رشتہ داروں سے حسنِ سلوک

ہمارا معاشرہ انتشار میں مبتلا ہے اور بحرانی کیفیت میں ہے، جس کی وجہ سے آئے دن طرح طرح کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ یہ مسائل ہر سطح اور ہر پیمانے پر ہیں۔ ایک مسئلہ حل ہونے نہیں پاتا کہ دوسرے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ بلکہ بعض وقت تو کسی مسئلے کا حل ہی نئے مسائل کی وجہ بن جاتا ہے۔ میرے خیال میں یہ صورت اس وقت تک رہے گی جب تک معاشرے کے بنیادی اداروں کو مستحکم نہیں کرتے۔ بنیادی، سماجی ادارہ ہے محلہ۔ ذیل میں اسی ادارے کے بارے میں حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کے ارشادات کی روشنی میں چند اہم باتیں کی گئی ہیں۔ اﷲ کے آخری اور پیارے نبی حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ اچھی زندگی کس طرح گزاری جا سکتی ہے۔

دنیا میں انسان کے سکون اور خوشی کا انحصار اچھے تعلقات پر ہے۔ کوئی آدمی اپنے قریب کے لوگوں سے بگاڑ کر خوش نہیں رہ سکتا۔ رشتے دار آپس میں سب سے قریب ہوتے ہیں۔ پڑوسی بھی بہت قریب ہوتے ہیں۔ بعض دوست اور ساتھی بھی عزیزوں کی طرح ہوتے ہیں۔ پھر رشتے داروں میں بھی کئی درجے ہوتے ہیں، ماں، باپ، میاں، بیوی، بیٹا، بیٹی، بھائی، بہن اور دوسرے رشتے دار اپنی اپنی جگہ محبت اور تعلق رکھتے ہیں۔ ان سب کا حق ایک دوسرے پر ہوتا ہے اس حق کو ادا کرنے کے جذبے کو رشتوں کا احترام کہنا چاہیے۔ جو عزیز، رشتے دار جس سلوک کا مستحق ہے اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے۔

حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ’’تم میں سب سے زیادہ کامل ایمان اس شخص کا ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں اور جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھے سلوک میں سب سے بڑھا ہوا ہو۔‘‘ ایک بار حضورؐ نے اپنے ساتھیوں (صحابہؓ) سے پوچھا ’’جانتے ہو تم میں مفلس کون ہے؟‘‘صحابہ نے جواب دیا ’’مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس نہ تو درہم ہوں نہ کوئی اور سامان۔‘‘
حضورؐ نے فرمایا ’’میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت میں اپنی نماز روزہ اور زکوٰۃ کے ساتھ ﷲ کے سامنے حاضر ہو گا مگر اس کے ساتھ اس نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہو گی، کسی پر تہمت لگائی ہو گی، کسی کا مال دبایا ہو گا، کسی کو ناحق مارا ہو گا، ان تمام مظلوموں میں اس کی نیکیاں بانٹ دی جائیں گی، پھر اگر اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں اور مظلوموں کے حقوق باقی رہے تو ان مظلوموں کی غلطیاں اس کے حساب میں ڈال دی جائیں گی۔ اور پھر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا‘‘

آپس میں لوگوں سے اچھے تعلقات رکھنا، اخلاقی خوبی ہے اور لڑنا جھگڑنا برا بھلا کہنا اخلاقی عیب ہے لیکن جو لوگ دوسرے لوگوں کے آپس کے تعلقات خراب کراتے ہیں ان کے دلوں میں رنجش پیدا کرتے ہیں وہ تو اپنی عبادتوں کا ثواب بھی ضایع کر دیتے ہیں۔ حضورؐ کا فرمان ہے ’’میں تمھیں بتائوں کہ روزے، صدقے اور نماز سے بھی افضل کیا چیز ہے؟ وہ ہے بگڑے ہوئے تعلقات میں صلح کرانا اور لوگوں کے باہمی تعلقات میں فساد ڈالنا، وہ فعل ہے جو آدمی کی ساری نیکیوں پر پانی پھیر دیتا ہے۔‘‘ سرکاری دو عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کا ایک اور فرمان ہے ’’اپنے بھائی سے جھگڑا نہ کرو، نہ اس کے ساتھ ایسا مذاق کرو جس سے اسے تکلیف ہو اور نہ ایسا وعدہ کرو جسے پورا نہ کر سکو‘‘

حضورؐ کا یہ ارشاد بھی پڑھیے ’’تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنے بھائی کے لیے وہی بات پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘
جس گھر کے لوگ آپس میں میل محبت سے رہتے ہیں ایک دوسرے کے کام بڑھ چڑھ کر کرتے ہیں اور تکلیف میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں تو اس خاندان کے لوگ کتنے آرام سے زندگی گزارتے ہیں، خاندان معاشرے کی پہلی اکائی ہے یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ بہت سے خاندانوں کا مجموعہ معاشرہ کہلاتا ہے۔ ایک شہر یا ایک ملک کے لوگ مل کر ایک معاشرہ بانٹے ہیں، کسی شہر کے لوگوں کی عادتیں، اخلاق، طور طریقے، مزاج، رسمیں، رہنے سہنے اور کھانے پینے کے طریقے آپس میں ملنے جلنے کے انداز اس شہر کی زندگی کو آسان یا مشکل بناتے ہیں، اس شہر میں رہنے والا ہر شخص معاشرے پر اثر ڈالتا ہے اور اثر لیتا بھی ہے۔

حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے جو ہدایات دی ہیں اور خود اپنی زندگی میں اپنے عمل سے جو نمونہ یا معیار ہمیں عطا کیا ہے اس پر عمل کیا جائے تو خاندان اور معاشرے کے سب لوگوں کو سکون اور خوشی میسر آ سکتی ہے۔ حضورؐ خود بھی اپنے خاندان اور رشتوں کا بہت خیال رکھتے تھے آپؐ نے فرمایا ’’غریب، مسکین کو صدقہ دینے سے صرف صدقے کا ثواب ملتا ہے اور غریب رشتے دار کو دینے سے دہرا ثواب ملتا ہے۔‘‘ ایک صاحب آپؐ کی خدمت میں آئے اور سوال کیا کہ ’’یا رسول اﷲ! میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟‘‘
آپؐ نے فرمایا۔’’ تیری ماں۔‘‘
’’پوچھا پھر کون؟‘‘
فرمایا ’’تیری ماں۔‘‘
ان صاحب نے پھر پوچھا ’’پھر کون؟‘‘
فرمایا ’’تیری ماں‘‘
تین بار آپؐ نے ماں ہی کو حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق بتایا۔
چوتھی بار پوچھنے پر آپؐ نے فرمایا ’’تیرا باپ‘‘

حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں ہم پر سب سے زیادہ احسان ماں کا ہی ہوتا ہے ہمیں پالنے اور ہماری حفاظت کرنے کے لیے جو محنت ماں کرتی ہے اور اپنے آرام کی قربانی ماں دیتی ہے، وہ کوئی نہیں دے سکتا۔ ماں کے بعد باپ کا درجہ بھی اپنی اولاد کے لیے جو قربانی دیتا ہے وہ ماں کے بعد کسی سے کم نہیں۔
حضرت حلیمہ سعدیہؓ نے آپؐ کو دودھ پلایا تھا وہ آپؐ کی رضاعی ماں تھیں۔ آپؐ نے ایک بار ان کے قبیلے کی جنگی قیدیوں کو ان کی سفارش پر رہا فرمایا تھا۔ مہمان کی خاطر مدارات بھی اچھی زندگی کا ضروری حصہ ہے۔

