مسلمان سب سے زیادہ ہو جائیں گے

اگلے 20 سالوں میں مسلمان گھرانوں میں پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد تمام عیسائی بچوں سے زیادہ ہو جائے گی۔ ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں مسیحی آبادی سب سے زیادہ ہے، دنیا بھر میں مجموعی طور پر مسیحی خاندانوں میں بچوں کی پیدائش کا تناسب دیگر مذاہب کی نسبت زیادہ ہے۔ لیکن گزشتہ چند عشروں سے یہ صورتحال یکسر بدلتی جا رہی ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں شرح پیدائش کے حوالے سے مسلمان سب سے آگے ہیں۔ 2010ء سے 2015ء دنیا بھر میں مسلمان خاندانوں میں بچوں کی شرح پیدائش زیادہ تھی۔ جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ 2060ء تک مسلمان بچوں کی شرح پیدائش تمام مذاہب سے زیادہ ہو گی۔ 2015ء میں مسلمان اور عیسائی بچوں کی تعداد برابر برابر 31 فیصد تھی۔

2030 سے 2035ء تک اگرچہ عیسائیوں کی مجموعی تعداد مسلمانوں سے زیادہ ہوگی لیکن شرح پیدائش کم ہونے کے باعث ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کا تناسب مسلمانوں سے کم رہ جائے گا۔ اگرچہ ترقی پذیر ممالک میں عیسائیوں کے ہاں بھی بچوں کی شرح پیدائش مسلمانوں سے کم نہیں لیکن ترقی یافتہ ممالک کو ساتھ شامل کرلینے سے مجموعی طور پر یہ شرح پیدائش کم رہ جاتی ہے۔ 2060 ء تک دنیا کی آبادی 32 فیصد اضافے کے ساتھ 9 ارب 60 کروڑ ہو گی۔ جبکہ اسلامی ممالک میں بالخصوص اور دنیا بھر میں بالعموم مسلمانوں میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہو گی۔ مسلمانوں کی آبادی میں 2060ء تک مجموعی طور پر 70 فیصد تک اضافے کا امکان ہے۔ اس وقت مسلمان اور عیسائیوں کی تعداد میں زیادہ فرق نہیں ہوگا۔ مسلمان دنیا کی آبادی 31 فیصد اور عیسائی32 فیصد ہوں گے۔ چین جاپان اور شمالی امریکہ شرح پیدائش کم ہونے کے باعث بوڑھے ہوتے جا رہے ہیں۔ یہاں عمر رسیدہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر سرکار کو ان کے تحفظ اور قیام و طعام کے لیے اربوں ڈالر خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ اس کے برعکس اسلامی ممالک میں بوڑھوں کی تعداد کم اور بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔

ڈاکٹر فراز

امام کعبہ شیخ صالح بن محمد طالب کا دورہ پاکستان

Sheikh Saleh Al Talib, was born in Riyadh, Saudi Arabia in the year 1974. He got his early education in Riyadh. He graduated from Imam Saud University, Riyadh and got a Masters Degree in Comparative Islamic Jurisprudence. He also has a Masters Degree in International Law from George Town, Washington DC, USA. Hence Sheikh Talib also understands English Language. Sheikh Talib is also a Judge in the High Court of Makkah. He was appointed as the Imam and Khateeb of Masjid Al Haram in 2003.

 

 

 

 

 

 

 

