یورپ میں مسلمانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، امریکی تھنک ٹینک

یورپ بھر میں مسلمانوں کی تعداد میں اضا فہ ہو رہا ہے۔ 2050 تک مسلمانوں کی تعداد یورپ کی کل آبادی کا گیارہ فیصد ہونے کا امکان ہے۔ امریکی تھنک ٹینک کی یورپ میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فی الحال مسلمان یورپ کی کل آبادی کا 5 فیصد ہیں اور پیو ریسرچ سینٹر نے امیگریشن کی 3 مختلف شرح کے اعتبار سے اندازے پیش کیے ہیں۔ پہلی صورت کے مطابق اگر قانونی اور غیر قانونی تارکین وطن کی آمد بند کر دی جائے تب بھی 30 یورپی ممالک میں مسلمان آبادی کا 7 اعشاریہ 4 فی صد تک ہو جائیں گے۔  اگر امیگریشن پناہ گزینوں کے بحران سے پہلے کی سطح پر آ جائے تو 2050 میں مسلمانوں کی آبادی آج کی نسبت دگنی یعنی 11 اعشاریہ 2 فیصد ہو جائے گی۔
تیسری صورت میں اگر پناہ گزینوں کی اسی طرح آمد جاری رہی تو مسلمان یورپ کی مجموعی آبادی کا 14 فی صد ہوں گے.

Advertisements

مسلمان سب سے زیادہ ہو جائیں گے

اگلے 20 سالوں میں مسلمان گھرانوں میں پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد تمام عیسائی بچوں سے زیادہ ہو جائے گی۔ ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں مسیحی آبادی سب سے زیادہ ہے، دنیا بھر میں مجموعی طور پر مسیحی خاندانوں میں بچوں کی پیدائش کا تناسب دیگر مذاہب کی نسبت زیادہ ہے۔ لیکن گزشتہ چند عشروں سے یہ صورتحال یکسر بدلتی جا رہی ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں شرح پیدائش کے حوالے سے مسلمان سب سے آگے ہیں۔ 2010ء سے 2015ء دنیا بھر میں مسلمان خاندانوں میں بچوں کی شرح پیدائش زیادہ تھی۔ جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ 2060ء تک مسلمان بچوں کی شرح پیدائش تمام مذاہب سے زیادہ ہو گی۔ 2015ء میں مسلمان اور عیسائی بچوں کی تعداد برابر برابر 31 فیصد تھی۔

2030 سے 2035ء تک اگرچہ عیسائیوں کی مجموعی تعداد مسلمانوں سے زیادہ ہوگی لیکن شرح پیدائش کم ہونے کے باعث ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کا تناسب مسلمانوں سے کم رہ جائے گا۔ اگرچہ ترقی پذیر ممالک میں عیسائیوں کے ہاں بھی بچوں کی شرح پیدائش مسلمانوں سے کم نہیں لیکن ترقی یافتہ ممالک کو ساتھ شامل کرلینے سے مجموعی طور پر یہ شرح پیدائش کم رہ جاتی ہے۔ 2060 ء تک دنیا کی آبادی 32 فیصد اضافے کے ساتھ 9 ارب 60 کروڑ ہو گی۔ جبکہ اسلامی ممالک میں بالخصوص اور دنیا بھر میں بالعموم مسلمانوں میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہو گی۔ مسلمانوں کی آبادی میں 2060ء تک مجموعی طور پر 70 فیصد تک اضافے کا امکان ہے۔ اس وقت مسلمان اور عیسائیوں کی تعداد میں زیادہ فرق نہیں ہوگا۔ مسلمان دنیا کی آبادی 31 فیصد اور عیسائی32 فیصد ہوں گے۔ چین جاپان اور شمالی امریکہ شرح پیدائش کم ہونے کے باعث بوڑھے ہوتے جا رہے ہیں۔ یہاں عمر رسیدہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر سرکار کو ان کے تحفظ اور قیام و طعام کے لیے اربوں ڈالر خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ اس کے برعکس اسلامی ممالک میں بوڑھوں کی تعداد کم اور بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔

ڈاکٹر فراز

جلد پورا یورپ مسلمان ہو جائے گا

 maxresdefault

 کیتھولک چرچ کے اہم اطالوی آرچ بشپ کارلو نے دعویٰ کیا ہے کہ یورپی ممالک  جلد مسلمان ہوجائیں گے۔ اطالوی آرچ بشپ کا کہنا ہے کہ مسیحیوں کا ایمان کمزورہوگیا ہے اور آج کل چرچ بھی ٹھیک کام نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسیحی ہرطرح سے زوال کا شکار ہیں، ان کا اخلاقی اور مذہبی انحطاط اسلام کے حق میں ہے، مسیحیوں کی حماقتوں کی وجہ سے ہر کوئی مسلمان ہو جائے گا۔

اطالوی آرچ بشپ کا کہنا ہے کہ سیکولرازم کے سبب کیتھولک عیسائیت میں کمی آرہی ہے، مسلمان تارکین کی بڑھتی تعداد یورپ کے مسلمان بننے کا سبب ہے۔ اٹلی میں ستر کی دہائی میں 2 ہزار مسلمان تھے، آج 20 لاکھ سے بھی زائد ہیں، یورپ اور اٹلی مستقبل میں مسلم ملک ہوں گے.

امریکا میں اسلام تیسرا بڑا مذہب، مسلمان چوتھی بڑی آبادی

اسلام امریکا کا تیسرا بڑا مذہب بن گیا جبکہ مسلمان امریکا کی چوتھی بڑی آبادی ہے۔ سنسس بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق کل امریکی آبادی کا ایک فیصد مسلمانوں پر مشتمل ہے جو لگ بھگ 33 لاکھ بنتے ہیں تاہم مسلمان تنظیموں کے مطابق اصل تعداد 70 لاکھ سے بھی زائد ہیں، تو صرف نیویارک سٹی میں ہی 8 سے 10 لاکھ مسلمان آباد ہیں۔  ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق سٹی میں کل رجسٹرڈ مسلمان ووٹروں کی تعداد 8 لاکھ 24 ہزار ہے جو امریکی انتخابات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

فروری 2016 میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق کل مسلم رجسٹرڈ ووٹرز کی 2 تہائی یعنی تقریبا 5 لاکھ 49 ہزار333 ووٹرزڈیموکریٹک پارٹی کو سپورٹ کرتے نظرآتے ہیں جبکہ 15 سے 18 فیصد یعنی تقریبا ایک لاکھ 48 ہزار320 ووٹرزرپبلکن جماعت کی حمایت کرتے ہیں جبکہ انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلمانوں سے متعلق متنازع بیانات کے بعد اس تعداد میں مزید کمی ہو سکتی ہے۔