آبِ زمزم : کنوئیں میں پانی آتا کہاں سے ہے ؟

مکہ مکرمہ میں زمزم کے کنوئیں سے پانی نکلنے کا سلسلہ ہزاروں برس سے جاری ہے۔ دینی متون کے مطابق یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا جب کہ اس کے برعکس دنیا کا ہر پانی قیامت سے قبل معدوم ہو جائے گا۔ زمزم کا پانی کہاں سے آتا ہے اور اس کا ذائقہ امتیازی نوعیت کا کیوں ہے ؟ ان سوالات کو العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ڈاکٹر انجینئر یحیی کوشک کے سامنے رکھا جنہوں نے امریکا کی واشنگٹن یونیورسٹی سے Environmental engineering میں اسپیشلائزیشن کر رکھی ہے۔ وہ پانی کے امور کے پہلے سعودی ماہر اور زمزم کے کنوئیں کی تجدید کے منصوبے کے نگراں بھی ہیں۔ وہ زمزم کے کنوئیں کے بارے میں مستند علمی اور تاریخی معلومات کا ذخیرہ رکھتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر کوشک نے واضح کیا کہ زمزم کے کنوئیں کے ظہور کا واقعہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنی زوجہ ہاجرہ اور شیرخوار بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو اس ویران بیابان میں چھوڑا تو بچے کو پیاس لگی۔ اس موقع پر ماں نے صفا ور مروہ کے درمیان بے قراری میں دوڑ لگائی اور اپنے رب سے مدد مانگی۔ اللہ رب العزت نے جبریل علیہ السلام کو بھیجا جنہوں نے زمین اور پہاڑ کو اپنے پر سے ضرب لگائی۔ اس ضرب کو “ہزمۃ جبریل” کا نام دیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مکہ کے پڑوس میں واقع پہاڑوں کے دامنوں میں شگاف پڑ گئے۔ ان میں پانی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود تھا۔

ڈاکٹر کوشک کے مطابق پہاڑوں کے اندر جمع شدہ پانی کنوئیں کے مقام تک پہنچ گیا جہاں شیرخوار حضرت اسماعیل کے قدموں کے نیچے سے پانی پھوٹ پڑا۔ یہ مقام خانہ کعبہ سے 21 میٹر کے فاصلے پر ہے التبہ اُس وقت تک بیت اللہ تعمیر نہیں ہوا تھا۔ کوشک نے بتایا کہ یہ پانی چٹانوں کے تین شگافوں کے ذریعے کنوئیں میں جمع ہوتا ہے جو خانہ کعبہ کے نیچے اور صفا اور مروہ کی سمت پھیلی ہوئی ہیں۔ کوشک کا کہنا ہے کہ زمزم کا پانی جنت سے نہیں آتا جیسا کہ لوگوں میں مشہور ہے۔ زمزم کے پانی کے منفرد ذائقے کا راز بتاتے ہوئے کوشک کا کہنا تھا کہ اس کا تعلق پانی کے مخصوص سمتوں سے معینّہ چٹانوں کے ذریعے گزرنے سے ہے۔ کوئی بھی پانی جو ان مقامات سے پھوٹے گا اور کنوئیں کی گہرائی میں گرے گا وہ آب زمزم جیسے ذائقے اور خصوصیات کا حامل ہو گا۔

آبِ زمزم کے 60 نام
آب زمزم کے 60 سے زیادہ نام ہیں۔ ان میں مشہور ترین نام زمزم ، سقیا الحاج ، شراب الابرار ، طیبۃ ، برۃ ، برکۃ اور عافیہ ہیں۔ مکہ مکرمہ کے لوگ قدیم زمانے سے ہی اپنے مہمانوں کے اکرام کے لیے ان کا استقبال آب زمزم سے کیا کرتے تھے۔ اس پانی کو مٹی کی صراحیوں میں مصطگی کے گوند کی دھونی دے کر مہمانوں کو پیش کیا جاتا تھا۔ اس مہک کے سبب یہ پینے والوں کو زیادہ محبوب ہوتا تھا۔ مکہ مکرمہ میں یہ رواج آج بھی باقی ہے جب کہ ماہ رمضان میں افطار کے دسترخوانوں پر کھجور کے ساتھ صرف آب زمزم ہی پیش کیا جاتا ہے۔ مکہ کے رہنے والوں کی خواہش ہوتی ہے کہ اُن کے مردوں کو تدفین سے قبل آب زمزم سے غسل دیا جائے۔ علاوہ ازیں ہر حاجی اور معتمر اس کو اپنے وطن میں موجود عزیز و اقارب کے واسطے بطور ہدیہ لے کر لوٹتے ہیں۔