حضورؐ نے مہمان کے آرام اور عزت کی تاکید فرمائی ہے۔ ارشاد ہے ’’جو شخص اﷲ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی عزت کرنی چاہیے، اپنے پڑوسی کو تکلیف نہیں دینی چاہیے‘‘ جو لوگ قریب رہتے ہیں چاہے وہ رشتے دار نہ ہوں لیکن رشتے داروں سے زیادہ ان سے واسطہ پڑتا ہے ان سے اچھے تعلقات انسان کی شرافت کا ثبوت ہیں۔ حضورؐ کا اعلان ہے ’’ مومن نہیں ہے، ﷲ کی قسم وہ مومن نہیں، ﷲ کی قسم وہ مومن نہیں ہے، جس کی بدی سے اس کا پڑوسی امن میں نہ ہو۔‘‘

آپؐ نے یہ بھی فرمایا ’’جو شخص پیٹ بھر کر کھا لے اور اس کے بازو میں اس کا پڑوسی بھوکا رہ جائے وہ ایمان نہیں رکھتا۔‘‘ ’’بہترین حاکم وہ ہے جو اپنی رعایا اور اپنے ماتحتوں کو نہ ستائے، بلکہ ان کے آرام کا خیال رکھے۔‘‘ حضورؐ کا ارشاد ہے ’’وہ شخص جنت میں داخل نہ ہو گا جو اپنے ماتحتوں پر بری طرح افسری کرے۔‘‘ اگر ہر شخص اپنی حیثیت کا خیال رکھے اور اس حیثیت سے اس کا جو فرض بنتا ہے وہ ادا کرتا رہے تو سب خوش رہیں گے اور کسی کو شکایت یا تکلیف نہیں ہو گی۔

سرکار دو عالم صلی اﷲ علیہ وسلم نے صرف چند الفاظ میں ایک ایسا نکتہ بیان فرمایا، جس کو سمجھ لیا جائے تو ہر طرف سکون اور راحت کا دور دورہ ہو جائے۔ آپؐ نے فرمایا ’’تم میں سے ہر ایک اپنی رعایا کا نگہبان ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کے بارے میں باز پرس ہو گی۔ مرد اپنی بیوی کا رکھوالا ہے۔ اس سے اس کی بیوی کی پوچھ ہو گی اور بیوی اپنے شوہر کے گھر کی نگراں ہے۔ اس سے اس کی پوچھ ہو گی۔‘‘ قرابت داروں یا رشتے داروں کا حق ادا کرنے سے معاشرے میں خوشی اور خوشحالی آتی ہے۔ قرآن پاک میں اﷲ تعالیٰ نے رشتوں کا خیال رکھنے کی ہدایت فرمائی ہے ’’اس ﷲ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو اور رشتے و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو‘‘ (سورۂ نساء آیت 1)

رشتے داروں کے حق ادا کرنے سے عمر بڑھتی ہے اور رزق میں برکت ہوتی ہے۔
حضور ؐ نے فرمایا ’’جس کو یہ پسند ہو کہ اس کی روزی میں وسعت ہو اور اس کی عمر میں برکت ہو تو اس کو چاہیے کہ صلہ رحمی کرے‘‘ (یعنی رشتے کا حق ادا کرے) رشتوں کا حق ادا کرنے سے زندگی میں آسانی پیدا ہوتی ہے اور محبت کے چشمے سے افرا تفری ختم کر کے معاشرے کو پر سکون، مستحکم اور شاداب کرتے ہیں۔

مسعود احمد برکاتی

Advertisements

دینی میسجز احتیاط سے شئیر کریں

اللہ تعالیٰ سچ بولنے کا تاکید کے ساتھ حکم دیتے ہیں اور جھوٹ بولنے سے سختی کے ساتھ منع فرماتے ہیں، اسلامی تعلیمات میں جھوٹ گناہ کبیرہ ہے، لیکن دلائل شریعت میں جھوٹ کی آمیزش کر دی جائے تو پھر یہ محض کبیرہ نہیں رہتا بلکہ اکبر الکبائر (بڑا گناہ) بن جاتا ہے۔ دین اسلام کی بنیاد محکم ، مضبوط ، معتبر ، معتمد اور مستند ہے اس میں کمزور، مشکوک باتیں، تک بندی اور اندازے نہیں چلتے۔ اسلام پر ایمان اور اس کے احکامات پر عمل کا مدار قرآن کریم کے بعد احادیث مبارکہ ہیں، قرآن کریم کے الفاظ ، معانی ، مفہوم ، تعین ، مراد اور حقیقت احادیث مبارکہ سے سمجھی جا سکتی ہے اس لیے یہاں سخت احتیاط کا حکم دیا ہے۔

علمائے امت نے احادیث کے الفاظ، معانی، مفہوم ، متون ، اسناد ، رواۃ (نقل کرنے والے افراد)، صحت و ثقاہت ، اس کی ضرورت، حجیت، حفاظت، جمع و تدوین کے ساتھ ساتھ اس کے اصول و قواعد ، اقسام و اسلوب اور روایت کرنے کے آداب و شرائط کو مکمل تفصیل ، خوب تحقیق اور عمدہ ترتیب کے ساتھ بیان کیا ہے ، اس کی حفاظت کے لیے اسماء الرجال اور جرح و تعدیل جیسے علوم کو ضروری قرار دیا تاکہ اسلام کی یہ بنیاد مضبوط ہی رہے۔ چونکہ یہ اسلام کی بنیاد ہے اس لیے اس کی اشاعت، حفاظت، تعلیم و تبلیغ اور تفہیم میں علماء کرام نے بہت محنت سے کام کیا ہے، محدثین اور کتب احادیث کے مختلف طبقات مقرر کیے گئے۔

یہ معاملہ اس قدر نازک اور حساس ہے کہ اگر کوئی شخص حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کسی بات یا کام کی نسبت جھوٹ کے طور پر کر دے، یعنی بات درست بھی ہو لیکن حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ارشاد نہ فرمائی ہو یا کام بلکہ درست اور جائز ہو لیکن حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نہ فرمایا ہو اور کوئی شخص اپنی طرف سے اس بات یا کام کی نسبت آپﷺکی طرف کر دے تو اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا: جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے (میری طرف کسی کام یا کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے) تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم بنا لے۔