دعا کی اہمیت اور اُس کی ضرورت

دعا وہ میڈیم، ذریعہ، واسطہ یا ہاٹ لائن ہے جو بندے کو ڈائریکٹ اللہ سبحانہ و
تعالٰی سے کنیکٹ کر دیتی ہے۔ اللہ تعالٰی اپنے بندوں سے بہت قریب ہیں اور اُن کی ضرور سنتے ہیں۔ دعا مانگنا اور شکر ادا کرنا، یہ دو اسکلز ہیں جو آپ کی زندگی بدلنے کی قدرت رکھتی ہیں۔ کوشش کرنی چاہئیے کہ آپ کے شہر میں آپ سے بڑا منگتا کوئی نہ ہو۔ چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے بس مانگتے ہی رہیں۔ جوتے کے تسموں سے گاڑی تک اور نوکری سے گھر گر ہستی تک۔ ہم نے بوسٹن، مساچوسیٹس میں ایک 3 روزہ ٹریننگ کی۔ ادارے کا نام تھا رائٹ کیوسچن انسٹی ٹیوٹَ (RQI)۔ یہ لوگ تین دنوں میں صرف یہ بتاتے ہیں کہ سوال کیسے پوچھنا چاہئیے اور پھر ملنے والے جواب کو کیسے محفوظ کیا جاتا ہے۔ اگر صرف یہ ایک صلاحیت آپ اپنے بچوں کو سِکھا دیں تو اُس کی ترقی یقینی ہے۔ بالکل اسی طرح دعا مانگنے کا سلیقہ بھی وہ صلاحیت ہے جو زندگی بھر کے لئے کافی ہو جاتی ہے۔

یقین جانیے کہ اگر آپ کو صرف دعا مانگنی آ جائے تو آپ بھلے کسی پہاڑ کی چوٹی پر جا کر کسی غار میں بسیرا کر لیں، ایک پگڈنڈی لوگوں کو خود بخود آپ تک پہنچا دے گی۔ دعا اور شکر اللہ تک پہیچنے کا مختصر ترین راستہ ہے، بھکاریوں کو کہتے سنا کہ بھائی کچھ دے دو، میرے پاس سوائے اللہ کے کچھ بھی نہیں۔ ذرا غور کریں تو جس کہ پاس اللہ ہے اُسے مزید کچھ چاہئیے ہی کیوں؟ اگر آپ فارغ ہیں، بےروزگار ہیں تو آپ سے زیادہ خُدا سے مانگنے کا وقت کس کے پاس ہے؟ بس مانگتے چلے جائیں، بچوں کی طرح، رٹتے چلے جائیں۔ کسی سے سنا کہ ایک عورت زندگی بھر بھیک مانگتی رہی، جب اوپر پہنچی تو فرشتوں نے کہا کہ تم نے بڑا بُرا کام کیا اور تم ایسی ویسی ہو۔ اب یہاں کیا لینے آئی ہو؟ تو عورت نے حیرانگی سے پوچھا کہ دنیا میں زندگی بھر جس کے پاس جاتی وہ کہتا، اماں معاف کرو، اللہ دے گا۔ اب یہاں آئی ہوں تو بھی یہ سننا تھا۔ کہتے ہیں اس کی بخشش ہو گئی۔

اصل میں بات یہ ہے کہ اللہ سے حسنِ ظن رکھنا چاہئیے۔ اپنی پریشانیوں، کاروبار میں مندے کا رونا، اولاد کی نافرمانیوں کی داستان، گھریلو چپقلش کے شکوے، اور دنیاوی مسائل کا رونا، سب اللہ سے بدگمانی ہی تو ہے کہ نعوذ باللہ میرے مسائل بڑھ گئے اور اللہ کی رحمت چھوٹی پڑ گئی۔ اللہ بہت حیاء والا ہے وہ رحم کی اپیل کبھی رد نہیں کرتا۔ اُسے بڑی شرم آتی ہے اپنے بندے کو خالی ہاتھ واپس لوٹاتے ہوئے۔ آپ دیکھیں نا کہ آپ جو کچھ بھی مانگ لیں وہ اللہ کے بس میں ہے کہ وہ دے دے۔ اُس کا مخلوق سے کیا موازنہ؟ نہ اُس نے اسمبلی سے بِل پاس کروانا ہے، نہ سفارش لگوانی ہے، نہ بینک کھلنے کا انتظار کرنا ہے تو ایسا کیونکر ہو کہ وہ دینے پر قدرت رکھتا ہے، آپ کو اپنے سامنے ہاتھ پھیلانے کی توفیق دے، آپ کو اِس بات پر قدرت دے کہ آپ مانگ سکیں اور پھر لوٹا دے۔ نہیں بھائی، اللہ ایسا نہیں ہے۔ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے، میں نے ہر اِک سے یہی سنا ہے کہ وہ دے دیتا ہے۔ وہ جو کافر کو دیتا ہے وہ آپ کو نہیں دے گا؟ ایسا نہ کہیں۔