جدہ – حسن الجابر

Advertisements

اب حرمین شریفین میں سیلفی بنانے پر کیمرہ یا موبائل ضبط ہو سکتا ہے؟

سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے مملکت میں تمام سفارت خانوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو حرمین شریفین کی حدود میں تصویر کشی سے باز رکھیں۔ اس ضمن میں وزارت خارجہ نے سعودی وزارت حج وعمرہ کی طرف سے جاری کئے جانے والے نوٹیفکیشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مملکت آنے والے معتمرین اور عازمین حج کو اس بات سے آگاہ کر دیا جائے کہ وہ حرمین میں اپنے موبائل یا کیمروں سے سیلفیاں اور تصاویر نہ بنائیں۔ خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

انڈونیشی اخبار نے اس حوالے سے خبر شائع کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈونیشی وزارت مذہبی امور کی جانب سے تمام عمرہ ٹور آپریٹرز کو سرکلر جاری کر دیئے گئے ہیں تاکہ وہ اپنے زیر انتظام آنے والے معتمرین و عازمین کو اس بارے میں آگاہ کر دیں کہ کسی بھی صورت میں حرمین میں تصویر کشی نہ کی جائے۔
درایں اثناء مقامی ذرائع کے مطابق وزارت حج کی جانب سے جاری کئے گئے سرکلر میں اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ مختلف ممالک سے آنے والے معتمرین اور حجاج حرمین شریفین میں اپنا زیادہ وقت تصویر کشی میں ضائع کرتے ہیں جس سے ان کی اور دوسروں کی عبادت میں خلل پڑتا ہے۔

یہ لوگ حرمین شریفین میں تصویریں بنا کر انہیں سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دیتے ہیں۔ وزارت کی جانب سے جاری کردہ سرکلر میں مزید کہا گیا ہے کہ ایسے معتمرین اور حجاج کرام جو اپنے موبائل فون، کیمرے یا وڈیو کیمروں کے ذریعے حرمین شریفین کے اندر یا باہر تصاویر بنائیں گے ان کے کیمرے اور موبائل ضبط بھی کئے جا سکتے ہیں۔ اس ضمن میں متعلقہ اداروں کو بھی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ اس امر کو یقینی بنائیں کہ کوئی معتمر یا حاجی حرمین شریفین میں تصویر کشی نہ کر سکے۔

حرمین ٹرین چل پڑی، پہلے قافلے کی مکہ آمد

سعودی عرب اور کئی دوسرے ملکوں کے اشتراک سے شروع کیے گئے حرمین ٹرین منصوبے کی تکمیل کے بعد پہلی حرمین ٹرین جدہ سے مکہ مکرمہ پہنچ گئی۔ عرب ٹی وی کے مطابق حرمین ٹرین کی باقاعدہ سروسز کا آغاز کر دیا گیا۔ پہلی حرمین ریل گاڑی سرکاری عہدیداروں کو لے کر مکہ پہنچی۔ سعودی عرب اور غیر ملکی کمپنیوں کے اشترک سے کئی سال قبل برقی دوہری الیکٹرک ریلوے پٹری بچھانے کا کام شروع کیا گیا تھا۔

ساڑھے چار سو کلو میٹر طویل ریلوے لائن کی تکمیل پر 63 ارب سعودی ریال کی رقم خرچ کی گئی ہے۔ گزشتہ روز سرکاری وفد کو لے کر مکہ پہنچنے والی پہلی حرمین ٹرین میں متعدد وزراء، شہزادے اور دیگر اہم شخصیات سوار تھیں۔ ان میں سعودی فرمانروا کے مشیر اور مکہ کے گورنر شہزادہ خالد الفیصل، دیگرافراد سوار تھے۔ حرمین ریل سروس کا مقصد عازمین عمرہ بالخصوص حج سیزن میں حجاج کرام کو ٹرانسپورٹ کی سہولت مہیا کرنا ہے۔ حرمین ریل سروس سے سالانہ 35 لاکھ عازمین حج، 40 لاکھ معتمرین اور 60 لاکھ عام مسافروں کو تیز رفتار سفری سہولت میسر ہو گی۔

حرمین ریلوے لائن پر پانچ اہم اسٹیشن بنائے گئے ہیں۔ مکہ مکرمہ سے ہوتے ہوئے یہ ریلوے لائن جدہ، شاہ عبداللہ اکنامک سٹی اور وہاں سے مدینہ منورہ تک جائے گی۔ حرمین ریل گاڑی کے چلنے سے مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ کے درمیان سات گھنٹے کی مسافت کم ہو کر 150 منٹ پر آجائے گی۔ حرمین ریل کی کل 35 بوگیاں ہوں گی اور ایک بوگی میں 417 افراد کے سوار ہونے کی گنجائش ہو گی۔