ہاں ،سچی بات ضرور کہی جائے لیکن جو حدیث شریف نہ ہو اسے زبردستی حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بنا کر پیش نہ کیا جائے۔ یہ طرز عمل جہنم جانے کا سبب ہے۔ آج علمی زوال اور اخلاقی انحطاط اور عملی فقدان کا زمانہ ہے، عقائد میں کمزوریاں اور توہمات دَر آئے ہیں، اعمال میں بدعات و رواج شامل ہو گئے ہیں، اخلاق ، رسم محض اور اخلاص سے دل خالی ہو چکے ہیں۔ بد دینی کا مسافر لادینی کو اپنی منزل کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ ایسے میں دینی علم و عمل سے عاری اور اخلاق و اخلاص سے خالی جاہل طبقے نے اسلام کو مشق ستم بنا رکھا ہے۔ موسم کے مطابق دین کے نام پر میسجز بناتے ہیں ، نہ کسی معتبر عالم دین سے اس کی رہنمائی لیتے ہیں اور نہ ہی معتبر کتب کی طرف مراجعت کرتے ہیں ، بس ایک شوشہ چھوڑتے ہیں اور لاعلمی کی بنیاد پر ایک جھوٹی بات کو العیاذ باللہ حدیث بنا کر پیش کر دیتے ہیں اور اس کے بعد میسج بنا کر پھیلا دیتے ہیں ، پھر عوام ا س کو دھڑا دھڑ دین سمجھ کر آگے پھیلاتے ہیں۔

مثال کے طور یہ میسج چلایا جاتا رہا ہے کہ :’’ ربیع الاول شروع ہونے والا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے سب سے پہلے کسی کو ربیع الاول کی مبارک دی اس پر جنت واجب ہو گئی۔ ‘‘ جس مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات کی پیدائش ہوئی یقینا وہ مہینہ محترم ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس مہینے کی فضیلت بیان کرنے کے لیے جھوٹی اور بے بنیاد بات کو حدیث شریف بنا کر پیش کیا جائے۔ پھر ستم یہ ہے کہ سادہ لوح مسلمان اسے دین کا حکم سمجھ کر آگے پھیلاتے ہیں، میسج کے آخر یا شروع میں یہ بھی اضافہ کیا جاتا ہے کہ یہ میسج اور پوسٹ لائک اور شئیر ضرور کریں ، اتنے لوگوں کو فارورڈ کریں گے تو خوشی ملے گی ، اور اگر اس کو آگے نہ پھیلایا تو کوئی ناگہانی آفت اور صدمہ پیش آئے گا۔

یاد رکھیں ! شریعت اسلامیہ کی یہ تعلیمات ہرگز نہیں۔ دین اسلام کو پھیلانے کا حکم محض دس بارہ افراد تک محدود نہیں ، بلکہ جہاں تک انسان کی دسترس ہے وہاں تک دین کی صحیح ، ثابت شدہ اور اہل اسلام میں قابل عمل بات پر خود بھی عمل کرے کسی معتبر کتب سے دین کا مسئلہ خود پڑھے دوسرے کو بھی پڑھائے ، خود کسی معتبر عالم دین سے مسئلہ سیکھے دوسرے کو بھی سکھائے ، اس میں قباحت نہیں لیکن نہ تو دین کی معتبر کتب کا کچھ پتہ ہو اور نہ ہی اسلام کی مقتدر شخصیات سے رہنمائی لے بلکہ سوشل میڈیا پر چلتے پھرتے جھوٹے اور غیر ثابت شدہ میسجز کو دین سمجھ کر آگے پھیلاتے رہنا انجام کے اعتبار سے خسارے والی بات ہے۔

جو باتیں احادیث کی کتب میں صحیح طور پر منقول ہیں ،ان کو نقل کیا جائے اور ان سے سبق حاصل کیا جائے ، لیکن اعتدال اور حق سچ کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے ۔ اسلامی مہینوں میں ربیع الاول ، رمضان المبارک ، محرم الحرام ، صفر المظفر، رجب المرجب اور شعبان المعظم میں بے بنیاد اور جھوٹے میسجز بہت پھیلائے جاتے ہیں ، اس سے بچنے کا آسان سا طریقہ یہ ہے کہ میسجز پر تحقیق کر لی جائے ۔ علماء کی مذہبی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام کی اس بارے میں رہنمائی کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین پر چلنے اور گمراہیوں سے بچنے کی توفیق دے۔

مولانا محمد الیاس گھمن

دعا کی اہمیت اور اُس کی ضرورت

دعا وہ میڈیم، ذریعہ، واسطہ یا ہاٹ لائن ہے جو بندے کو ڈائریکٹ اللہ سبحانہ و
تعالٰی سے کنیکٹ کر دیتی ہے۔ اللہ تعالٰی اپنے بندوں سے بہت قریب ہیں اور اُن کی ضرور سنتے ہیں۔ دعا مانگنا اور شکر ادا کرنا، یہ دو اسکلز ہیں جو آپ کی زندگی بدلنے کی قدرت رکھتی ہیں۔ کوشش کرنی چاہئیے کہ آپ کے شہر میں آپ سے بڑا منگتا کوئی نہ ہو۔ چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے بس مانگتے ہی رہیں۔ جوتے کے تسموں سے گاڑی تک اور نوکری سے گھر گر ہستی تک۔ ہم نے بوسٹن، مساچوسیٹس میں ایک 3 روزہ ٹریننگ کی۔ ادارے کا نام تھا رائٹ کیوسچن انسٹی ٹیوٹَ (RQI)۔ یہ لوگ تین دنوں میں صرف یہ بتاتے ہیں کہ سوال کیسے پوچھنا چاہئیے اور پھر ملنے والے جواب کو کیسے محفوظ کیا جاتا ہے۔ اگر صرف یہ ایک صلاحیت آپ اپنے بچوں کو سِکھا دیں تو اُس کی ترقی یقینی ہے۔ بالکل اسی طرح دعا مانگنے کا سلیقہ بھی وہ صلاحیت ہے جو زندگی بھر کے لئے کافی ہو جاتی ہے۔

یقین جانیے کہ اگر آپ کو صرف دعا مانگنی آ جائے تو آپ بھلے کسی پہاڑ کی چوٹی پر جا کر کسی غار میں بسیرا کر لیں، ایک پگڈنڈی لوگوں کو خود بخود آپ تک پہنچا دے گی۔ دعا اور شکر اللہ تک پہیچنے کا مختصر ترین راستہ ہے، بھکاریوں کو کہتے سنا کہ بھائی کچھ دے دو، میرے پاس سوائے اللہ کے کچھ بھی نہیں۔ ذرا غور کریں تو جس کہ پاس اللہ ہے اُسے مزید کچھ چاہئیے ہی کیوں؟ اگر آپ فارغ ہیں، بےروزگار ہیں تو آپ سے زیادہ خُدا سے مانگنے کا وقت کس کے پاس ہے؟ بس مانگتے چلے جائیں، بچوں کی طرح، رٹتے چلے جائیں۔ کسی سے سنا کہ ایک عورت زندگی بھر بھیک مانگتی رہی، جب اوپر پہنچی تو فرشتوں نے کہا کہ تم نے بڑا بُرا کام کیا اور تم ایسی ویسی ہو۔ اب یہاں کیا لینے آئی ہو؟ تو عورت نے حیرانگی سے پوچھا کہ دنیا میں زندگی بھر جس کے پاس جاتی وہ کہتا، اماں معاف کرو، اللہ دے گا۔ اب یہاں آئی ہوں تو بھی یہ سننا تھا۔ کہتے ہیں اس کی بخشش ہو گئی۔