پانچویں پارے کی آخری آیت دیکھیں جو مَا یَفعَل اللہ سے شروع ہوتی ہے۔ ترجمہ کچھ یوں ہوا ہے،

’’اللہ کو کیا پڑی ہے کہ وہ تمہیں عذاب دے اگر تم شکر ادا کرو اور ایمان لے آو‘‘

اب بتائیں، نہ گناہوں کا ذکر نہ توبہ کا، شکر پہلے، ایمان بعد میں۔ یعنی کہ شکر ادا کرتے رہو تو ایمان کی توفیق مل جاتی ہے۔ ہر بات پر شکر کرو۔ بیوی پر نظر پڑے تو شکر، بچوں پر نظر پڑے تو شکر، نرم صوفے پر بیٹھیں تو شکر، گرم روٹی ملے تو شکر۔ ہر نعمت کا شکر بھی تو الگ ہے۔ آنکھ کا شکر، یہ کہ اس سے غلط چیز نہ دیکھیں۔ بھلا 3 گھنٹوں کی فلم کوئی کیسے دیکھے۔ یعٰنی پورے 3 گھنٹے اللہ کو یاد کیئے بغیر گزر جائیں، یہ تو بڑی غفلت ہے۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ غفلت بڑا عظیم گناہ ہے اورحضوری بڑی عظیم عبادت کہ اللہ یہاں میرے ساتھ موجود ہے۔

جیسے ہم پڑھاتے ہیں نا Mindfulness کہ اپنے آپ کو سمجھیں کہ آپ اِس وقت حال میں کیا کر رہے ہیں اور اُسے انجوائے کریں بالکل ایسے ہی اللہ کا خیال بھی رکھیں۔ اگر آپ دوستوں کے ساتھ کمرے میں بیٹھے ہوں اور آپ کے والد صاحب آجائیں تو بتائیں کیسے کوئی شرارت یا لغو بات ہو گی؟ اب سوچیں کہ اللہ بھی اِسی کمرے میں موجود ہیں۔ میرے ایک استاد کہتے ہیں کہ اللہ کی معرفت حرام ہے اُس شخص پر جس کی تنہائی پاک نہیں۔ تو بس مانگتے رہیں۔ کچھ نہ سمجھ آئے تو دو رکعت نماز تلاشِ گمشدہ پڑھ لیں۔ گناہ کا دل کرے تو اللہ سے کہہ دیں کہ تُو روک لے ورنہ میں تو گیا۔ روز رات کو چادر اُوڑھ کر اللہ سے موبائل کے نائٹ پیکجز کی طرح باتیں کریں۔ اُس کے ہونے کا احساس زندگی میں رونق بخش دیتا ہے۔ کوشش کریں کہ موقع اور نسبتوں کا خیال رکھیں۔ نسبتوں کی بے ادبی کرنے والوں کی زندگی سے برکت اُٹھ جاتی ہے اور پھر وہ دریا سے بھی پیاسے ہی لوٹتے ہیں۔ وہاں نیکی کریں جہاں کوئی بھی توقع نہ کر رہا ہو۔ وہاں دعا مانگیں جہاں کوئی نہ سوچے۔ وہاں گناہ سے رک جائیں جہاں لازمی ہو۔

دیکھیں گناہ کتنے کم جاتے ہیں حرمِ مکہ کی حدود میں، مسجد میں، رمضان میں۔ کیونکہ موسم نیکیوں کا ہوتا ہے۔ تو سوچیں کتنا ثواب ہو گا جب ہوا گناہوں کی چلی ہو۔ جو توڑے اُس سے جوڑیں۔ جو ذلیل کرے اُسے عزت دے دیں۔ جو ظلم کرے اُسے معاف کر دیں۔ عین غصّے کے وقت جب گالی زبان پر آنا چاہتی ہو، رک جائیں اور دعا دے دیں۔ عین وحشت کے وقت رک جائیں اور اللہ سے حلال میں برکت کی دعا کر دیں۔ عین بھوک کے وقت بھوکوں کا خیال کر لیں۔ عین خوشی کے وقت شکر بھی ادا کر دیں۔ موقع کی دعاَئیں اور نسبتوں کا خیال دعاؤں کے لئے بالکل ویسا ہی ہے جیسے طبیعاتی زندگی میں ٹائم ٹریول۔ یہ برکتوں سے بھر دیتا ہے۔ آئیے دعا مانگتے ہیں اِس یقین کے ساتھ کہ میرے اور اللہ میں صرف اُن دو ہاتھوں کا فاصلہ ہے جو اُس کے سامنے اٹھے ہوئے ہیں۔