کیا آپ خانہ کعبہ کے ان 13 حصوں کے نام جانتے ہیں ؟

خانہ کعبہ روئے زمین پر مسلمانوں کے لیے نماز کا قبلہ ہے اور حجاج کرام اس کے گرد طواف کرتے ہیں۔ یہ مربع شکل کے ایک بڑے کمرے کی صورت میں نظر آتا ہے جس کی اونچائی 15 میٹر ہے۔ خانہ کعبہ سے ملحق مختلف چھوٹی تعمیرات اور حصّے ہیں جو اسی کا حصہ بن گئے ہیں۔ ان کی تعداد 13 ہے اور ہر ایک کا اپنا نام ہے۔ امور حرمین کے محقق محیی الدین الہاشمی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں واضح کیا کہ ان حصوں کے نام قدیم اور ہزاروں سالوں سے معروف ہیں۔ یہ حضرت ابراہیم (عليہ السلام) کے ہاتھوں بیت اللہ کی تعمیر کے وقت سے اسی طرح ہیں۔ عرب ان سے متعارف ہوئے اور اسلام نے بھی ان کو تسلیم کیا لہذا یہ نام آج تک بنا تبدیلی کے باقی ہیں۔ بالخصوص احادیث نبوی ﷺ میں ان ناموں کی تصدیق ملتی ہے۔

یہ 13 اجزاء درجِ ذیل ہیں :

  ۔ حجر اسود : یہ کعبے کا مشہور و معروف ترین حصّہ ہے۔ یہاں سے طواف کی ابتدا ہوتی ہے اور مسلمانوں کے نزدیک اس کا بوسہ سنت ہے۔ بعض احادیث نبوی ﷺ کے مطابق یہ جنت کے پتھروں میں سے ہے۔

 ۔ کعبے کا دروازہ : یہ بیت اللہ کی مشرقی سمت واقع ہے۔ یہ زمین سے 2 میٹر سے زیادہ بلند ہے۔ اس کی اونچائی 3 میٹر سے زیادہ ہے جب کہ چوڑائی کم از کم 2 میٹر ہے۔ چودہ سو برسوں کے دوران خلفاء اور امراء نے اس دروازے کی زیب و زینت پر خصوصی توجہ دی اور اس کو سونے اور چاندی کے لباس سے آراستہ کر دیا۔

 ۔ میزاب : اس کو “میزابِ رحمت” کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ خانہ کعبہ کی چھت پر گرنے والا بارش کا پانی اسی کے ذریعے حطیم کے اندر گرتا ہے۔

  ۔ شاذروان : یہ خانہ کعبہ کی نچلی دیوار کے گرد نصب سنگ مرمر ہے۔ یہ بیت اللہ کے دروازے کے سوا کعبے کی تمام سمتوں میں موجود ہے۔

 ۔ حجرِ اسماعیل : خانہ کعبہ سے علاحدہ ہو جانے کے سبب یہ حصہ حطیم کہلاتا ہے۔ قریش نے خانہ کعبہ کی تعمیر نو کی تو اس حصے کو چھوڑ دیا تھا کیوں کہ وہ اس بات کے خواہش مند تھے کہ تعمیر پاک مال سے ہونا چاہیے۔

  ۔ مُلتزم : طواف کرنے والوں کے اس جگہ پر التزام کے سبب یہ ملتزم کہلاتا ہے۔ ماضی میں بعض قصور وار اور مجرم اپنے قتل سے فرار اختیار کر کے یہاں آ جاتے تھے۔ اس وجہ سے عربوں میں شدید جرم کے مرتکب شخص کے لیے یہ ضرب المثل مشہور ہو گئی کہ “اگر وہ مجھے ملتزم پر بھی مل جاتا تو میں اس کو قتل کر دیتا”۔

  ۔ مقامِ ابراہیم : بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ خانہ کعبہ کا حصہ ہے تاہم علاحدہ ہو گیا۔ اس میں ایک چٹان ہے جس میں پاؤں کے نشانات نقش ہیں۔ یہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاؤں کی جانب کنایہ ہے جب اللہ رب العزت نے ان کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو حج کی اجازت دیں۔