اصل میں بات یہ ہے کہ اللہ سے حسنِ ظن رکھنا چاہئیے۔ اپنی پریشانیوں، کاروبار میں مندے کا رونا، اولاد کی نافرمانیوں کی داستان، گھریلو چپقلش کے شکوے، اور دنیاوی مسائل کا رونا، سب اللہ سے بدگمانی ہی تو ہے کہ نعوذ باللہ میرے مسائل بڑھ گئے اور اللہ کی رحمت چھوٹی پڑ گئی۔ اللہ بہت حیاء والا ہے وہ رحم کی اپیل کبھی رد نہیں کرتا۔ اُسے بڑی شرم آتی ہے اپنے بندے کو خالی ہاتھ واپس لوٹاتے ہوئے۔ آپ دیکھیں نا کہ آپ جو کچھ بھی مانگ لیں وہ اللہ کے بس میں ہے کہ وہ دے دے۔ اُس کا مخلوق سے کیا موازنہ؟ نہ اُس نے اسمبلی سے بِل پاس کروانا ہے، نہ سفارش لگوانی ہے، نہ بینک کھلنے کا انتظار کرنا ہے تو ایسا کیونکر ہو کہ وہ دینے پر قدرت رکھتا ہے، آپ کو اپنے سامنے ہاتھ پھیلانے کی توفیق دے، آپ کو اِس بات پر قدرت دے کہ آپ مانگ سکیں اور پھر لوٹا دے۔ نہیں بھائی، اللہ ایسا نہیں ہے۔ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے، میں نے ہر اِک سے یہی سنا ہے کہ وہ دے دیتا ہے۔ وہ جو کافر کو دیتا ہے وہ آپ کو نہیں دے گا؟ ایسا نہ کہیں۔

پانچویں پارے کی آخری آیت دیکھیں جو مَا یَفعَل اللہ سے شروع ہوتی ہے۔ ترجمہ کچھ یوں ہوا ہے،

’’اللہ کو کیا پڑی ہے کہ وہ تمہیں عذاب دے اگر تم شکر ادا کرو اور ایمان لے آو‘‘

اب بتائیں، نہ گناہوں کا ذکر نہ توبہ کا، شکر پہلے، ایمان بعد میں۔ یعنی کہ شکر ادا کرتے رہو تو ایمان کی توفیق مل جاتی ہے۔ ہر بات پر شکر کرو۔ بیوی پر نظر پڑے تو شکر، بچوں پر نظر پڑے تو شکر، نرم صوفے پر بیٹھیں تو شکر، گرم روٹی ملے تو شکر۔ ہر نعمت کا شکر بھی تو الگ ہے۔ آنکھ کا شکر، یہ کہ اس سے غلط چیز نہ دیکھیں۔ بھلا 3 گھنٹوں کی فلم کوئی کیسے دیکھے۔ یعٰنی پورے 3 گھنٹے اللہ کو یاد کیئے بغیر گزر جائیں، یہ تو بڑی غفلت ہے۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ غفلت بڑا عظیم گناہ ہے اورحضوری بڑی عظیم عبادت کہ اللہ یہاں میرے ساتھ موجود ہے۔

جیسے ہم پڑھاتے ہیں نا Mindfulness کہ اپنے آپ کو سمجھیں کہ آپ اِس وقت حال میں کیا کر رہے ہیں اور اُسے انجوائے کریں بالکل ایسے ہی اللہ کا خیال بھی رکھیں۔ اگر آپ دوستوں کے ساتھ کمرے میں بیٹھے ہوں اور آپ کے والد صاحب آجائیں تو بتائیں کیسے کوئی شرارت یا لغو بات ہو گی؟ اب سوچیں کہ اللہ بھی اِسی کمرے میں موجود ہیں۔ میرے ایک استاد کہتے ہیں کہ اللہ کی معرفت حرام ہے اُس شخص پر جس کی تنہائی پاک نہیں۔ تو بس مانگتے رہیں۔ کچھ نہ سمجھ آئے تو دو رکعت نماز تلاشِ گمشدہ پڑھ لیں۔ گناہ کا دل کرے تو اللہ سے کہہ دیں کہ تُو روک لے ورنہ میں تو گیا۔ روز رات کو چادر اُوڑھ کر اللہ سے موبائل کے نائٹ پیکجز کی طرح باتیں کریں۔ اُس کے ہونے کا احساس زندگی میں رونق بخش دیتا ہے۔ کوشش کریں کہ موقع اور نسبتوں کا خیال رکھیں۔ نسبتوں کی بے ادبی کرنے والوں کی زندگی سے برکت اُٹھ جاتی ہے اور پھر وہ دریا سے بھی پیاسے ہی لوٹتے ہیں۔ وہاں نیکی کریں جہاں کوئی بھی توقع نہ کر رہا ہو۔ وہاں دعا مانگیں جہاں کوئی نہ سوچے۔ وہاں گناہ سے رک جائیں جہاں لازمی ہو۔

دیکھیں گناہ کتنے کم جاتے ہیں حرمِ مکہ کی حدود میں، مسجد میں، رمضان میں۔ کیونکہ موسم نیکیوں کا ہوتا ہے۔ تو سوچیں کتنا ثواب ہو گا جب ہوا گناہوں کی چلی ہو۔ جو توڑے اُس سے جوڑیں۔ جو ذلیل کرے اُسے عزت دے دیں۔ جو ظلم کرے اُسے معاف کر دیں۔ عین غصّے کے وقت جب گالی زبان پر آنا چاہتی ہو، رک جائیں اور دعا دے دیں۔ عین وحشت کے وقت رک جائیں اور اللہ سے حلال میں برکت کی دعا کر دیں۔ عین بھوک کے وقت بھوکوں کا خیال کر لیں۔ عین خوشی کے وقت شکر بھی ادا کر دیں۔ موقع کی دعاَئیں اور نسبتوں کا خیال دعاؤں کے لئے بالکل ویسا ہی ہے جیسے طبیعاتی زندگی میں ٹائم ٹریول۔ یہ برکتوں سے بھر دیتا ہے۔ آئیے دعا مانگتے ہیں اِس یقین کے ساتھ کہ میرے اور اللہ میں صرف اُن دو ہاتھوں کا فاصلہ ہے جو اُس کے سامنے اٹھے ہوئے ہیں۔

’’اے مالکِ بحروبر، یا ذوالجلال والاکرام، اے برفانی جھرنوں کے پانی سے زیادہ پاک اللہ اُن پر کرم کر جو گناہوں کی کیچڑ میں ناپاک ہوئے۔ اے کائنات میں سب سے زیادہ چاہے جانے والی ذات اُن پر نظر کر جو دھتکارے گئے۔ اے سب سے زیادہ سمیع و بصیر اور پُکارے جانے والی ذات ہم پر رحم کر جو نظر انداز کئے گئے۔ جن کی سنی کوئی نہ گئی۔ جو در در ٹھکرائے گئے۔ اے سب سے زیادہ عزت والی مکرم ذات اُن کو معاف کردے جو ذلیل وخوار ہوئے۔ اے بلند و بالا، عالی مقام، شاندار اللہ انہیں بخش دے جو طعنوں، غیبتوں، جھوٹ، حسد کینہ و ظلم میں روند دئیے گئے۔