’’اے مالکِ بحروبر، یا ذوالجلال والاکرام، اے برفانی جھرنوں کے پانی سے زیادہ پاک اللہ اُن پر کرم کر جو گناہوں کی کیچڑ میں ناپاک ہوئے۔ اے کائنات میں سب سے زیادہ چاہے جانے والی ذات اُن پر نظر کر جو دھتکارے گئے۔ اے سب سے زیادہ سمیع و بصیر اور پُکارے جانے والی ذات ہم پر رحم کر جو نظر انداز کئے گئے۔ جن کی سنی کوئی نہ گئی۔ جو در در ٹھکرائے گئے۔ اے سب سے زیادہ عزت والی مکرم ذات اُن کو معاف کردے جو ذلیل وخوار ہوئے۔ اے بلند و بالا، عالی مقام، شاندار اللہ انہیں بخش دے جو طعنوں، غیبتوں، جھوٹ، حسد کینہ و ظلم میں روند دئیے گئے۔

اے کروڑوں فرشتوں و مخلوقات کے خالق اللہ اُن سے راضی ہو جا، جنہیں اُن کے اپنے بھی چھوڑ گئے۔ جو اکیلے رہ گئے۔ اے پھل دار درختوں کے انداتا اُن پر رحم کر جن کے پاس کچھ نہ بچا۔ اے وقت کے خالق اللہ، اُن پر کرم جنہوں نے وقت کو ضائع کر دیا، عمر گنوا دی، کوئی کام نہ کیا۔ اے بے نیازوں کے بے نیاز اللہ، تُو کیا کرے گا مجھے عذاب دے کر، جتنے بھی ہیں سب گناہ معاف کر دے۔ اے مشکل کُشا، جیسے چاہے دے، جہاں سے چاہے دے۔ سن لے میری، اِس واسطے کہ تو اللہ ہے۔ تُو تو ربّ ہے میرا، انتَ مولٰنا! میں فقیر، میں عاجز، میں بندہ، میں کمزور، میں خطاکار، غلطی ہو گئی۔ بندہ تو تیرا ہی ہوں۔ تو اچھا معاملہ کر۔

اے اللہ! کوئی ایک قطرہ جو کسی پڑھنے والے کی آنکھ سے نکلا ہو، اُسی کے صدقے معاف کر دے۔ اسے معاف کر دے جس کے پاس پیش کرنے کو ایک نیکی بھی نہیں۔ میری عزت، میری جان، میری محبت، میرے کام سب تیرے صدقے۔ اب تو خالی ہوگیا، اب تو معاف کر دے!

بس ایسے ہی الٹی سیدھی، بچگانہ، ٹیڑھی میڑھی دعائیں مانگنے سے زندگی سیدھی ہوجاتی ہے۔

اللہ ہمیں دعا مانگنا سکھائے۔

آمین!.

ذیشان الحسن عثمانی

نماز آئینہ ہے

آپ نے کبھی آئینہ دیکھا ہے؟ وہ آپ کو آپ کی شکل دِکھاتا ہے، کپڑے دکھاتا ہے،
بتاتا ہے کہ آپ کتنے خوبصورت لگ رہے ہیں اور اگر کوئی داغ دھبہ کہیں لگا ہوا ہے تو وہ بھی۔ اب اگر آپ کے بال گردآلود ہیں، چہرے پر سیاہی ملی ہوئی ہے، کپڑے شکن آلود ہیں، جسم زخمی ہے، کانوں سے خون رِس رہا ہے، کالے لمبے دانت باہر نکلے ہوئے ہیں، آنکھیں لال و سیاہ ہو رہی ہیں تو آئینہ آپ کو یہ سب کچھ بھی دکھائے گا اور یقین جانیئے، اِس میں آئینے کا کوئی قصور نہیں۔ آپ جتنے چاہیں آئینے تبدیل کر لیں۔ صورتِ حال ویسی کی ویسی ہی رہے گی۔ اسی لئے ہم سب صبح نہا دھو کر تیار ہو کر، اچھے کپڑے پہن کر آئینہ دیکھنے کے عادی ہیں کہ سب کچھ اچھا اچھا ہی نظر آئے۔