 ۔ رُکنِ حجر اسود : یہ کونا خانہ کعبہ کے اوپر سے نیچے تک پھیلا ہوا ہے۔ اسی میں حجرِ اسود نصب ہے۔ یہاں سے طواف شروع کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ خانہ کعبہ کے اہم کونوں میں سے ہے۔

  ۔ رُکنِ یمانی : یہ کونا کعبے کے دائیں جانب واقع ہے اسی وجہ سے یمین سے یمانی مشہور ہوا۔

 ۔ رُکنِ شامی : یہ کونا شام کی سمت ہے لہذا اس نام سے مشہور ہوا۔

  ۔ رُکنِ عراقی : یہ کونا عراق کی سمت ہے۔ پرانے وقتوں میں حج کے راستوں کے نام اُن ملکوں کے ناموں پر پڑ جاتے تھے جہاں سے حجاج آ رہے ہوتے۔ اس زمانے سے ہی یہ کونے مختلف ملکوں کے نام سے موسوم ہو گئے۔

 ۔ کعبے کا غلاف : یہ خانہ کعبہ کا مشہور ترین جُز ہے جو کہ ظاہر میں بھی نمایاں ترین نظر آتا ہے۔ سب سے پہلے کعبہ کو یمن کی تبع قوم نے غلاف پہنایا۔ اس کے بعد بادشاہ اور فرماں روا اس پر عمل پیرا رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ پر سفید غلاف چڑھایا جب کہ اسلام سے قبل یہ سُرخ رنگ کا ہوتا تھا۔ بعد ازاں یہ سبز رنگ میں منتقل ہوا اور آخر میں سیاہ رنگ جو کہ ابھی تک باقی ہے۔

 ۔ بُھورے سنگ مرمر کی پٹی : یہ حجرِ اسود کے کونے کی سمت سے زمین پر کھینچی گئی ایک لکیر ہے جو طواف کی ابتدا اور اختتام کی علامت ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ ـ محمد الحربی

امام کعبہ شیخ صالح بن محمد طالب کا دورہ پاکستان

Sheikh Saleh Al Talib, was born in Riyadh, Saudi Arabia in the year 1974. He got his early education in Riyadh. He graduated from Imam Saud University, Riyadh and got a Masters Degree in Comparative Islamic Jurisprudence. He also has a Masters Degree in International Law from George Town, Washington DC, USA. Hence Sheikh Talib also understands English Language. Sheikh Talib is also a Judge in the High Court of Makkah. He was appointed as the Imam and Khateeb of Masjid Al Haram in 2003.

 

 

 

 

 

 

 

حرم مکی کی 63 سال پرانی یاد گار تصویر

مسجد حرام کی پرانی تصاویر اکثر منظرعام پر آتی رہتی ہیں مگران میں بعض ایسی فقید المثال اور نادر تصاویر ہوتی ہیں جو آنے والے زمانوں میں اس مقدس مقام کی تفصیلات بھی اپنے جلو میں سموئے رہیں گی۔ ایسی ایک تصویر ان دنوں تیزی کے ساتھ مقبول ہوئی ہے۔ حرم مکی کی یہ تصویر 63 سال پرانی ہے جسے سنہ 1954ء میں کھینچا گیا تھا۔ اس میں مسجد حرام، کعبہ شریف، صحن مطاف، حفاظتی دیوار(باڑ) جس میں باب بنو شیبہ بنایا گیا واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

حرمین شریفین کے امور کے ماہر محی الدین الھاشمی کا کہنا ہے کہ ’عثمانی کوری ڈور‘ میں موسم گرما میں نمازیوں کو سایہ فراہم کرنے کے لیے چھاتے شاہ عبدالعزیز آل سعود کے حکم پر لگائے گئے تھے۔ مذکورہ تصویر میں مسجد حرام کے چار اہم مقامات جن میں مقام ابراہیم بھی شامل ہے دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ تصویر میں زمزم کی عمارت بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ صحن مطاف دو حصوں میں منقسم ہے۔ کعبہ شریف کے اطراف میں صحن مطاف کے باہر ایک حفاظتی دیوار بھی موجود ہے۔ اس دیوارکو مسجد حرام کے چار اہم مقامات سے مربوط کیا گیا تھا۔