اے کروڑوں فرشتوں و مخلوقات کے خالق اللہ اُن سے راضی ہو جا، جنہیں اُن کے اپنے بھی چھوڑ گئے۔ جو اکیلے رہ گئے۔ اے پھل دار درختوں کے انداتا اُن پر رحم کر جن کے پاس کچھ نہ بچا۔ اے وقت کے خالق اللہ، اُن پر کرم جنہوں نے وقت کو ضائع کر دیا، عمر گنوا دی، کوئی کام نہ کیا۔ اے بے نیازوں کے بے نیاز اللہ، تُو کیا کرے گا مجھے عذاب دے کر، جتنے بھی ہیں سب گناہ معاف کر دے۔ اے مشکل کُشا، جیسے چاہے دے، جہاں سے چاہے دے۔ سن لے میری، اِس واسطے کہ تو اللہ ہے۔ تُو تو ربّ ہے میرا، انتَ مولٰنا! میں فقیر، میں عاجز، میں بندہ، میں کمزور، میں خطاکار، غلطی ہو گئی۔ بندہ تو تیرا ہی ہوں۔ تو اچھا معاملہ کر۔

اے اللہ! کوئی ایک قطرہ جو کسی پڑھنے والے کی آنکھ سے نکلا ہو، اُسی کے صدقے معاف کر دے۔ اسے معاف کر دے جس کے پاس پیش کرنے کو ایک نیکی بھی نہیں۔ میری عزت، میری جان، میری محبت، میرے کام سب تیرے صدقے۔ اب تو خالی ہوگیا، اب تو معاف کر دے!

بس ایسے ہی الٹی سیدھی، بچگانہ، ٹیڑھی میڑھی دعائیں مانگنے سے زندگی سیدھی ہوجاتی ہے۔

اللہ ہمیں دعا مانگنا سکھائے۔

آمین!.

ذیشان الحسن عثمانی

نماز آئینہ ہے

آپ نے کبھی آئینہ دیکھا ہے؟ وہ آپ کو آپ کی شکل دِکھاتا ہے، کپڑے دکھاتا ہے،
بتاتا ہے کہ آپ کتنے خوبصورت لگ رہے ہیں اور اگر کوئی داغ دھبہ کہیں لگا ہوا ہے تو وہ بھی۔ اب اگر آپ کے بال گردآلود ہیں، چہرے پر سیاہی ملی ہوئی ہے، کپڑے شکن آلود ہیں، جسم زخمی ہے، کانوں سے خون رِس رہا ہے، کالے لمبے دانت باہر نکلے ہوئے ہیں، آنکھیں لال و سیاہ ہو رہی ہیں تو آئینہ آپ کو یہ سب کچھ بھی دکھائے گا اور یقین جانیئے، اِس میں آئینے کا کوئی قصور نہیں۔ آپ جتنے چاہیں آئینے تبدیل کر لیں۔ صورتِ حال ویسی کی ویسی ہی رہے گی۔ اسی لئے ہم سب صبح نہا دھو کر تیار ہو کر، اچھے کپڑے پہن کر آئینہ دیکھنے کے عادی ہیں کہ سب کچھ اچھا اچھا ہی نظر آئے۔

نماز بھی ایک آئینہ ہی ہے باطن کا، آپ وضو کر کے دن میں پانچ بار اِس کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں، اور یہ آپ کو آپ کا باطن دِکھا دیتی ہے۔ اگر آپ کو نماز میں کوفت ہوتی ہے، دماغ منتشر رہتا ہے، گھبراہٹ ہوتی ہے، وحشت ہوتی ہے تو سمجھ جائیں کہ باطن کی حالت کیا ہے، اور یقین جانیئے کہ اِس میں نماز کا کوئی قصور نہیں ہے۔ جائے نماز بدل لینے سے، غسل کر لینے سے، مولوی صاحب یا مسجد تبدیل کرلینے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اب نماز جھوٹ تھوڑا ہی بولتی ہے، جیسے پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے بالکل ایسے ہی گناہ گناہ کو اور نیکی نیکی کو کھینچ لیتی ہے۔ آپ ایک نماز پڑھتے ہیں تو دوسری کی توفیق مل جاتی ہے اور ایک چھوڑ دیں تو اگلی چھوڑنی بھی آسان ہو جاتی ہے۔

نماز دن میں اعراب (punctuation marks) کی طرح آپ کو سہولت فراہم کرتی ہے کہ آپ اپنے 24 گھنٹوں کا پوسٹ مارٹم کر سکیں۔ نماز روزمرہ زندگی میں اللہ کی حضوری کی مقدار جانچنے کا ایک لٹِمس ٹیسٹ ہے۔ صبح کی نماز کا آئینہ آپ کو دکھاتا ہے کہ رات کیسی گزری۔ ہم ایسے گئے گزرے کہ رات کی سیاہی نہ دیکھنے کے لئے آئینے کے سامنے ہی نہیں جاتے اور سمجھتے ہیں کہ کوئی داغ کوئی دھبّہ ہی نہیں ہے۔ ظہر کی نماز کا آئینہ دکھاتا ہے کہ نوکری اور بزنس کے دوران احکاماتِ الہٰی کا کتنا خیال رکھا، عصر کی نماز کا آئینہ دن کہاں اور کیسے گزرا کا احوال بتاتا ہے، مغرب کا آئینہ خاندان اور نفس پر کی جانے والی محنت کا عکس دکھاتا ہے اور عشاء! کیا کہنے عشاء کے، آئینے میں عاشق کو اِس کا چہرہ دکھاتی ہے کہ محبت نور بن کر چہرے پر چمکے۔

آج میں نے کتنے پراڈکٹ بیچے، کتنے لوگوں سے میٹننگز کیں، بینک کے حساب سے لے کر ٹیکسوں کے گوشوارے تک، اور رات دیکھی جانے والی فلم سے لے کر موبائل فون کی پُر تکلف گفتگو تک، یہ سب کچھ ہی تو دورانِ نماز یاد آتا ہے۔ آئینے میں ان کو دیکھ کر عبرت پکڑنی چاہئیے۔ ہر وہ چیز جو آپ کی نماز کے حُسن کو خراب کر دے، حضوری کی لذت چھین لے، یقین جانیئے! اِس قابل ہی نہیں کہ اس کا ذکر کیا جائے۔ بات چل نکلی ہے، عشق کی تو سمجھ لینا چاہئیے کہ رتبے میں عاشق و معشوق کا کوئی موازنہ نہیں۔ عاشق تو معشوق کی صفات سے عشق کرتا ہے، یہ تو معشوق ہے جو عاشق کی ذات سے عشق کرتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ عاشق کو عشق کی سچائی صفات سے گزار کر ذات تک لے جائے اور ایک مقام وہ آئے کہ معشوق کی صفات عاشق میں جلوہ گر ہوں۔

 