نماز بھی ایک آئینہ ہی ہے باطن کا، آپ وضو کر کے دن میں پانچ بار اِس کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں، اور یہ آپ کو آپ کا باطن دِکھا دیتی ہے۔ اگر آپ کو نماز میں کوفت ہوتی ہے، دماغ منتشر رہتا ہے، گھبراہٹ ہوتی ہے، وحشت ہوتی ہے تو سمجھ جائیں کہ باطن کی حالت کیا ہے، اور یقین جانیئے کہ اِس میں نماز کا کوئی قصور نہیں ہے۔ جائے نماز بدل لینے سے، غسل کر لینے سے، مولوی صاحب یا مسجد تبدیل کرلینے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اب نماز جھوٹ تھوڑا ہی بولتی ہے، جیسے پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے بالکل ایسے ہی گناہ گناہ کو اور نیکی نیکی کو کھینچ لیتی ہے۔ آپ ایک نماز پڑھتے ہیں تو دوسری کی توفیق مل جاتی ہے اور ایک چھوڑ دیں تو اگلی چھوڑنی بھی آسان ہو جاتی ہے۔

نماز دن میں اعراب (punctuation marks) کی طرح آپ کو سہولت فراہم کرتی ہے کہ آپ اپنے 24 گھنٹوں کا پوسٹ مارٹم کر سکیں۔ نماز روزمرہ زندگی میں اللہ کی حضوری کی مقدار جانچنے کا ایک لٹِمس ٹیسٹ ہے۔ صبح کی نماز کا آئینہ آپ کو دکھاتا ہے کہ رات کیسی گزری۔ ہم ایسے گئے گزرے کہ رات کی سیاہی نہ دیکھنے کے لئے آئینے کے سامنے ہی نہیں جاتے اور سمجھتے ہیں کہ کوئی داغ کوئی دھبّہ ہی نہیں ہے۔ ظہر کی نماز کا آئینہ دکھاتا ہے کہ نوکری اور بزنس کے دوران احکاماتِ الہٰی کا کتنا خیال رکھا، عصر کی نماز کا آئینہ دن کہاں اور کیسے گزرا کا احوال بتاتا ہے، مغرب کا آئینہ خاندان اور نفس پر کی جانے والی محنت کا عکس دکھاتا ہے اور عشاء! کیا کہنے عشاء کے، آئینے میں عاشق کو اِس کا چہرہ دکھاتی ہے کہ محبت نور بن کر چہرے پر چمکے۔

آج میں نے کتنے پراڈکٹ بیچے، کتنے لوگوں سے میٹننگز کیں، بینک کے حساب سے لے کر ٹیکسوں کے گوشوارے تک، اور رات دیکھی جانے والی فلم سے لے کر موبائل فون کی پُر تکلف گفتگو تک، یہ سب کچھ ہی تو دورانِ نماز یاد آتا ہے۔ آئینے میں ان کو دیکھ کر عبرت پکڑنی چاہئیے۔ ہر وہ چیز جو آپ کی نماز کے حُسن کو خراب کر دے، حضوری کی لذت چھین لے، یقین جانیئے! اِس قابل ہی نہیں کہ اس کا ذکر کیا جائے۔ بات چل نکلی ہے، عشق کی تو سمجھ لینا چاہئیے کہ رتبے میں عاشق و معشوق کا کوئی موازنہ نہیں۔ عاشق تو معشوق کی صفات سے عشق کرتا ہے، یہ تو معشوق ہے جو عاشق کی ذات سے عشق کرتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ عاشق کو عشق کی سچائی صفات سے گزار کر ذات تک لے جائے اور ایک مقام وہ آئے کہ معشوق کی صفات عاشق میں جلوہ گر ہوں۔