الھاشمی کا کہنا ہے کہ عثمانی کوری ڈور مسجد حرام کے مقامات اربعہ کے درمیان ریتلی جگہ کی تصویر بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ خیال رہے کہ مسجد حرام میں مقامات اربعہ اب باقی نہیں رہے ہیں۔ یہ مقامات چار اسلامی مذاہب الشافعی، الحنبلی، مالکی اور حنفی مسالک کی نمائندگی کرتے تھے۔ ان مقامات پر چاروں مسالک کے آئمہ نمازوں کی الگ الگ امامت بھی کرتے رہے ہیں مگر اب تمام مسالک کو ایک ہی امام کی اقتداء میں نماز کے لیے متحد کردیا گیا ہے۔ حرم مکی کی تصاویر سب سے پہلے 1880ء میں کھینچی گئی تھی۔ بلیک اینڈ وائیٹ تصویروں میں صحن کعبہ اور مسجد حرام کے بعض اہم حصے شامل جو آج

سے 137 برس قبل کی مسجد حرام کی کہانی بیان کرتی ہیں۔

لعربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ محمد الحربی

حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنہ

حضرت خباب بن الارت کا شمار حضورنبی محتشم صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت ہی مقرب صحابہ کرام میں ہوتا ہے۔ اسلام قبول کرنے والے خوش بخت افراد میں ان کا چھٹا نمبر ہے، اس لئے ـ ’’سادس الاسلام‘‘کہلاتے ہیں، اس طرح السابقون الا ولون کی بشارت سے خورسند ہوئے۔ قبیلہ بنو تمیم سے تعلق تھا،شجرہ نسب اس طرح ہے۔ خباب بن ارت بن جندلہ بن سعد بن خزیمہ بن کعب بن سعد بن مناۃ بن تمیم۔ اپنے صاحبزادہ عبداللہ کی مناسبت سے ام عبداللہ کنیت اختیار فرمائی، وجیہہ ، شکیل اورمضبوط تن وتوش کے مالک تھے ۔ مرورزمانہ نے غلام بنا دیا، مکہ کی ایک قریشی خاتون اُم انمار نے انہیں خرید لیا، اُم انمار نے انھیں آہن گری کا فن سکھایا اور اس کے رموزو اسرار سے واقف ہونے کے بعد انھیں دکان پر بٹھا دیا تا کہ کسب کریں اور کما کر اسے رقم ادا کریں ۔

اپنی سلیم الفطرتی کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف متوجہ ہوئے اور بعثت مبارکہ کے بعد دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ اس زمانے میں اہل مکہ کے نزدیک یہ ایک شدید ترین جرم تھا، جسے وہ کسی صورت قبول کرنے پر آمادہ نہیں تھے، اسلام اور وہ بھی ایک غلام کا قبول اسلام ،اور اس پر مستزادیہ کہ وہ غلا م اس پر کسی عذر خواہی کا اظہار بھی نہیں کر رہا بلکہ ببانگ دہل اس کا اعلان و اعتراف کر رہا تھا۔ کفار مکہ اس جرأت اظہار پر برا فروختہ ہو گئے اور انھوں نے آپ کو ہر قسم کی ایذاء رسانیوں کا ہدف بنا لیا۔ مکہ کے اس ماحول میں ان کا نہ تو اپنا خاندان تھا اور نہ کوئی ایسا حامی ومد د گار جو انھیں اپنی امان میں لیتا، لہٰذا قریش نے اپنی ساری بھڑاس خباب اور ان جیسے دوسرے بے سہاراافراد پر نکالنی شروع کی، ان کی مالکہ نے بھی ان درندہ صف لوگوں کو ان پر ظلم وستم ڈھانے کی مکمل چھوٹ دے رکھی تھی.

 وہ زمین پر دہکتے ہوئے انگارے ڈال دیتے اور خباب کو ان پر لٹا دیتے، ایک   بھاری پتھر ان کے سینے پر رکھ کر اسے مسلا جاتا، یہ اذیت اس وقت تک جاری رہتی جب تک کہ وہ انگارے ان کے زخموں کی رطوبت سے سرد نہ ہو جاتے، بسا اوقات لوہے کا گرم خود ان کے سر پر کَس دیا جاتا اور اس پر ضربیں لگائی جاتیں، لیکن اس اذیت کے با وجود ان کے پائے استقلال میں کسی قسم کی لغزش نہ آ سکی، ایسے ہی حضور رحمت للعالمین علیہ الصلوٰۃ والسلام ان کی تالیف قلب فرماتے انھیں حوصلہ دیتے اور بشارت سے بہرور کرتے، ان کی مالکہ سے یہ برداشت نہ ہوا تواس نے ایک لوہے کی سلاخ کو گرم کیا اور آپ کے سر اقدس کو اس سے داغ دیا، ایسے میں آپ کی درخواست اللہ کریم کے حضور میں تھی یا التماس دعاء نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارگا ہ ایزدی میں دعاء کی! یااللہ! خباب کی مدد فرما۔

(اسد الغابہ)