آپ کو تو محبوب سے عشق اِس کی مسکراہٹ کی ملاحت، رخسار کی صباحت، قد کی آراستگی، گفتگو کی مٹھاس، غمزوں کا ناز و انداز، چاہ ذقن، پُر شکن گیسو، خمدار ابرو اور پُرشکوہ جوانی دیکھ کر ہوا۔ اِس نے کیا دیکھا آپ میں؟ یہ ہے اصل سوال۔ بالکل اسی طرح یہ تو اللہ کا کرم ہے کہ وہ آپ کو توفیق دے کہ آپ اِس کے سامنے سجدہ کرسکیں۔ نماز چھٹ جائے تو سوچنا ہی چاہئیے کہ زندگی میں ایسا کیا کیا کہ یہ توفیق بھی چِھن گئی؟ نماز میں کم از کم ایک بار اللہ کے سامنے حاضری کا خیال فرض ہے۔ اب اگر نماز میں بزنس و جاب کے مسائل ہی نظر آتے رہیں تو اپنے آپ پر بڑی محنت و توجہ کی ضرورت ہے، اور نماز کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آدمی جھوٹ نہیں بول پاتا۔ سوچتا ہی ہے کہ کیا کر رہا ہے، آپ جب ’’ایاک نعبد و ایاک نستعین‘‘ پر پہنچتے ہیں کہ اے اللہ! تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں تو دل کچوکے لگاتا ہے۔ روک دیتا ہے، اور ایک اور آیت سناتا ہے کہ ’’لم یقولون ما لا تفعلون‘‘ تم ایسی باتیں کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں۔ اور آدمی شش و پنج میں کھڑا وہ جاتا ہے کہ سورہِ فاتحہ پوری کیسے کرے؟

آئیے، نماز کے باطنی آئینے پر بھی توجہ کریں کہ کاش ہماری ظاہری خوبصورتی کا عکس باطن تک بھی پہنچے یا باطن اتنا منور ہوجائے کہ ظاہر بھی دُھل جائے۔

اللہ ہمیں نمازوں میں کھڑا ہونے کا شرف بخشیں۔

آمین!

ذیشان الحسن عثمانی

محبت رسول ﷺ اور اس کے عملی تقاضے

چند دِنوں پہلے میں اپنے چچا جان کے گھر گیا، تو انہوں نے کسی رنجش کی بنیاد پر میرے والد صاحب کو بُرا بھلا کہنا شروع کر دیا، میں نے اُنہیں سمجھانے کی کوشش کی مگر جب اُن کے منہ سے میرے والد محترم کیلئے نازیبا ترین کلمات نکلنا شروع ہوئے تو میری برداشت جواب دے گئی، وہ بڑے تھے، اِس لیے اُن کے احترام کے باعث خاموش رہا اور غم و غصے کے ساتھ افسردہ ہو کر وہاں سے چلا آیا اور قسم کھائی کہ آئندہ چچا جان کے گھر کا رُخ تک نہیں کروں گا۔ یہ میری محبت کا تقاضا تھا جو کہ مجھے میرے والد صاحب سے ہے۔ کل جب میں نے سوشل میڈیا پر شائع ہونے والے گستاخانہ مواد کے حوالے سے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے ریمارکس پڑھے تو یکدم میرے ذہن میں ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم تازہ ہو گیا۔ نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ،

’تم میں سے کوئی اُس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے آپ، مال و جان، عزت و آبرو، اپنے ماں، باپ، بہن، بھائی، اولاد یہاں تک کہ ہر رشتے سے زیادہ مجھ سے محبت نہ کرے‘۔

پھر اچانک حضور رحمتِ عالم ﷺ کیلئے صحابہ کرام علیہم الرضوان کا اندازِ تخاطب میرے صفحہ ذہن پر اُبھرا کہ وہ آپ ﷺ کی بارگاہِ عالیہ میں جب حاضر ہو کر کلام کیا کرتے تھے، تو اصل بات سے پہلے یہ کلمات ادا کیا کرتے تھے کہ،

’میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان یا رسول اللہ ﷺ!۔‘ پھر مجھے یوں محسوس ہوا کہ جیسے پورا قرآن، تمام احادیث، صحابہ و تابعین کا ایک ایک عمل عشقِ رسول ﷺ اور ادبِ رسول ﷺ میں ڈوبا ہوا ہو، جیسے ایمان و اسلام کی اصل اساس ہی ادبِ رسول ﷺ ہو۔ پھر مجھے اذانِ بلالی، صدقِ صدیقِ اکبر، عدلِ عُمر ابن الخطاب، شرم و حیائے عثمانِ غنی، شجاعتِ حیدرِ کرار، استقلالِ حسینی، غرض ہر چیز کے پیچھے عشق و ادبِ رسول ﷺ نظر آنے لگا۔

مجھے ’راعنا‘ کے رد میں اُترا ہوا اللہ جل جلالہ کا حکم ’قولو انظرنا‘ سمجھ میں آنے لگا کہ جب ابتدائے اسلام میں منافقین نے حضور علیہ الصلوة و السلام کو مخاطب کرنے کے لفظ ’راعنا‘ کو غلط استعمال کرنا شروع کیا تو اللہ عزوجل کی محبت نے گوارا نہ کیا، اور حکم صادر فرمایا کہ ’راعنا‘ کی بجائے ’انظرنا‘ بولا جائے مطلب ’میری طرف نظرِ کرم فرمایئے‘۔ پھر مجھے سورة الحجرات کا ایک ایک لفظ عشق و ادبِ رسول ﷺ میں ڈوبا ہوا نظر آنے لگا اور ساتھ ساتھ دوسری جانب سورة الہب کی صورت میں اللہ جل جلالہ کا غیض و غضب بھی نظر آنے لگا جو حضور ﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت کا واضح پیغام اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔

میں سوچنے لگا کہ اللہ عزوجل اور صحابہ کرام نے کبھی بھی حضور علیہ الصلوة والسلام کی عزت و حُرمت پر کسی بھی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہ کیا، اور ایک میں ہوں کہ جو اپنے والدِ محترم کے خلاف تو ایک لفظ سُننے کا روادار نہیں لیکن اُس عظیم المرتبت شخصیت جس کا ذکر بلند کرنے کا دعویٰ اللہ جل جلالہ نے قرآنِ پاک میں کیا، جس کی ہر ہر ادا پر اللہ عزوجل قرآن میں قسمیں اُٹھاتا ہے، اُس ذاتِ بابرکات کی عزت و ناموس پر جب بات آتی ہے اور سوشل میڈیا پر بدترین گستاخانہ مواد شائع ہوتا ہے تو میں کان دبائے ایک طرف ہوجاتا ہوں۔ چچا کے گھر کا رُخ نہ کرنے کی قسم کھاتے ہوئے شاید میں نے ایک لمحہ بھی نہ سوچا ہو لیکن سوشل میڈیا کا رُخ نہ کرنے کا سوچ کر مجھ پر غشی طاری ہونے لگتی ہے کہ میں نے اگر ایک دن فیس بُک استعمال نہ کیا اور اُس پر اپنی تصاویر پر آنے والے کمنٹس اور لائیکس نہ دیکھے تو میرا خُود ستائشی کا مارا ہوا نفس کیا کرے گا؟

