوں میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہو گی۔ مسلمانوں کی آبادی میں 2060ء تک مجموعی طور پر 70 فیصد تک اضافے کا امکان ہے۔ اس وقت مسلمان اور عیسائیوں کی تعداد میں زیادہ فرق نہیں ہوگا۔ مسلمان دنیا کی آبادی 31 فیصد اور عیسائی32 فیصد ہوں گے۔ چین جاپان اور شمالی امریکہ شرح پیدائش کم ہونے کے باعث بوڑھے ہوتے جا رہے ہیں۔ یہاں عمر رسیدہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر سرکار کو ان کے تحفظ اور قیام و طعام کے لیے اربوں ڈالر خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ اس کے برعکس اسلامی ممالک میں بوڑھوں کی تعداد کم اور بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔

ڈاکٹر فراز

یورپ کے گرجا گھرمساجد میں تبدیل ہونے لگے

مغربی دنیا میں جہاں ایک جانب اسلام مخالف مہم زوروں پر ہے وہاں یورپ کے مسلمانوں نے ایک نئی مہم شروع کی ہے جس کے تحت طویل عرصے سے بند گرجا گھروں کو مساجد میں تبدیل کرنے کی ایک نئی مہم جاری ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے عرب اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹس کی روشنی میں بتایا ہے کہ یورپی ملکوں میں ہزاروں گرجا گھر یا تومقامی آبادی کی لاپرواہی کا شکار ہیں یا ان میں عیسائی شہریوں نے عبادت کرنا چھوڑ دی ہے۔ ایسے تمام گرجا گھروں کو مساجد میں تبدیل کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکا میں سالانہ 20 گرجا گھر بند کیے جا رہے ہیں۔ ڈنمارک کی حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیاہے کہ سنہ 2015ء کے بعد ایک سال میں 200 چرچ بند ہوچکے ہیں جب کہ جرمنی میں حالیہ چند برسوں کے دوران 515 گرجا گھروں کو تالے لگائے گئے۔
ہالینڈ کے کیتھولیک مسیحی فرقے کے رہ نماؤں کا خیال ہے کہ اگلے 10 سال میں ان کے 1600 گرجا گھروں میں سے دو تہائی بند ہوجائیں گے جب کہ پروٹسٹنٹ کا کہنا ہے کہ چار برسوں میں 700 گرجا گھر بند کیے گئے ہیں۔

امریکا کی ‘‘جارج ٹاؤن’’ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق براعظم یورپ میں لادینیت کے بڑھتے اثرات نے عبادت گاہیں اور گرجا گھر ویران کردیے ہیں۔ فرانس کے ‘جنرل ویو انسٹیٹیوٹ’ کی رپورٹ کے مطابق صرف 4.5 فی صد لوگ گرجا گھروں میں عبادت کی غرض سے جاتے ہیں جب کہ 71 فی صد لوگ مذہبی تعلیمات پریقین نہیں رکھتے۔

فرانسیسی عیسائیوں کی نسبت آئرش عیسائی زیادہ مذہبی ہیں جو 49 فی صد ہفتہ وار چرچ میں حاضری دیتے ہیں۔ ان کی نسبت اطالوی کم مذہبی ہیں مگر اس کے باوجود اٹلی میں 39 فی صد عیسائی گرجا گھروں میں جاتے ہیں۔ اسی طرح اسپین میں 25، برطانیہ میں 21، جرمنی میں11 اور ڈنمارک میں 6 فی صد لوگ چرچوں میں جاتے ہیں۔
‘‘پیو’’ سوشل سائنس مرکز کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2030ء تک یورپ میں مسلمان آبادی 8 فی صد تک تجاوز کرجائے گی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یورپی ملکوں میں مسلمان باشندوں کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر مساجد کے زیادہ سےزیادہ ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان باشندے ویران ہونے والے گرجا گھروں کی خریداری کی کوششیں کررہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عیسائی باشندے اپنی عبادت گاہوں کو بوجھ سمجھتے ہیں جب کہ مسلمان فخر کے ساتھ مساجد کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے ہیں۔
جرمنی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ یورپی ملکوں کے ہاں مسلمانوں کو مساجد کے لیے فروخت کردہ گرجا گھروں کی فہرست شائع کی گئی ہے۔ ان میں ‘‘ڈور تمونڈ یوھانس’’ چرچ سر فہرست ہے جسے ترک اسلامی یونین 10 سال پیشترخرید کیا اور اسے ‘‘جامع مسجد ڈور تمونڈ’’ کا نام دیا گیا۔ 700 مربع میٹر رقبے پر مشتمل اس چرچ میں 1500 افراد با جماعت نماز ادا کرسکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سنہ 2012ء میں کویت کے تعاون سےجرمن ریاست ‘‘ہیمرگ’’ کے ‘‘کابیر نایوم’’ مسلمانوں نے خرید کرمسجد میں تبدیل کردیا تھا۔
برطانیہ میں کریسچن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سنہ 1960ء کے بعد اب تک 10 ہزار گرجا گھر بند ہوچکے ہیں اور سنہ 2020ء تک مزید چار ہزار گرجا گھر بند ہوجائیں گے

چند سالوں میں اسلام امریکا کا دوسرا بڑا مذہب بن جائے گا

اس وقت امریکا میں 33 لاکھ مسلمان بستے ہیں اور ان کی تعداد 2050 تک دُگنی ہوجائے گی 
  اسلام دنیا کے مختلف غیر مسلم ممالک میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور تمام تر منفی پروپیگنڈا کے باوجود لوگ اب بھی اپنی زندگی میں تمام مسائل کا حل اسلام میں تلاش کرتے نظر آرہے ہیں اسی لیے ایک نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اگر مسلمانوں کی تعداد اسی طرح بڑھتی رہی تو 2040 تک اسلام امریکا کا دوسرا بڑا مذہب ہوگا۔
امریکی تھنک ٹینک پیو ریسرچ سینٹر کا کہنا ہے کہ اس وقت امریکا میں 33 لاکھ مسلمان بستے ہیں اور ان کی تعداد 2050 تک دُگنی ہوجائے گی جب کہ مسلمانوں کی تعداد اسی طرح بڑھتی رہی تو ان کی تعداد یہودیوں سے بھی بڑھ جائے گی اور اسلام 2040 تک امریکا کا دوسرا بڑا مذہب بن جائے گا۔ اسی طرح ریسرچ میں کہا گیا ہے کہ اس بات کا بھی امکان ہے کہ مسلم امریکن آبادی کا تناسب بھی ایک فیصد سے بڑھ کر دُگنا ہوجائے گا۔
تحقیق کے مطابق 2010 سے 2015 کے درمیان مسلمان آبادی میں نصف اضافہ تارکین وطن کی آمد کی وجہ سے ہے جب کہ مسلمانوں میں پیدائش کا تناسب بھی دیگر مذاہب کی آبادیوں سے زیادہ ہے۔ تحقیق میں مزید کہا گیا ہے کہ کچھ شہروں میں مسلمانوں کی تعداد ایک فیصد سے بھی زیادہ ہے تاہم مسلمانوں کی تعداد کے بارے میں سرکاری سطح پر کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے۔