 

آپ کو تو محبوب سے عشق اِس کی مسکراہٹ کی ملاحت، رخسار کی صباحت، قد کی آراستگی، گفتگو کی مٹھاس، غمزوں کا ناز و انداز، چاہ ذقن، پُر شکن گیسو، خمدار ابرو اور پُرشکوہ جوانی دیکھ کر ہوا۔ اِس نے کیا دیکھا آپ میں؟ یہ ہے اصل سوال۔ بالکل اسی طرح یہ تو اللہ کا کرم ہے کہ وہ آپ کو توفیق دے کہ آپ اِس کے سامنے سجدہ کرسکیں۔ نماز چھٹ جائے تو سوچنا ہی چاہئیے کہ زندگی میں ایسا کیا کیا کہ یہ توفیق بھی چِھن گئی؟ نماز میں کم از کم ایک بار اللہ کے سامنے حاضری کا خیال فرض ہے۔ اب اگر نماز میں بزنس و جاب کے مسائل ہی نظر آتے رہیں تو اپنے آپ پر بڑی محنت و توجہ کی ضرورت ہے، اور نماز کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آدمی جھوٹ نہیں بول پاتا۔ سوچتا ہی ہے کہ کیا کر رہا ہے، آپ جب ’’ایاک نعبد و ایاک نستعین‘‘ پر پہنچتے ہیں کہ اے اللہ! تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں تو دل کچوکے لگاتا ہے۔ روک دیتا ہے، اور ایک اور آیت سناتا ہے کہ ’’لم یقولون ما لا تفعلون‘‘ تم ایسی باتیں کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں۔ اور آدمی شش و پنج میں کھڑا وہ جاتا ہے کہ سورہِ فاتحہ پوری کیسے کرے؟

آئیے، نماز کے باطنی آئینے پر بھی توجہ کریں کہ کاش ہماری ظاہری خوبصورتی کا عکس باطن تک بھی پہنچے یا باطن اتنا منور ہوجائے کہ ظاہر بھی دُھل جائے۔

اللہ ہمیں نمازوں میں کھڑا ہونے کا شرف بخشیں۔

آمین!

ذیشان الحسن عثمانی

واسکوڈی گاما کے دیس میں مساجد

کچھ دِن پہلے بارسلونا سے’’واسکوڈے گاما‘‘ کے ملک پرتگال جانے کا اتفاق ہوا۔ تقریباً ڈیڑھ سے پونے دو گھنٹے کی پرواز کے بعد ہمارا جہاز وہاں کے دارالحکومت ’’لزبن‘‘ اُترا۔ ائیر پورٹ پر ہمارے دوست ہمیں اپنے ساتھ لیجانے کے لئے موجود تھے۔ دوران سفر ہم نے احباب سے اپنی اسلامی تاریخ سے دلچسپی کا اظہار کیا، جواب میں کہا گیا کہ ہم آپ کو ایسی جگہوں پر لے جائیں گے جہاں آپ کے شوق کی تکمیل ہو گی۔ گھر پہنچ کر کچھ آرام کیا اور پھر احباب کے ساتھ یورپ کے خوبصورت ملک پرتگال کے چیدہ چیدہ اور تاریخی مقامات کی سیر کو نکل پڑے۔ سب سے پہلے ہم اُس جگہ گئے جہاں بر اعظم یورپ کا اختتام ہوتا ہے اِس لئے اُس جگہ کو ( End Of Europe) کہا جاتا ہے۔

یہاں یہ لکھنا بھی ضروری ہے کہ (End Of World ) یعنی دُنیا کا آخری کنارہ ناروے میں ہے۔ بہر حال یہ ایک دیکھنے والا منظر تھا، مختلف ممالک کے سیاح وہاں موجود تھے مذکورہ مقام کی خاص بات یہ ہے کہ سمندر کے اِس آخری کنارے کے بعد خشکی کا پہلا حصہ امریکہ ہے۔ یہاں سے ہم مسلمانوں کے دور حکومت میں بنائے گئے اُس قلعے کی جانب روانہ ہوئے جو لزبن سے کار کے ذریعے ایک گھنٹے کی مسافت پر علاقے ’’سین ترا‘‘ میں واقع ہے اور اسے ’’نیو کاسیل‘‘ کا نام دیا گیا ہے اس قلعے کے دروازے پر کلمہ طیبہ اور اندر آج بھی عربی آیات لکھی ہوئی ہیں آنکھیں اور دِل یہ دیکھ کر معطر ہو گئے۔ معلومات لیں کہ یہ عربی آیات یہاں کیسے؟