نہیں نہیں جناب نہیں! مجھے ایسا سوشل میڈیا سِرے سے چاہیئے ہی نہیں۔ ہرگز ہرگز نہیں چاہیئے جو آزادی اظہارِ رائے کے نام پر میرے نبی پاک حضرت محمد مصطفی ﷺ کی شان میں ادنیٰ سی گستاخی کا بھی مرتکب ہو، چاہے وہ اشارتاً ہی کیوں نہ ہو۔ میرا ایمان فیس بُک یا سوشل میڈیا سے نہیں بلکہ عشقِ رسول اور ادبِ رسول ﷺ سے مکمل ہو گا اور اِس تکمیل کی خاطر میں سوشل میڈیا پر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ’چار حرف‘ بھیجنے کو تیار ہوں۔ میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے وزیرِ داخلہ کو اِس معاملے پر طلب کیا اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی تک کو بھی بند کرنے کی دھمکی دے ڈالی جو اب تک اس معاملے میں کچھ بھی کرنے سے قاصر ہے اور اُنہوں نے اِس گستاخی کو دہشت گردی قرار دیا۔

اِس کے ساتھ ساتھ مجھے دھرنے، لانگ مارچ، احتجاج، توڑ پھوڑ اور نعرے بازی کی سیاست کرنے والوں پر بھی حیرت ہے کہ وہ وجہِ تخلیقِ کائنات حضرت محمد مصطفی ﷺ کی شان میں اِس صریح گستاخی کے باوجود اب تک خاموش کیوں ہیں؟ حکومت پر کسی نے دباؤ کیوں نہیں ڈالا کہ وہ اِس قبیح و بدترین فعل میں ملوث افراد کو کیفرِ کردار تک پہنچائے؟ اور اِس کے ساتھ ساتھ ہم سب کو بھی اپنا اپنا مواخذہ کرتے ہوئے سوچنا ضرور چاہیئے کہ کیا واقعی ہمیں اپنے جان و مال، عزت و آبرو، ماں، باپ، بہن، بھائی اور سے زیادہ حضورِ رحمت ِعالم، نورِ مجسم ﷺ کی عزت و ناموس عزیز ہے؟ ایسے گستاخانہ پیجز اپنے ایڈمنز سمیت فی الفور بلاک ہونے چاہئیں، ورنہ ہمیں ایسا سوشل میڈیا ہی نہیں چاہیئے!

محمد حسان

رزق میں برکت کے دس اعمال

برکت وہ چیز ہے جس کی ضرورت ہوا اور پانی کی طرح ہر آدمی کو ہے۔ اس لیے کہ دنیا میں موجود ہر چیز اسباب راحت تو مہیا کر سکتی ہے، مگر راحت نہیں۔ دنیوی ترقی سے خوشی کے اسباب تو جمع کیے جا سکتے ہیں، مگر وہ اسباب، خوشی عطا کرنے سے قاصر ہیں۔ ان اسباب کی کثرت تو ہمارے اختیار میں ہے، مگر ایسی برکت جس سے ہر حاجت پوری ہو جائے، یا کم اسباب میں زیادہ کام ہو جائے، یہ صرف اللہ تعالی کے عطا کرنے سے ہی حاصل ہو گی۔

قرآن و حدیث سے دس ایسے اعمال پیش کیے جاتے ہیں، جن کو اختیار کرنے سے ان شاء اللہ ضرور برکت عطا ہو گی۔

٭… برکت کا مطلب دولت کی کثرت نہیں، بلکہ ’’کفایت ‘‘ ہے، یعنی ضرورت کے لیے کافی ہو جانا ٭… اے ابن آدم! میری عبادت میں منہمک رہو، میں تیرا دل غنا سے بھر دوں گا اورتمہاری محتاجی کا دروازہ بند کروں گا.

1 توبہ واستغفار

2 اللہ سے ڈرنا، گناہوں سے بچنا

3 عبادت میں انہماک

4 توکل علی اللہ

5 اللہ کے راستے میں خرچ کرنا

6 طالب علموں پر خرچ کرنا

7 رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک

8 کمزوروں کے ساتھ حسن سلوک

9 یکے بعد دیگرے حج وعمرہ کرنا

10 اللہ کے راستے میں ہجرت

توبہ واستغفار

قرآن پاک میں کئی مقامات پر توبہ واستغفار کے ذریعے رزق میں برکت اور دولت میں فراوانی کا ذکر ہے، حضرت نوح علیہ السلام کا قول نقل کیا گیا ہے:’’میں نے ان (قوم) سے کہا: اپنے رب سے معافی مانگو، بلاشبہ وہ بڑا بخشنے والا ہے، وہ تم پر خوب بارش برسائے گا، تمہیں مال واولاد کی فراوانی بخشے گا، تمہارے لیے باغ پیدا کرے گا اور نہریں جاری کرے گا۔‘‘ ( النوح، آیت:10،11)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص بکثرت استغفار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے ہر غم سے چھٹکارا اور ہر تنگی سے کشادگی عنایت فرماتے ہیں اور اسے ایسی راہوں سے رزق عطا فرماتے ہیں، جس کا اس کے وہم وگمان میں گزر تک نہیں ہوتا۔‘‘ (ابوداؤد: 1518)

توبہ واستغفار کی حقیقت یہ ہے کہ انسان گناہ کو گناہ سمجھ کر چھوڑ دے، اپنے کیے پر شرمندہ ہو، آئندہ ترکِ معصیت کا پختہ عزم کرے اور جہاں تک ممکن ہو اعمالِ خیر سے اس کا تدارک کرے۔ اگر اس گناہ کا تعلق حقوق العباد سے ہوتو اس کی توبہ کے لیے ایک شرط یہ بھی ہے کہ صاحب حق سے معاملہ صاف کرے۔ ان شرائط کے بغیر توبہ بے حقیقت ہے۔

اللہ سے ڈرنا، گناہوں سے بچنا

’’تقویٰ‘‘ اللہ کے احکام پر عمل اور شرعا ممنوع چیزوں سے اجتناب کا نام ہے۔ تقوی ان امور میں سے ایک ہے، جن سے رزق میں برکت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’جو اللہ سے ڈرے گا، اللہ اس کے لیے راہ نکال دے گا اور اس کو وہاں سے رزق دے گا، جہاں سے اس کو گمان بھی نہ ہو گا۔‘‘ (سورہ طلاق،آیت: 3،2)

دوسری جگہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقوی اختیار کرتے، تو ہم آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے ان پر کھول دیتے، لیکن انہوں نے جھٹلایا اس لیے ہم نے ان کی کمائی کی پاداش میں ان کو پکڑ لیا۔‘‘ (سورۃ الاعراف: 96)

برکت کا مطلب دولت کی کثرت نہیں، بلکہ ’’کفایت ‘‘ ہے، یعنی ضرورت کے کافی ہو جانا۔ بہت سے لوگ کثرت مال کے باوجود معاشی تنگی کا رونا روتے ہیں اور معاشی طور پر بہت سے بہ ظاہر درمیانے درجے کے لوگ انتہائی اطمینان سے زندگی گزارتے ہیں۔ یہ فرق صرف برکت کی وجہ سے ہے۔ عبادت میں انہماک اس سے مراد یہ ہے کہ عبادت کے دوران بندے کا دل اور جسم دونوں حاضر رہیں۔ اللہ کے حضور میں خشوع وخضوع کا پاس رکھے۔ اللہ کی عظمت ہمیشہ اس کے دل و دماغ میں حاضر رہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم! میری عبادت میں منہمک رہو، میں تیرا دل غنا سے بھر دوں گا اورتمہاری محتاجی کا دروازہ بند کروں گا، اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو تمہارے ہاتھوں کو کثرت مشاغل سے بھر دوں گا اور تمہاری محتاجی کا دروازہ بندہ نہیں کروں گا۔‘‘ ( ابن ماجہ،4107)