احباب نے بتایا کہ 711 میں جب طارق بن زیاد جبرالٹر جسے عربی میں جبل الطارق بھی کہا جاتا ہے کے راستے اسپین میں داخل ہوا اور بارہ ہزار سپاہیوں کے ساتھ اسپین کے سپہ سالار’’ رودریکو ‘‘ سے ٹکرایا، رودریکو کے پاس اُس وقت ایک لاکھ سپاہی تھے، لیکن جذبہ ایمانی سے لبریز مسلمان سپہ سالار نے کفر کو شکست دے دی۔ فتوحات کا یہ سلسلہ بڑھتے بڑھتے پرتگال اور فرانس کے کافی حصوں تک پھیل گیا۔ اُس دور کی ایک نشانی پرتگال کا شہر ’’فاطمہ‘‘ بھی ہے جو اُس وقت کے مسلمان بادشاہ کی ملکہ کے نام پر آباد کیا گیا تھا۔ اسلامی ادوار کی نشانیاں دیکھ کر تھک گئے تو باقی اگلے دن دیکھنے کا فیصلہ سناتے ہوئے واپس روانہ ہوئے۔

رات اور ہلکی ہلکی بارش میں مسلمانوں کے دورِ حکومت میں بننے والے تعمیراتی شاہکاروں کے عکس اپنے دِل و دماغ میں محفوظ کرتے ہوئے ہم بڑے ہائی وے پر محو سفر تھے کہ اچانک ہماری نظر مسجد کے ایک بڑے مینار پر پڑی توہم چونک گئے۔ احباب سے پوچھا کہ یہ روشنیوں میں نہایا اور جگ مگ کرتا مینار کس مسجد کا ہے؟ دوستوں نے کہا کہ ہم آپ کو اِس مسجد میں ہی لے چلتے ہیں کیونکہ یہ بھی رواں صدی کا ایک بھر پور شاہکار ہے۔ تجسس بڑھتا جا رہا تھا کیونکہ مسجد بالکل نئی اور موجودہ طرز تعمیر کا پتا بتا رہی تھی۔ مسجد میں داخل ہوئے تو ہمارا استقبال ’’موزمبیق‘‘ سے تعلق رکھنے والے امام مسجد شیخ منیر نے کیا۔ ہم نے شیخ منیر سے اِس مسجد کی بابت ایک ہی سانس میں کئی سوال کر دئیے۔

شیخ منیر ہمارے ساتھ مخاطب ہوئے اور کہا کہ وہ 1986 سے یہاں امامت کروا رہے ہیں۔ وہ موزمبیق کے رہنے والے ہیں اُردو انہوں نے کراچی یونیورسٹی میں زیر تعلیم رہ کر سیکھی۔ انہوں نے پرتگال اور موزمبیق کی جو تاریخ ہمیں بتائی وہ ہم اُن کی زبانی آپ کو سنانا چاہتے ہیں، 1960 سے موزمبیق کے مسلمان پرتگال آنا شروع ہوئے تھے، 1968میں ’’اسلامک کمیونٹی آف لزبن‘‘ کی بنیاد رکھی گئی جس کے تحت لزبن میں پہلی سینٹرل مسجد بنائی گئی۔ پہلے پہل مسجد کو اسلامی ممالک فنڈنگ کرتے تھے لیکن یہ سلسلہ مدھم ہو گیا اب ایران ٹائلز اور سعودی عرب مسجد کو ماربلز اور دوسرا سامان مہیا کرتے ہیں لیکن فنڈنگ نہیں ہوتی۔ اِس سینٹرل مسجد میں بیک وقت میں 7 ہزار مسلمان نماز ادا کر سکتے ہیں۔