توکل علی اللہ

ارشاد باری ہے:’’جو اللہ پر بھروسہ کرے گا تو وہ اس کے لیے کافی ہو گا، اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے، اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ (وقت) مقرر کر رکھا ہے۔‘‘ (سورہ طلاق)

حضرت عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ اگر تم حسن وخوبی کے ساتھ اللہ پر توکل کرو، تو تمہیں اس طرح رزق دیا جائے گا جس طرح پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے ، وہ صبح کے وقت خالی پیٹ جاتے ہیں اور شام کے وقت آسودہ ہو کر لوٹتے ہیں۔ ‘‘ (مسنداحمد: 205)

توکل کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ کسبِ معاش کی تمام کوششوں کو ترک کر دیا جائے اورہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہا جائے۔ خود حدیث مذکور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پرندوں کی مثال پیش کی ہے کہ وہ تلاشِ رزق میں صبح سویرے نکل جاتے ہیں۔ پرندوں کا صبح سویرے اپنے آشیانوں سے نکلنا ہی ان کی کوشش ہے۔ ان کی انہیں کوششوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کو شام کے وقت آسودہ و سیراب واپس کرتے ہیں، لہٰذا اسباب کا اختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں ہے، بلکہ اسباب اختیار کرنا عین تقاضائے شریعت ہے۔

اللہ کے راستے میں خرچ کرنا

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’اور جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا اجر اس کے پیچھے آئے گا اور اللہ بہترین رازق ہے۔‘‘ (سورۃ سبا:39)

دوسری جگہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ’’شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور بے حیائی کے کاموں کی ترغیب دیتا ہے، مگر اللہ اپنی طرف سے مغفرت اور فضل (رزق میں کشادگی اور برکت) کا وعدہ کرتا ہے ، اللہ بڑی وسعت والا اور بڑا علم والا ہے۔‘‘ (البقرہ:268)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :اے ابن آدم! خرچ کر، میں تیرے اوپر خرچ کروں گا۔‘‘ ( ابن ماجہ)

طالب علموں پر خرچ کرنا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے منقول ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو بھائی تھے۔ ایک بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں علم ومعرفت حاصل کرنے آیا کرتا تھا اور دوسرا بھائی کسبِ معاش میں لگا ہوا تھا۔ بڑے بھائی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے بھائی کی شکایت کی کہ میرا بھائی کسبِ معاش میں میرا تعاون نہیں کرتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہو سکتا ہے کہ تمہیں اسی کی برکت سے رزق دیا جاتا ہو۔ (ترمذی)

رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جسے وسعت رزق اور لمبی عمر کی خواہش ہو، اسے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا چاہیے۔ (صحیح البخاری)

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے لمبی عمر، وسعتِ رزق اور بری موت سے چھٹکارا پانے کی خواہش ہو ، اسے اللہ سے ڈرنا چاہیے اور رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک (صلہ رحمی)کرنا چاہیے۔ ( مسنداحمد)

صلہ رحمی کا جامع مفہوم یہ ہے کہ حسب گنجائش رشتہ داروں کے ساتھ خیر خواہی اور بھلائی کا معاملہ کیا جائے اور شرور و فتن سے انہیں محفوظ رکھا جائے۔

کمزوروں کے ساتھ حسن سلوک

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بندوں کو ان کے کمزوروں کی وجہ سے رزق ملتا ہے اور ان کی مدد کی جاتی ہے۔ حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سعد نے دیکھا کہ انہیں دیگر لوگوں پر فضیلت حاصل ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’کمزوروں کے طفیل ہی تم کو رزق ملتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے۔‘‘ (بخاری)

حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم لوگ میری رضا اپنے کمزوروں کے اندر تلاش کرو، کیوں کہ تمہیں کمزوروں کی وجہ سے رزق ملتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے۔‘‘ (مسند احمد)

یکے بعد دیگرے حج وعمرہ کرنا

حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پے درپے حج وعمرہ کرو، کیوں کہ یہ فقر اور گناہوں کو اس طرح دور کر دیتے ہیں ، جس طرح بھٹی لوہے، سونے اور چاندی کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے اور حج مبرور ( مقبول) کا بدلہ صرف جنت ہے۔ (مسند احمد)

اللہ کے راستے میں ہجرت

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’ جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں بہت سے ٹھکانے اور بڑی وسعت پائے گا۔(النسائ) ہجرت دارالکفر(جہاں امورِ ایمان کی ادائیگی کی آزادی مسلوب ہو) سے دارالایمان کی طرف نکلنے کو کہتے ہیں۔ حقیقی ہجرت اس وقت ہو گی جب مہاجر کا ارادہ اللہ کا دین قائم کر کے اسے خوش کرنا ہو اور ظالم کافروں کے خلاف مسلمانوں کی مدد کرنی ہو ۔ اس قسم کی ہجرت تو مخصوص حالات میں کی جاتی ہے۔ تاہم ہجرت کی ایک اور صورت ہر وقت انسان کے لیے ضروری ہے۔ وہ گناہوں کی دنیا سے نیکیوں کے جہان کی طرف منتقل ہونا۔ اس ہجرت پر بھی ان شاء اللہ اللہ تعالیٰ ہمارے رزق میں کشادگی اور برکت عطا فرمائیں گے۔

یہ وہ دس اصول ہیں جن کے بارے میں قرآن وحدیث میں وضاحت ہے کہ ان سے بندہ کے رزق میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کی تنگی دور کر دی جاتی ہے ، لیکن انسان کو ہمیشہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اصل بے نیاز تو اللہ کی ذات ہے ۔ انسان کی بے نیازی یہ ہے کہ وہ اس غنی ذات کے سوا پوری دنیا سے بے نیاز ہو جائے اور یہ سمجھ لے کہ جو کچھ اسے ملے گا اس سے ملے گا ، غیر کے آگے ہاتھ پھیلانا بے کار ہے ۔ خدا کی رزاقیت وکار سازی کا یقین دلوں کو قناعت وطمانیت کی دولت سے مالا مال کرتا ہے۔ قانع شخص کسی کے زروجواہر پر نظر نہیں رکھتا، بلکہ اس کی نگاہ ہمیشہ پرورد گار عالم کی شان ربوبیت پر رہتی ہے۔

مال ودولت کی حرص کا خاتمہ نہیں ہوتا، اس لیے قناعت ضروری ہے، کیوں کہ یہی باعث سکون واطمینان ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ مالداری مال و اسباب کی کثرت کا نام نہیں، بلکہ اصل مالداری دل کی مالداری ہے۔ حضرت ابوذررضی اللہ عنہ راوی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ ’’ابو ذر! تمہارے خیال میں مال کی کثرت کا نام تو نگری ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا:جی ہاں! پھر فرمایا: تو تمہارے خیال میں مال کی قلت کا نام محتاجی ہے ؟ میں نے کہا:’’جی ہاں!‘‘آپﷺ نے فرمایا:’’استغنا دل کی بے نیازی ہے اور محتاجی دل کی محتاجی ہے۔ ( فتح الباری)