یہاں تمام مسالک کو نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔ 1975میں جب پرتگال نے موزمبیق اور’’ گنی بی ساؤ‘‘ کو آزاد کیا تو وہاں کے مسلمانوں کے پاس پاسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے ان کوموزمبیق سے کسی دوسرے ملک جانا بہت دشوار بلکہ ناممکن تھا تب حکومت پاکستان نے موزمبیقی افراد کو پاسپورٹ دئیے تا کہ وہ اپنی مرضی کے ملک میں جا سکیں۔ موزمبیقی انڈیا اور پاکستان گئے لیکن وہاں کے کلچر کے ساتھ نبھا نہ کر سکے اور پرتگال آ گئے کیونکہ موزمبیق پرتگالی کالونی رہا تھا اور پرتگالی باشندے موزمبیق میں رہ چکے تھے اس لئے وہ ایک دوسرے کے کلچر کو سمجھتے تھے۔ واسکوڈے گاما نے جہاں انڈیا دریافت کیا وہاں وہ نارتھ کی طرف برازیل تک گیا، گوا، دمن اور ’’دی اُو‘‘ پرتگالی کالونیاں تھیں لیکن 1971میں انڈیا نے جنگ کر کے پرتگال سے یہ علاقے چھین لئے، یہی وجہ ہے کہ پرتگال کے موجودہ وزیر اعظم کے آبائو اجداد کا تعلق ’’گوا‘‘ سے ہے۔

یہ روایت بھی ہے کہ پرتگال اور برطانیہ کے بادشاہوں کے درمیان رشتہ داریاں بھی ہوئیں اور آج بھی پرتگال میں انگلش کالونیاں موجود ہیں۔ واسکوڈے گاما جب مسقط، موزمبیق، گوا، انڈونیشیا، برازیل، تائی مور آئی لینڈ تک گئے تو اُن کی رہنمائی مراکش کے ایک شہری نے کی تھی، اِن ملکوں میں پرتگیش زبان بولے جانے کی وجہ یہی ہے کہ وہاں پرتگال کی حکومت رہی تھی۔ لزبن کے نواح میں مسجد عائشہ سمیت سائوتھ اور نارتھ پرتگال میں پچاس مساجد موجود ہیں۔ رمضان المبارک کا روزہ افطار کرنے کے لئے پندرہ سو مسلمان روزانہ سینٹرل مسجد لزبن میں پہنچتے ہیں۔ پرتگال میں پاکستانی مسلمانوں کی تعداد 3 ہزار تین سو گیارہ ہے۔ ہر ہفتے مسجد میں اسلامک فورم ترتیب دیا جاتا ہے جس میں مقامی کمیونٹی شریک ہوتی ہے۔ مسجد کے اخراجات کو پورا کرنے کے لئے پرتگال میں مقیم مسلمان ہی پیش پیش ہیں جبکہ ترکی سے ماربلز، اور ایران سے ٹائلز کی امداد کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی ایک فیملی نے بھی مسجد کا زیریں حصہ تعمیر کرایا ہے۔

شیخ منیر بولتے جا رہے تھے اور ہم مسلمان ممالک کی اِ س بے حسی پر حیران تھے کہ وہ جنگی جنون میں ہتھیار خریدنے کو ترجیح دے رہے ہیں، بڑی طاقتوں سے اپنے تعلقات کو بہتر سے بہتر بنانے کے لئےاخراجات کے ساتھ ساتھ ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں، مغربی ممالک سے اقتصادی اور ثقافتی روابط بڑھانے میں تیزی لا رہے ہیں لیکن غیر مسلم ملک میں قائم یورپ کی اتنی بڑی مسجد کی تعمیر اور اُس کو قائم رکھنے کے لئے نہ تو کوئی حکمت عمل بنائی جا رہی ہے اور نہ ہی کوئی امدادی اسکیم زیر غور ہے۔ 6 سو سال تک اسلامی شعار سے بنجر رہنے والی زمین پر اگر سینٹرل مسجد لزبن جیسا پھول اُگا ہے تو اُس کی آبیاری اور حفاظت کی ذمہ داری اسلامی ممالک کیوں نہیں لے رہے، دُنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔

شفقت علی رضا